پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے میرپورخاص میں تیسرے سال کی ایک میڈیکل طالبہ کی مبینہ خودکشی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
محمد میڈیکل کالج کی 21 سالہ طالبہ 8 اور 9 اپریل کی درمیانی شب مبینہ طور پر اپنی زندگی کا خاتمہ کر بیٹھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ طالبہ کو موت سے قبل ایک استاد اور ساتھی طلبہ کی جانب سے ہراسانی کا سامنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: میرپورخاص: میڈیکل طالبہ کی خودکشی، ہراسانی کے الزامات پر انکوائری کا حکم
پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج نے جاری بیان میں واقعے کی مذمت کرتے ہوئے خاص طور پر ہراسانی کے سنگین الزامات پر تشویش ظاہر کی۔
انہوں نے اس واقعے کو انتہائی افسوسناک حالات میں قیمتی جان کا ضیاع قرار دیتے ہوئے سندھ حکومت کی جانب سے تحقیقات کی حمایت کی۔
انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں تمام پہلوؤں کا مکمل جائزہ لیا جائے اور تفصیلات پی ایم ڈی سی کو فراہم کی جائیں تاکہ مزید کارروائی کی جا سکے۔
Karachi, April 9:
Sindh Minister for Home Law and Parliamentary affairs Zia-ul-Hassan Lanjar has taken strict notice of the tragic suicide of a medical student in Mirpurkhas and has sought a detailed report from the DIG Mirpurkhas.
According to spokesperson, the minister… pic.twitter.com/Wm1BAqJUiC
— Home & Law Department, Govt of Sindh (@HomeSindh) April 9, 2026
پی ایم ڈی سی نے واضح کیا کہ ہراسانی کے حوالے سے اس کی پالیسی ‘عدم برداشت’ پر مبنی ہے، اور گزشتہ برس ملک بھر کے میڈیکل و ڈینٹل کالجز کواینٹی ہراسمنٹ کمیٹیاں بنانے کی ہدایت کی گئی تھی۔
ڈاکٹر رضوان تاج کے مطابق ان کمیٹیوں کا مقصد شکایات کا ازالہ اور طلبہ و طبی برادری کی ذہنی صحت کا تحفظ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی ادارے میں شکایت کا ازالہ نہ ہو تو طلبہ براہِ راست پی ایم ڈی سی ہراسمنٹ کمیٹی سے رجوع کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایف آئی اے کمپوزٹ سرکل میرپور خاص کی بڑی کارروائی، بی آئی ایس پی فنڈز میں خردبرد کرنے والا گروہ گرفتار
بیان میں کہا گیا کہ ان ہدایات پر عملدرآمد نہ کرنا پی ایم ڈی سی کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی غفلت پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
ادارے کو ہدایت دی گئی ہے کہ واقعے کی مکمل تفصیلات، تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ اور اصلاحی اقدامات پی ایم ڈی سی کو فراہم کیے جائیں، جس کے بعد ذمہ داران کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
پی ایم ڈی سی نے مرحومہ کے اہلِ خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ملک بھر کے طبی اداروں پر زور دیا کہ وہ اخلاقی معیارات اور ضابطہ جاتی ہدایات پر سختی سے عمل کریں تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
مزید پڑھیں: میرپور خاص: بجلی چوروں کے خلاف کریک ڈاؤن، 5 حیسکو اہلکاروں سمیت 6 ملزمان گرفتار
واضح رہے کہ سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے واقعے کی شفاف، غیر جانبدار اور مکمل تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کو ہراساں کرنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
انہوں نے ڈی آئی جی میرپورخاص کو 10 روز کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔













