پاک فوج ہماری ریڈلائن، ایکشن کمیٹی کو مضبوط کرنے میں سیاسی جماعتیں شریک جرم ہیں، نبیلہ ایوب

اتوار 12 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) آزاد کشمیر کی سینیئر رہنما اور مرکزی ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات نبیلہ ایوب خان نے کہا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کو مضبوط کرنے میں سیاسی جماعتیں شریک جرم ہیں، لیکن ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پاک فوج ہماری ریڈلائن ہے، آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کو ایک نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا۔

’وی نیوز ایکسکلوسیو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مختلف جماعتوں کے مفادات نے ایسے حالات پیدا کیے جن سے عوامی ایکشن کمیٹی کو ایک مضبوط عوامی بیانیہ ملا، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی بھی اس معاملے میں پہلی مرتبہ شریکِ جرم تھی۔

مزید پڑھیں: ایکشن کمیٹی ہائی جیک ہوچکی، سرینڈر کرنے علاوہ اب کوئی آپشن نہیں، آزاد کشمیر حکومت

نبیلہ ایوب نے کہاکہ آزاد کشمیر میں ماضی میں ایسی کشیدگی، انتشار اور تصادم کی سیاست نہیں دیکھی گئی۔ کشمیر ہمیشہ پاکستان سے محبت اور وابستگی کی علامت رہا ہے، لیکن گزشتہ چند برسوں میں بعض ایسے واقعات سامنے آئے جنہوں نے ریاست کے سیاسی اور سماجی ماحول کو متاثر کیا۔

عوامی ایکشن کمیٹی کیسے مضبوط ہوئی؟

انہوں نے کہاکہ جب عوامی ایکشن کمیٹی سامنے آئی تو اس وقت پی ٹی آئی کے فارورڈ بلاک کے سربراہ انوارالحق کی حکومت قائم تھی، جس میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) بھی شریک تھیں۔

انہوں نے کہاکہ بجلی اور آٹے کے نرخوں کے معاملے پر بات کرنے سے ایکشن کمیٹی کو ایک مقبول بیانیہ مل گیا، جس کے باعث عام لوگ ان کے ساتھ مل گئے۔

’حکومت پاکستان نے مطالبات مان لیے جس سے ایکشن کمیٹی کو حوصلہ ملا‘

انہوں نے کہاکہ پاکستان نے آزاد کشمیر کی حساس آئینی اور جغرافیائی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات تسلیم کیے۔

انہوں نے واضح کیاکہ پاکستان پہلے ہی آزاد کشمیر کو انتہائی کم نرخوں پر بجلی فراہم کر رہا تھا، جبکہ بعد میں لگائے گئے بعض ٹیکس آزاد کشمیر کے اپنے ترقیاتی بجٹ اور دیگر اخراجات پر خرچ ہوتے تھے۔

انہوں نے کہاکہ آٹے کے معاملے میں بھی آزاد کشمیر کی اپنی کوئی پیداوار نہیں، اس کے باوجود حکومت پاکستان نے عوام کے مفاد کو دیکھتے ہوئے مطالبات مان لیے۔

ان کے مطابق حکومت پاکستان کے اس فیصلے کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی کو یہ احساس ہوا کہ اگر وہ متحد ہو کر دباؤ ڈالے گی تو اپنے مزید مطالبات منوا سکتی ہے، جس سے اس کی قوت میں اضافہ ہوا۔

’ہم پہلی بار شریکِ جرم تھے‘

نبیلہ ایوب خان نے اعتراف کیاکہ جب عوامی ایکشن کمیٹی پہلی مرتبہ سامنے آئی تو پاکستان پیپلز پارٹی بھی اس صورتحال میں شریکِ جرم تھی۔

انہوں نے کہاکہ اس وقت حکومت میں بیٹھے لوگ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ نہیں تھے، لیکن ان کے اپنے ووٹرز اور سپورٹرز بڑی تعداد میں احتجاج میں شریک تھے، اس لیے وہ اس حقیقت سے انکار نہیں کرتیں۔

’دوسری مرتبہ عوامی ایکشن کمیٹی کا ایجنڈا مختلف تھا‘

انہوں نے کہاکہ دوسری مرتبہ عوامی ایکشن کمیٹی بجلی یا آٹے کے مسئلے پر نہیں بلکہ احتجاج کے دوران درج مقدمات ختم کرانے، مقدمات واپس لینے، جاں بحق افراد کے مقدمات نمٹانے اور متاثرین کو معاوضہ دینے کے مطالبات کے ساتھ سامنے آئی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس موقع پر بھی لچک کا مظاہرہ کیا۔ پولیس اہلکاروں کے ورثا کو بھی معاوضہ دیا گیا اور عوامی ایکشن کمیٹی کے جاں بحق کارکنوں کو بھی اسی نوعیت کا معاوضہ فراہم کیا گیا۔

نبیلہ ایوب نے کہاکہ اس فیصلے کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی کو مزید یقین ہوگیا کہ وہ ہر معاملے میں حکومت سے اپنی بات منوا سکتی ہے، جس سے اس کی قوت اور اعتماد میں مزید اضافہ ہوا۔

’پیپلز پارٹی نے حکومت سنبھالی تو 38 میں سے 36 مطالبات مان لیے‘

نبیلہ ایوب خان نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے انتہائی مشکل حالات میں حکومت سنبھالی۔ حکومت سنبھالنے کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات میں سے 36 مطالبات تسلیم کر لیے گئے، لیکن اس کے باوجود احتجاج ختم نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے عوامی ایکشن کمیٹی کے ایک رہنما نے 9 جون کی کال سے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ اگر مہاجرین کی 12 نشستوں کا مطالبہ بھی مان لیا جائے تب بھی وہ ایک نئے انداز میں دوبارہ تحریک چلائیں گے۔

انہوں نے کہاکہ اس سے واضح ہوگیا کہ معاملہ صرف ایک مطالبے تک محدود نہیں تھا بلکہ آگے مزید ایشوز کھڑے کرنے کی منصوبہ بندی پہلے سے موجود تھی۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان اگر کشمیری عوام سے محبت کرتے ہوئے ہر ممکن تعاون کررہا ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ریاست کی رٹ یا قومی سلامتی سے متعلق ہر مطالبہ بھی تسلیم کر لیا جائے۔

’مہاجرین کی نشستیں ختم نہیں ہونی چاہییں، طریقہ انتخاب تبدیل ہونا چاہیے‘

نبیلہ ایوب خان نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ ریاستی اداروں اور ریاست کی رٹ کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور آئندہ بھی کھڑی رہے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ مہاجرین کی نشستیں ختم ہونے سے اگر کسی جماعت کو سب سے زیادہ سیاسی فائدہ پہنچ سکتا ہے تو وہ پاکستان پیپلز پارٹی ہے، لیکن اس کے باوجود پارٹی ان نشستوں کے خاتمے کی حامی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح ہے کہ مہاجرین کی نشستیں برقرار رہنی چاہییں، تاہم ان کے انتخاب کا طریقہ کار تبدیل ہونا چاہیے تاکہ شفافیت اور عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔

نبیلہ ایوب خان نے اس تاثر کو بھی مسترد کیاکہ پیپلز پارٹی ایک طرف عوامی ایکشن کمیٹی پر تنقید کرتی ہے اور دوسری جانب مہاجرین کی نشستیں ختم کرانے کے لیے اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاک فوج نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی محافظ ہے اور اگر فوج سرحدوں پر موجود نہ ہو تو آزاد کشمیر کا وجود بھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔

انہوں نے کہاکہ بیرون ممالک میں موجود کشمیریوں میں ایک طبقہ وہ ہے جو مختلف ویزوں یا سیاسی پناہ کی بنیاد پر بیرون ملک مقیم ہے اور وہ اس مسئلے کو طول دے کر اپنے ذاتی مفادات اور مستقبل کو محفوظ بنانا چاہتا ہے۔

5 اگست 2019 پر اتنی بڑی تحریک کیوں نہیں چلی؟

نبیلہ ایوب خان نے بیرون ملک مقیم کشمیریوں سے سوال کرتے ہوئے کہاکہ جب 5 اگست 2019 کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، کشمیریوں پر ظلم و ستم میں اضافہ ہوا، خواتین، بچوں اور نوجوانوں کو بدترین مظالم کا سامنا کرنا پڑا تو اس وقت اتنی بڑی تعداد میں احتجاج کیوں نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہاکہ یہ رویہ خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بعض عناصر مسئلہ کشمیر کے بجائے دوسرے مقاصد کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

’27 جولائی کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کامیاب ہوگی‘

آزاد کشمیر انتخابات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نبیلہ ایوب خان نے کہاکہ ماضی میں بھی وفاق میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہونے کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی ایک مضبوط سیاسی قوت ہے، حکومت بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے اور 27 جولائی کے انتخابات میں کامیابی بھی حاصل کرے گی۔

استحکام پاکستان پارٹی اور سابق وزیراعظم تنویر الیاس سے متعلق سوال پر نبیلہ ایوب خان نے کہاکہ تنویر الیاس ان کے لیے قابل احترام شخصیت ہیں، تاہم پاکستان پیپلز پارٹی چھوڑنے کی بنیادی وجہ ان کی یہ خواہش تھی کہ انہیں بیک وقت 3 نشستوں سے پارٹی ٹکٹ دیا جائے۔

’مقبوضہ کشمیر میں آج بھی ظلم و ستم جاری، آزاد کشمیر کا اس سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا‘

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے نبیلہ ایوب نے کہاکہ انہیں 2007 میں ایک کانفرنس کے سلسلے میں مقبوضہ کشمیر جانے کا موقع ملا تھا، جہاں انہوں نے اپنی آنکھوں سے وہاں کے حالات دیکھے۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہوٹل سے باہر نکلنا بھی انتہائی مشکل تھا، ہر طرف پابندیاں، خوف اور سخت نگرانی کا ماحول تھا، جبکہ آزادی سے سانس لینا بھی وہاں کے لوگوں کے لیے آسان نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض لوگ آزاد کشمیر کے حالات کا مقبوضہ کشمیر سے موازنہ کرتے ہیں، حالانکہ ایسا کرنا وہاں شہید ہونے والے کشمیریوں کی قربانیوں کے ساتھ غداری کے مترادف ہے۔

’پاکستان مخالف بیانیہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بھی نقصان پہنچاتا ہے‘

نبیلہ ایوب خان نے کہاکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے بعض اقدامات اور بیانات کا براہ راست اثر مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے کشمیریوں پر بھی پڑتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ بعض اوقات جوشِ خطابت میں لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے الفاظ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے لیے کتنے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب کچھ عناصر یہ کہتے ہیں کہ اگر انہیں ایک راستہ نہ ملا تو وہ دوسرا راستہ اختیار کریں گے، یا پھر پاکستان کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرتے ہیں، تو اس سے بھارت کے بیانیے کو تقویت ملتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کے عوام کی امید اور آزادی کی ضمانت ہے۔ اگر پاکستان مضبوط ہے تو آزاد کشمیر بھی محفوظ ہے، اس لیے ریاستی اداروں خصوصاً پاک فوج کے خلاف زبان استعمال کرنا کسی بھی صورت درست نہیں۔

’عورتوں اور بچوں کو ڈھال بنانا درست نہیں، انتخابات ہر صورت وقت پر ہونے چاہییں‘

راولاکوٹ کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے نبیلہ ایوب خان نے کہا کہ انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے، اس لیے کسی بھی صورتحال میں انتخابی عمل نہیں رکنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوری عمل کا تسلسل برقرار رکھنا ضروری ہے اور تمام سیاسی قوتوں کو اس کا احترام کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: ایکشن کمیٹی ہائی جیک ہوچکی، سرینڈر کرنے علاوہ اب کوئی آپشن نہیں، آزاد کشمیر حکومت

انہوں نے کہا کہ احتجاج کے دوران عورتوں اور بچوں کو آگے بٹھا کر انہیں ڈھال کے طور پر استعمال کرنا مناسب طرز عمل نہیں۔

’اسمبلی کا حجم کم نہیں، مزید بڑھایا جانا چاہیے‘

مہاجرین کی نشستوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے نبیلہ ایوب خان نے کہا کہ ان کے نزدیک اسمبلی کی نشستیں کم کرنے کے بجائے مزید بڑھائی جانی چاہییں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سیلاب سے خراب گندم نیلام کرنے کی تجویز، نقصان ایس پی وی کو منتقل کرنے کی سفارش

کالعدم ایکشن کمیٹی کی ہر دھونس اور انتشار کا جواب دیا جائےگا، حکومت آزاد کشمیر، تعلیمی اداروں کے لیے انتباہ

مولانا فضل الرحمان کا بیان غیر ذمہ دارانہ، شہدا کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے : فیصل کریم کنڈی

ورلڈ کپ کے آخری مرحلے میں امریکا کے میزبان شہروں میں معاشی سرگرمیاں تیز، شائقین کی آمد سے کاروبار چمک اٹھا

آزاد کشمیر انتخابات: ضابطہ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد کرانے کا فیصلہ، تمام ادارے کردار ادا کریں، چیف الیکشن کمشنر

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم