میسی کے گول سے 45 برس بعد کھلنے والا سفارتخانہ

پیر 13 جولائی 2026
author image

مشکور علی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ڈھاکا کی سڑکوں پر رات ڈھل چکی تھی، مگر شہر جاگ رہا تھا۔ آسمان نیلے اور سفید رنگوں سے سجا تھا۔ ہر طرف ارجنٹینا کے پرچم لہرا رہے تھے۔ نوجوان موٹر سائیکلوں پر نعرے لگا رہے تھے، بچے میسی کی 10 نمبر جرسی پہنے رقص کر رہے تھے، گھروں کی چھتوں سے آتش بازی ہو رہی تھی اور گلیوں میں ایسا شور تھا جیسے بنگلہ دیش نے خود فیفا ورلڈکپ جیت لیا ہو۔

مگر حقیقت اس کے برعکس تھی۔ یہ جشن جنوبی ایشیا کے کسی ملک کی کامیابی کا نہیں تھا، بلکہ ہزاروں کلومیٹر دور جنوبی امریکا میں واقع ارجنٹینا کی فتح کا تھا۔

یہ منظر صرف ایک رات کا نہیں تھا۔ گزشتہ 4 دہائیوں سے ہر فیفا ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش اسی طرح ارجنٹینا کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ دنیا حیران رہ جاتی ہے کہ آخر ایسا کیا رشتہ ہے جس نے کبھی آمنے سامنے نہ آنے والی 2 قوموں کو ایک دوسرے کے اتنا قریب کردیا؟ اس سوال کا جواب صرف فٹبال نہیں۔

یہ محبت، ثقافت، تاریخ، عوامی جذبات اور جدید سفارتکاری کی ایسی کہانی ہے جس نے آخرکار دونوں ممالک کے سرکاری تعلقات کا رخ بھی بدل دیا۔

جب 2022 کے فیفا ورلڈ کپ میں لیونل میسی (Lionel Messi) کی قیادت میں ارجنٹینا عالمی چیمپیئن بنا تو ڈھاکا کی تصاویر پوری دنیا میں وائرل ہوگئیں۔ لاکھوں بنگلہ دیشی ارجنٹینا کے جھنڈوں میں لپٹے جشن منا رہے تھے۔ خود ارجنٹائن کے عوام بھی حیران تھے کہ دنیا کے دوسرے کنارے پر ایک ایسا ملک موجود ہے جہاں لوگ ان کی قومی ٹیم سے شاید خود ان سے بھی زیادہ جذباتی وابستگی رکھتے ہیں۔

یہی وہ لمحہ تھا جب فٹبال میدان سے نکل کر سفارتکاری کے ایوانوں تک جا پہنچی۔

صرف چند ماہ بعد ارجنٹینا نے ایک تاریخی فیصلہ کیا۔ قریباً 45 برس بعد ڈھاکا میں اپنا سفارتخانہ دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا۔ سفارتی حلقوں نے اسے محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ اسپورٹس ڈپلومیسی اور سافٹ پاور کی ایک غیرمعمولی مثال قرار دیا، جہاں عوام کے دلوں نے وہ راستہ کھول دیا جو برسوں کی روایتی سفارتکاری نہ کھول سکی۔

یہ سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ آخر بنگلہ دیشی نوجوان ارجنٹینا سے اتنی محبت کیوں کرتے ہیں؟ کیوں ڈھاکا کی گلیوں میں ہر 4 سال بعد آسمانی نیلے اور سفید رنگ کے جھنڈے لہرانے لگتے ہیں؟ کیوں ایک غیرملکی فٹبال ٹیم وہاں قومی جذبات کی علامت بن جاتی ہے؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا واقعی ایک فٹبال میچ 2 ممالک کے تعلقات بدل سکتا ہے؟

ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں قریباً 40 برس پیچھے جانا ہوگا، اُس زمانے میں جب ایک گھنگریالے بالوں والا نوجوان دنیا کو اپنے بائیں پاؤں کے جادو سے مسحور کر رہا تھا، اور بنگلہ دیش کے لاکھوں دل پہلی بار ارجنٹینا کے ساتھ دھڑکنے لگے تھے۔

کبھی کبھی تاریخ کسی معاہدے سے نہیں، ایک لمحے سے بدلتی ہے۔ فٹبال کی تاریخ میں ایسا ہی ایک لمحہ 22 جون 1986 کو آیا، جب میکسیکو سٹی کے ازٹیکا اسٹیڈیم میں ایک مختصر قد، گھنگریالے بالوں والا نوجوان گیند کو اپنے قدموں سے ایسے باندھ کر لے گیا جیسے وہ چمڑے کی نہیں، اس کے وجود کا حصہ ہو۔ 5 انگلش کھلاڑی اس کے پیچھے بھاگتے رہے، مگر کوئی اسے روک نہ سکا۔ چند سیکنڈ بعد گیند جال میں تھی اور دنیا ایک ایسے گول کی گواہ بن چکی تھی جسے آج بھی ’صدی کا عظیم ترین گول‘ کہا جاتا ہے۔

اس نوجوان کا نام ڈیاگو میراڈونا (Diego Maradona) تھا۔

اسی میچ میں اُس کا دوسرا گول، جسے بعد میں ’ہینڈ آف گاڈ‘ کا نام دیا گیا، جتنا متنازع بنا، اس سے کہیں زیادہ اس کا دوسرا شاہکار لوگوں کے دلوں میں گھر کرگیا۔ ارجنٹینا نے وہ ورلڈ کپ جیتا، مگر اس کامیابی کی بازگشت صرف بیونس آئرس تک محدود نہ رہی۔ ہزاروں کلومیٹر دور، دریاؤں اور ڈیلٹا کی سرزمین بنگلہ دیش میں بھی ایک خاموش انقلاب جنم لے رہا تھا۔

یہ وہ دور تھا جب بنگلہ دیش میں ٹیلی وژن کی رسائی بڑھ رہی تھی۔ ورلڈ کپ پہلی بار لاکھوں گھروں تک پہنچا، اور نوجوانوں نے ایک ایسے کھلاڑی کو دیکھا جو جسمانی طاقت سے نہیں بلکہ مہارت، تخلیقی صلاحیت اور غیرمعمولی ذہانت سے دیو قامت حریفوں کو شکست دیتا تھا۔ بہت سے بنگلہ دیشیوں نے خود کو اس کہانی میں دیکھا۔ ایک نسبتاً کم وسائل رکھنے والے ملک کے عوام کو محسوس ہوا کہ جس طرح میراڈونا بڑے بڑے دفاعی حصار توڑ سکتا ہے، ویسے ہی عزم اور صلاحیت ہر رکاوٹ کو عبور کر سکتے ہیں۔

یہ محض ایک کھلاڑی کی مقبولیت نہیں تھی، یہ ایک جذباتی وابستگی میں ڈھلتی جا رہی تھی۔ 1986 کے بعد بنگلہ دیش کی گلیوں میں ارجنٹینا کے جھنڈے نظر آنے لگے۔ محلوں میں بچے خود کو ’میراڈونا‘ کہلوانے لگے۔ گھروں میں ورلڈکپ کے میچ اجتماعی طور پر دیکھے جانے لگے، اور ہر 4 سال بعد ایسا لگتا جیسے بنگلہ دیش کا ایک حصہ چند ہفتوں کے لیے ارجنٹینا بن جاتا ہو۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس محبت کے پیچھے کوئی سرکاری مہم، ثقافتی پروگرام یا سفارتی منصوبہ نہیں تھا۔ نہ ارجنٹینا نے کبھی اس جذبے کو پیدا کرنے کی کوشش کی، نہ بنگلہ دیش نے کوئی حکومتی پالیسی بنائی۔ یہ تعلق مکمل طور پر عوام کے دلوں میں پیدا ہوا، اور شاید اسی لیے زیادہ مضبوط ثابت ہوا۔

وقت گزرتا گیا، میراڈونا نے فٹبال کو خیرباد کہا، پھر دنیا سے بھی رخصت ہوگئے، مگر بنگلہ دیش میں ارجنٹینا کے لیے محبت ختم نہ ہوئی۔ ایک نسل نے یہ جذبہ اگلی نسل کے حوالے کر دیا، جیسے کوئی قیمتی ورثہ منتقل کیا جاتا ہے۔ پھر قسمت نے ارجنٹینا کو ایک اور نابغۂ روزگار عطا کیا۔ اس کا نام لیونل میسی (Lionel Messi) تھا۔

میسی نے اپنے کھیل سے ایک نئی نسل کو مسحور کیا، مگر بنگلہ دیش میں اس نے صرف مداح نہیں پائے، بلکہ میراڈونا کی چھوڑی ہوئی محبت کو ایک نئی زندگی دے دی۔ 2014 کے ورلڈ کپ فائنل کی شکست پر ڈھاکا بھی سوگوار دکھائی دیا، اور 2022 میں جب میسی نے بالآخر ورلڈکپ کی ٹرافی اٹھائی تو ایسا لگا جیسے یہ خواب صرف ارجنٹینا کا نہیں، بنگلہ دیش کے کروڑوں دلوں کو بھی تعبیر ملی ہو۔

دنیا نے پہلی بار حیرت سے دیکھا کہ ایک جنوبی ایشیائی ملک میں غیرملکی قومی ٹیم کی جیت پر ایسا جشن منایا جا رہا ہے جو بعض اوقات خود ارجنٹینا کے شہروں سے بھی زیادہ پرجوش دکھائی دیتا تھا۔ اور شاید اسی لمحے فٹبال نے ایک نئی زبان اختیار کی، سفارتکاری کی زبان۔

18 دسمبر 2022 کی وہ رات صرف ارجنٹینا کی تاریخ نہیں بدل رہی تھی، بلکہ سفارتکاری کی ایک نئی داستان بھی لکھ رہی تھی۔ میسی نے جب قطر کے لوسیل اسٹیڈیم (Lusail Stadium) میں ورلڈکپ ٹرافی کو دونوں ہاتھوں سے بلند کیا تو خوشی صرف بیونس آئرس، روزاریو یا کوردوبا تک محدود نہ رہی۔ دنیا کے دوسرے کنارے پر واقع ڈھاکا بھی جشن کی روشنیوں میں نہا گیا۔

شاہراہیں انسانی سمندر میں بدل گئیں۔ نوجوان ارجنٹینا کے پرچم اوڑھے ناچ رہے تھے، بچے ’میسی ۔ ۔ ۔ میسی‘ کے نعرے لگا رہے تھے، آتشبازی سے آسمان جگمگا اٹھا تھا اور ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے جنوبی ایشیا کا یہ ملک خود عالمی چیمپیئن بن گیا ہو۔

یہ مناظر چند گھنٹوں میں پوری دنیا کے ٹیلی وژن چینلز، اخبارات اور سوشل میڈیا پر پھیل گئے۔ بیونس آئرس کے لوگ بھی حیران تھے۔ یہ کون لوگ ہیں؟ یہ ہمارے لیے اتنا کیوں رو رہے ہیں؟ یہ ہماری جیت پر اس قدر خوش کیوں ہیں؟

ارجنٹینا کے معروف صحافیوں، کھلاڑیوں اور سیاستدانوں نے پہلی بار سنجیدگی سے بنگلہ دیش کا ذکر کرنا شروع کیا۔ خود ارجنٹینا کی وزارتِ خارجہ نے اس غیرمعمولی عوامی محبت کو سراہا، جبکہ سوشل میڈیا پر دونوں ملکوں کے شہری ایک دوسرے کے لیے محبت بھرے پیغامات لکھنے لگے۔ یوں محسوس ہوا جیسے ہزاروں میل کا فاصلہ اچانک سمٹ گیا ہو۔ یہاں ایک دلچسپ حقیقت بھی سامنے آئی۔

ارجنٹینا نے پہلی بار 1974 میں ڈھاکا میں اپنا سفارتخانہ قائم کیا تھا جو معاشی وجوہات کی بنا پر 1978 میں بند کردیا گیا تھا۔ قریباً نصف صدی تک دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات محدود رہے، حالانکہ اقوامِ متحدہ سمیت مختلف عالمی فورمز پر دونوں ممالک ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے تھے۔

مگر پھر وہی ہوا جسے بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین ’سافٹ پاور‘ کہتے ہیں۔ یہ طاقت نہ میزائلوں سے پیدا ہوتی ہے، نہ معاشی پابندیوں سے، نہ فوجی اتحادوں سے۔ یہ دل جیتنے سے پیدا ہوتی ہے۔ اور بنگلہ دیش نے دل جیت لیے تھے۔

فیفا ورلڈکپ 2022 میں بنگلہ دیش کے عوام کی غیرمعمولی حمایت کے بعد 9 فروری 2023 کو ارجنٹینا نے اعلان کیا کہ وہ 45 برس بعد ڈھاکا میں اپنا سفارتخانہ دوبارہ کھول رہا ہے۔ یہ صرف ایک سفارتی دفتر کی بحالی نہیں تھی بلکہ اس اعتراف کی علامت تھی کہ عوامی محبت کبھی کبھی وہ دروازے بھی کھول دیتی ہے جو برسوں کی روایتی سفارتکاری نہیں کھول پاتی۔

ارجنٹینا نے 45 برس بعد 27 فروری 2023 کو بنگلہ دیش میں اپنا سفارتخانہ باضابطہ طور پر دوبارہ کھولا۔ افتتاح ارجنٹینا کے وزیر خارجہ سانتیاگو کافیرو نے ڈھاکا میں بنگلہ دیش کے وزیر مملکت برائے خارجہ شہریار عالم کے ساتھ مل کر کیا۔

پھر دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح رابطے بڑھے، تجارتی امکانات پر بات چیت شروع ہوئی، کھیل، ثقافت اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون کے نئے دروازے کھلے، اور ایک ایسا رشتہ مضبوط ہونے لگا جس کی بنیاد نہ کسی معاہدے پر تھی، نہ کسی فوجی اتحاد پر، بلکہ صرف عوامی جذبات پر۔

بین الاقوامی تعلقات کی دنیا میں ایسی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔ اکثر سفارتخانے سیاسی مفادات، دفاعی ضروریات یا معاشی فوائد کی بنیاد پر کھلتے ہیں، مگر شاید یہ دنیا کی منفرد مثالوں میں سے ایک ہے جہاں ایک فٹبال ٹیم سے عوامی محبت نے سفارتی تعلقات کو نئی زندگی عطا کی۔

یہ وہ لمحہ تھا جب فٹبال نے ثابت کیا کہ وہ صرف 90 منٹ کا کھیل نہیں، بلکہ قوموں کے درمیان ایک ایسی زبان بھی ہے جسے ترجمے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اور شاید اسی لیے آج جب ڈھاکا کی کسی گلی میں ارجنٹینا کا پرچم لہراتا ہے تو وہ صرف ایک ٹیم کی حمایت نہیں کرتا، بلکہ 2 قوموں کے درمیان قائم ہونے والے ایک غیرمرئی مگر مضبوط رشتے کی علامت بن جاتا ہے۔

جب کھیل سرحدوں سے بڑے ہو جاتے ہیں

سیاست اکثر دیواریں کھڑی کرتی ہے، مگر کھیل کئی بار انہی دیواروں میں دروازے کھول دیتے ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ بعض اوقات وہ کام، جو برسوں کی سفارتکاری نہیں کر پاتی، ایک مقابلہ، ایک کھلاڑی یا ایک گیند کر دکھاتی ہے۔ اسی لیے دنیا کی بڑی جامعات میں آج ’اسپورٹس ڈپلومیسی‘ باقاعدہ ایک علمی موضوع بن چکا ہے، کیونکہ کھیل صرف تمغوں اور ٹرافیوں تک محدود نہیں رہتے، بلکہ قوموں کے درمیان اعتماد، احترام اور تعلقات کے نئے راستے بھی ہموار کرتے ہیں۔

اس کی سب سے مشہور مثال 1971 کی ’پنگ پانگ ڈپلومیسی‘ ہے۔ اس زمانے میں امریکا اور چین 2 دہائیوں سے ایک دوسرے سے قریباً کٹے ہوئے تھے۔ مگر ایک ٹیبل ٹینس ٹیم کے دورۂ چین نے برف پگھلانا شروع کی۔ چند ماہ بعد امریکی قومی سلامتی کے مشیر ہینری کسنجر نے خفیہ طور پر بیجنگ کا دورہ کیا، اور پھر رچرڈ نکسن کی تاریخی چین یاترا نے عالمی سیاست کا نقشہ بدل دیا۔ ایک چھوٹی سی گیند نے 2 سپر پاورز کے درمیان مکالمے کی راہ ہموار کر دی۔

اسی طرح 1995 میں جنوبی افریقہ میں ہونے والا رگبی ورلڈکپ کھیل سے کہیں بڑھ کر قومی مفاہمت کی علامت بن گیا۔ نسل پرستی کے خاتمے کے بعد صدر نیلسن منڈیلا نے سفید فام اکثریت کی پسندیدہ رگبی ٹیم کی جرسی پہن کر میدان میں قدم رکھا۔ اس ایک منظر نے برسوں کی نفرت پر مرہم رکھنے کا کام کیا اور دنیا نے دیکھا کہ کھیل زخم بھی بھر سکتے ہیں۔

جنوبی ایشیا بھی اس حقیقت سے ناواقف نہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی مواقع پر کرکٹ کو کشیدگی کم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ کبھی سربراہانِ مملکت ایک ساتھ میچ دیکھنے پہنچے، کبھی کرکٹ نے سفارتی رابطوں کی بحالی کا ذریعہ بننے کی کوشش کی۔ اگرچہ یہ کوششیں ہمیشہ دیرپا ثابت نہ ہو سکیں، لیکن انہوں نے یہ ضرور ثابت کیا کہ کھیل بات چیت کا دروازہ کھول سکتے ہیں۔ لیکن بنگلہ دیش اور ارجنٹینا کی کہانی ان تمام مثالوں سے ایک لحاظ سے مختلف ہے۔

یہاں نہ کوئی سیاسی حکمت عملی تھی، نہ کوئی سفارتی منصوبہ، نہ کسی حکومت نے عوام کو ارجنٹینا کا مداح بننے کی ترغیب دی۔ یہ رشتہ مکمل طور پر دلوں میں پیدا ہوا۔ لاکھوں عام لوگوں نے ایک ٹیم سے محبت کی، اس محبت کو نسل در نسل منتقل کیا، اور پھر یہی جذبہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کا نیا باب بن گیا۔

یہ دراصل ’پبلک ڈپلومیسی‘ کی وہ صورت ہے جس میں حکومتیں نہیں بلکہ عوام خود سفیر بن جاتے ہیں۔ بنگلہ دیش کے نوجوانوں نے ارجنٹینا کا پرچم اٹھایا، سوشل میڈیا پر اپنی محبت کا اظہار کیا، اور ان کے یہی جذبات بیونس آئرس تک پہنچے۔ وہاں لوگوں نے محسوس کیا کہ دنیا کے ایک دور افتادہ خطے میں ایک ایسی قوم موجود ہے جو ان کی خوشیوں کو اپنی خوشیاں سمجھتی ہے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب جذبات، سفارتکاری میں ڈھل گئے۔

شاید اسی لیے آج بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین بنگلہ دیش اور ارجنٹینا کے تعلقات کو ’سافٹ پاور‘ کی ایک نئی اور منفرد مثال قرار دیتے ہیں۔ یہاں کوئی تجارتی معاہدہ بنیاد نہیں بنا، کوئی دفاعی اتحاد محرک نہیں تھا، بلکہ ایک فٹبال ٹیم سے بے لوث محبت نے وہ کام کر دکھایا جو سرکاری فائلیں اور سفارتی مراسلے برسوں میں نہ کر سکے۔

اور شاید یہی کھیل کی اصل طاقت ہے۔ وہ انسانوں کو ان کی زبان، نسل، مذہب، جغرافیے اور سیاست سے اوپر اٹھا کر صرف ایک جذبے میں جوڑ دیتا ہے۔ اسی لیے کبھی ٹیبل ٹینس کی گیند عالمی سیاست بدل دیتی ہے، کبھی ایک رگبی جرسی قومی مفاہمت کی علامت بن جاتی ہے، اور کبھی ایک فٹبال ۔ ۔ ۔ 45 برس سے بند سفارتخانے کے دروازے دوبارہ کھلوا دیتا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خیبرپختونخوا حکومت کا اراکین اسمبلی کے لیے متنازع مراعات واپس لینے کا اعلان، ’ایک ہفتے میں تمام ترامیم واپس لیں گے‘

چین نے پاکستانی مکئی کی درآمدات کے لیے اپنی منڈی کھول دی، ملک میں قیمت کنڑول رکھنے کے لیے کیا ضروری ہے؟

آئی فون کے نئے نظام میں بچوں کے تحفظ کے لیے بڑے اقدامات، والدین کو مزید اختیارات مل جائیں گے

آئرلینڈ اور انگلینڈ سے شکست: بھارتی ٹی 20 ٹیم کی مسلسل ناکامیوں کی اصل وجہ کیا ہے؟

حکومت پاکستانی فلموں اور ڈراموں کو نیٹ فلکس پر جگہ دلانے کے لیے سرگرم

ویڈیو

وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ، کون سے نئے چہرے شامل ہونے جا رہے ہیں؟

سولر پینلز کی قیمتوں میں کمی، کیا صارفین کو واقعی ریلیف ملا ؟

آزاد کشمیر میں ن لیگ حکومت بنانے جارہی ہے، وزیراعظم کا فیصلہ نواز شریف کریں گے، محمد حنیف ملک

کالم / تجزیہ

برداشت کی بھی حد ہوتی ہے

اونٹ کے جسم پر گل کاری کا آرٹ

کیا آپ اپنے دماغ کو پھر سے جوان کر سکتے ہیں؟