پشاور: گریڈ 18 کے سرکاری افسر کی مبینہ خودکشی، جائیداد کا تنازع ممکنہ وجہ قرار

پیر 13 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حیات آباد میں گریڈ 18 کے ایک سرکاری افسر کی مبینہ خودکشی کے واقعے کی پولیس مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے۔

پولیس کے مطابق واقعے کا روزنامچہ تھانہ تاتارا میں درج کرلیا گیا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق متوفی عاصم جاوید نے مبینہ طور پر گھر میں اپنے سر پر گولی مار کر خودکشی کی۔

مزید پڑھیں:کے آر ایل اسپتال میں لیبارٹری ٹیکنیشن کی خودکشی، تحقیقات جاری

پولیس کا کہنا ہے کہ اہلِخانہ کے مطابق عاصم جاوید کا اپنے رشتہ داروں کے ساتھ جائیداد کا تنازع چل رہا تھا اور وہ ان تنازعات سے پریشان تھے، جس کے باعث انہوں نے مبینہ طور پر یہ انتہائی قدم اٹھایا۔

پولیس کے مطابق واقعے کے تمام پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مقدمہ درج کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں:میرپورخاص: میڈیکل طالبہ کی مبینہ خودکشی، پی ایم ڈی سی کا اظہارِ تشویش

پولیس نے بتایا کہ متوفی محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ (پی اینڈ ڈی) میں گریڈ 18 کے افسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ مبینہ خودکشی کا یہ واقعہ 10 جولائی کو پیش آیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘