بھارت میں مودی حکومت کی پیٹرول میں ایتھانول کی آمیزش بڑھانے کی پالیسی شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اسے کرپشن، مفادات کے ٹکراؤ اور عوامی مفادات کے خلاف قرار دیا ہے، جبکہ گاڑی مالکان نے زیادہ ایتھانول والے ایندھن سے انجن کی کارکردگی متاثر ہونے اور نقصان کے خدشات پر تشویش ظاہر کی ہے۔
بھارت میں نریندر مودی حکومت کی جانب سے پیٹرول میں ایتھانول کی آمیزش 20 فیصد تک بڑھانے کے منصوبے پر کرپشن، مفادات کے ٹکراؤ اور ایندھن کے معیار سے متعلق سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں، صارفین اور ماہرین نے اس پالیسی کے مختلف پہلوؤں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
Modi Govt Defends Ethanol Push: Invokes Energy Security, Farmers And Henry Ford | Explained https://t.co/IioLGJ7vWF
— Vinod Bhandari (@VinodBh87402638) July 12, 2026
مودی حکومت نے 2022 میں قومی بایو فیول پالیسی میں ترمیم کرتے ہوئے پیٹرول میں 20 فیصد ایتھانول کی آمیزش کا ہدف 2030 کے بجائے 26-2025 تک حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے خام تیل کی درآمدات میں کمی آئے گی اور گنا و اناج پیدا کرنے والے کسانوں کو فائدہ پہنچے گا۔
تاہم بھارتی الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے گوشواروں کے مطابق مرکزی وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڈکری کے صاحبزادے نکھل گڈکری، سی آئی اے این ایگرو انڈسٹریز اینڈ انفراسٹرکچر لمیٹڈ کے چیئرمین ہیں، جو ایتھانول ڈسٹلریز چلاتی ہے۔ کمپنی کے مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق 2024 سے 2025 کے دوران اس کی آمدنی اور منافع میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔
نتن گڈکری نے مفادات کے ٹکراؤ کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خاندان کا حصہ بھارت کی مجموعی ایتھانول پیداوار کا نصف فیصد سے بھی کم ہے، تاہم کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے اس وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے مدھیہ پردیش کو کرپشن کا مرکز قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:مودی کی ایک اور سبکی، خصوصی ایوارڈ کے سرٹیفکیٹ میں شرمناک غلطیاں سامنے آگئیں
اسی دوران مدھیہ پردیش میں تحقیقات کے دوران سرکاری سبسڈی والے چاول ایتھانول پلانٹس تک پہنچانے کے بجائے نجی رائس ملوں کو منتقل کرنے کا مبینہ اسکینڈل بھی سامنے آیا۔ حکام کے مطابق لاکھوں ٹن چاول کی غیر قانونی منتقلی سے اربوں بھارتی روپے کا نقصان ہوا، جبکہ پولیس نے اس سلسلے میں متعدد افراد کو گرفتار اور 18 نجی رائس ملوں کو سیل کر دیا۔
دوسری جانب آٹو موبائل ماہرین اور صارفین نے زیادہ ایتھانول والے ایندھن کے استعمال پر بھی خدشات ظاہر کیے ہیں۔ آٹوموٹیو ریسرچ ایسوسی ایشن آف انڈیا کے مطابق ایتھانول میں توانائی کی مقدار عام پیٹرول سے کم ہونے کے باعث فیول ایفیشنسی میں 2 سے 6 فیصد تک کمی آ سکتی ہے، جبکہ صارفین کا دعویٰ ہے کہ پرانی گاڑیوں میں یہ کمی 30 فیصد تک پہنچ رہی ہے۔

بھارت میں 2023 سے پہلے رجسٹر ہونے والی 20 کروڑ سے زائد گاڑیاں ای-20 فیول کے مطابق تیار نہیں کی گئیں۔ کئی بڑی گاڑی ساز کمپنیوں نے پہلے اپنی ہدایات میں 10 فیصد سے زیادہ ایتھانول والے ایندھن کے استعمال سے گریز کا مشورہ دیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے حکومتی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے ای-20 ایندھن کو محفوظ قرار دیا۔
اپوزیشن جماعتوں اور صارفین کی تنظیموں نے حکومت سے ایتھانول پالیسی کے نفاذ، اس کے مالی فوائد اور صارفین پر پڑنے والے اثرات کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ حکومت اسے ملک کی توانائی کی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے اپنے فیصلے کا دفاع کر رہی ہے۔














