کیا آپ اپنے دماغ کو پھر سے جوان کر سکتے ہیں؟

ہفتہ 11 جولائی 2026
author image

عامر خاکوانی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

میں نےلا کی ڈگری لی ہےمگر اس سے پہلے ڈبل میتھ فزکس کے ساتھ بی ایس سی کر رکھی ہے۔ یہ عجیب سا کمبی نیشن لگے گا، ڈبل میتھ کے ساتھ گرایجوایشن، پھر ایل ایل بی جبکہ اس کے بعد ٹریک بدل کر 30 سال صحافت میں گزار دیے، مگر جو ہے، سو ہے۔

میرا زبانی میتھ خاصا اچھا رہا ہے، آج بھی جب ہم گراسری لینے جائیں تو جب سبزی والا حساب کتاب کرے تو اہلیہ محترمہ خاکسار ہی کو زحمت دیتی ہیں۔ سبزی والا کیلکولیٹر پر حساب لگا رہا ہو تو میں ساتھ ساتھ ذہنی طور پر جمع تفریق کرتا جاتا ہوں۔ کئی سبزی فروش اس پر رشک بھری حیرت سے بھی دیکھتے ہیں۔ تب دل میں فوراً ماشاء الله لا قوتہ الا باللہ اور الحمدللہ پڑھتا ہوں کہ یہ سب توفیق اسی کی ہے۔

میرا چھوٹا بیٹا عبداللہ بھی ایسی کیلکولیشن میں خاصا تیز ہے۔ ہم اس کے بچپن ہی سے ایک کھیل کھیلا کرتے تھے جس میں تیز رفتار جمع تفریق کرنی ہوتی۔ جیسے 173 اور 91 کتنے ہوتے ہیں، 37 اور 87 کو جمع کرو اور پھر 17 مائنس کرو۔ 2،3 سیکنڈز میں جواب دینا ہوتا۔

پتا نہیں اس کا فائدہ ہوتا ہے یا نہیں مگر مجھے لگتا ہے کہ ایسی مشقوں سے دماغ کی پراسیسنگ کچھ تیز ہوجاتی ہے۔

البتہ کچھ عرصے سے مجھے یوں لگ رہا ہے جیسے یہ سب کچھ سست سا ہوگیا ہو۔ اگلے دن گھر میں ایک بچے نے اچانک ہی کیلکولیشن والا سوال پوچھ لیا۔ عام حالات میں یہ سوال میرے لیے کوئی مشکل نہ تھا مگر اُس لمحے ذہن ایک پل کو جیسے جام ہوگیا۔

نمبر آپس میں گڈ مڈ ہوتے رہے اور جواب زبان پر آتے آتے رہ گیا۔ بات صرف اُس ایک سوال کی نہیں تھی۔ کچھ عرصے سے یہ احساس ستا رہا ہے کہ دماغ پہلے جیسی پھرتی سے کام نہیں کر رہا۔ ایک عمومی سستی، ایک ہلکا سا دھند۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی حکومت ایک فلم سےکیوں خوفزدہ ہوگئی؟

اسی وجہ سے گزشتہ رات سائنسی نیوز اور فیچرز شائع کرنے والے معروف برطانوی ویکلی میگزین نیو سائنٹسٹ کی کور اسٹوری برین ہیلتھ پر دیکھی تو دلچسپی سے پڑھنے بیٹھ گیا۔ یہ کئی صفحات پر مشتمل تحریر صحافی ہیلن تھامسن کی ہے، جو دماغ پر لکھتی بھی ہیں اور اپنے دماغ کو صحت مند رکھنے کے لیے عملی کوششیں بھی کرتی ہیں۔ اچھا کھانا، ورزش، حتیٰ کہ موسیقی کے بعض ساز بجانا بھی سیکھا۔

مسئلہ یہ ہے کہ پیٹ کی بڑھتی چربی یا ہائی بلڈ پریشر  کے برعکس دماغ کی صحت کو جانچنا آسان نہیں کیونکہ یہ ایک مضبوط موٹی کھال والی کھوپڑی کے اندر چھپا بیٹھا ہے۔ سو ہیلن نے ٹھان لی کہ دیکھیں تو سہی، اِس وقت جو طریقے موجود ہیں، ان میں سے کون سا واقعی کام کا ہے۔ آئیے، اُن کے اس سفر میں ہم بھی شریک ہوجاتے ہیں، کیونکہ یہ سوال کسی نہ کسی عمر میں ہم سب کے سامنے آنا ہے۔

سب سے پہلے انہوں نے اپنی جینیاتی رپورٹ دیکھی۔ معلوم ہوا کہ ان میں ایک ایسا جین موجود ہے جو الزائمر کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔ الارمنگ بات ہے مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ جینز خطرے کی نشاندہی ضرور کرتے ہیں، تقدیر کا حتمی فیصلہ نہیں سناتے۔ اسی لیے برطانیہ اور امریکہ کی الزائمر تنظیمیں عام لوگوں کو ایسے ٹیسٹ کرانے کی سفارش نہیں کرتیں۔ طرزِ زندگی یعنی لائف اسٹائل اب بھی بہت اہم ہے۔

اس کے بعد برین اسکین کی باری آئی۔ سننے میں لگتا ہے کہ وقفے وقفے سے اسکین کرانا بڑی احتیاط کی بات ہوگی، مگر ماہرین اس سے متفق نہیں۔ بعض اوقات اسکین میں ایسی معمولی چیزیں سامنے آجاتی ہیں جو بے ضرر ہوتی ہیں، مگر پھر مزید ٹیسٹ، اخراجات اور غیر ضروری پریشانیوں کا سبب بن جاتی ہیں۔ اسی لیے صحت مند افراد کے لیے معمول کے برین اسکین کو بہت مفید حکمتِ عملی نہیں سمجھا جاتا۔

 بلڈ ٹیسٹ بعض وٹامنز یا تھائرائیڈ کے مسائل ضرور پکڑ لیتے ہیں اور کچھ جدید ٹیسٹ بیماری کے ابتدائی آثار کا سراغ لگانے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں، مگر ہیلن کا سوال مختلف تھا۔ انہیں بیماری تلاش نہیں کرنی تھی، صرف یہ جاننا تھا کہ ان کا دماغ اچھی حالت میں ہے یا نہیں۔ یہیں سے کہانی دلچسپ موڑ لیتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس سوال کا کچھ جواب شاید ہماری کلائی پر بندھی اسمارٹ واچ میں پہلے ہی موجود ہو۔ آج کل کی اسمارٹ واچ نیند، سرگرمی اور دل کی دھڑکن جیسے پیمانے ناپتی ہے اور یہی چیزیں دماغی صحت کے بارے میں بھی اہم اشارے دیتی ہیں۔

نیند دماغ کی صحت کی کلید ہے لہٰذا نیند سے آغاز کیجیے۔ جدید تحقیق بتاتی ہے کہ نیند محض تھکن اتارنے کا نام نہیں بلکہ وہ وقت ہے جب دماغ اپنا کچرا صاف کرتا ہے، وہی نقصان دہ فضلہ جو الزائمر جیسے امراض سے جوڑا جاتا ہے۔ خراب نیند اس صفائی کے نظام کو متاثر کرتی ہے۔

ایک اور دلچسپ پیمانہ دل کی دھڑکنوں کے درمیان وقفوں کا فرق ہے جسے ہارٹ ریٹ ویری ایبلٹی کہا جاتا ہے۔ اس کا کم ہونا تناؤ، افسردگی اور دماغی زوال کے بڑھتے خطرے سے جوڑا گیا ہے۔ ہیلن خود مانتی ہیں کہ ان کا یہ پیمانہ ہمیشہ کم رہتا ہے، یعنی وہ خاصے دباؤ میں زندگی گزارتی ہیں۔ اب وہ اسے اپنے لیے ایک اشارہ سمجھتی ہیں کہ خود پر ذرا نرمی کریں اور تناؤ کم کریں۔

اصل خزانہ مگر اُس تحقیق میں چھپا ہے جو کیلیفورنیا کی نیورو سائنسدان کرسٹِن گلوریوسو نے کی۔ ان کے خاندان میں الزائمر کی تاریخ موجود تھی۔ انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے دریافت کیا کہ ہر انسان کے دماغ کی دو عمریں ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو شناختی کارڈ پر لکھی ہے اور دوسری حیاتیاتی عمر(بائیالوجیکل ایج)، جو دماغی خلیوں کی کیفیت سے ظاہر ہوتی ہے۔

مزید پڑھیے: بھارتی آبی دہشتگردی کا پاکستان کیسے جواب دے؟

کسی کا دماغ اپنی اصل عمر سے زیادہ بوڑھا نکلتا ہے اور کسی کا زیادہ جوان۔ جن لوگوں کا دماغ اپنی عمر سے بوڑھا تھا، ان میں ذہنی زوال کا خطرہ زیادہ پایا گیا۔

یہاں وہ بات آتی ہے جو میں چاہتا ہوں کہ آپ گرہ سے باندھ لیں۔ سائنسدانوں نے پایا کہ اگر کسی کا دماغ اس کی اصل عمر سے صرف 5 سال جوان ہو، تو یہ اُس خطرناک جین کے اثر کو زائل کر دیتا ہے۔ یعنی قدرت نے اگر ایک طرف خطرے کا امکان رکھا ہے تو وہ اچھی طرزِ زندگی سے ٹالا جا سکتا ہے۔

یہ کوئی معمولی خبر نہیں۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ ادھیڑ عمر میں بھی،  دماغ کی گھڑی کو پیچھے موڑا جا سکتا ہے۔

اب اگلا سوال یہ ہے کہ ایسا کس طرح کیا جائے؟

اس پر پڑھتے ہوئے ٹیکساس کی محقق لوری کُک کا جملہ مجھے اچھا لگا۔ وہ کہتی ہیں کہ دماغی صحت کا مطلب صرف زوال کو روکنا نہیں، بلکہ یہ پوچھنا ہے کہ میں اگلے سال کو اپنا بہترین دماغی سال کیسے بناؤں؟

سنہ 2024 کی ایک لمبی چوڑی ریسرچ نے تو یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ  ڈیمنشیا(نسیان یا بھول جانے کی بیماری) کے تقریباً نصف کیس ایسے ہیں جو چودہ مختلف فیکٹرز پر قابو پا کر ٹالے جا سکتے ہیں۔ یہ سب ہمارے اپنے اختیار میں ہیں۔ تمباکو نوشی، ذیابیطس(شوگر)، بلندفشارِ خون(ہائی بلڈ پریشر)، سست جسم اور لوگوں سے کم ملنا جلنا وغیرہ ، یہ سب اُسی فہرست میں ہیں۔

ریسرچر لوری کُک کے منصوبے کے ابتدائی نتائج بھی دلچسپ اور سبق آموز ہیں۔

اچھی نیند ذہن کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند نکلی۔ دوسروں کے ساتھ ہمدردی دماغ پر مثبت اثر ڈالتی ہے اور جسے ہم آج کل فخر سے ملٹی ٹاسکنگ کہتے ہیں، یعنی بیک وقت کئی کام، وہ دماغ کے لیے زہر ثابت ہوئی۔ ان کے بقول ایک کام سے دوسرے کی طرف مسلسل چھلانگیں لگانا دائمی تناؤ پیدا کرتا ہے جو اعصاب کو تھکا دیتا ہے۔

ہماری خواتین کو اس جانب توجہ دینی چاہیے۔ وہ چاہتی ہیں کہ فون پر باتیں بھی کرتی رہیں، گھر کے کام بھی ساتھ ساتھ نمٹا لیں، لگے ہاتھوں خاوند کو گھوریاں بھی ڈالتی رہیں۔ یہ سب کام کریں مگر باری باری۔ خاوند غریب نے کون سا کہیں بھاگ جانا ہے، اسی گھر میں وہ آپ کے زیرتسلط ہی رہے گا۔ خیر اب اس میں کوئی گائنی فیمنزم کو نہ گھسیٹ لائے، ازراہ تفنن یہ کہا۔ مرد بھی کم ملٹی ٹاسکنگ نہیں کرتے۔ یہ غلط رجحان ہے۔ ایک وقت میں ایک کام نمٹائیں، فوکس بھی بہتر رہے گا اور دماغ بھی کم تھکےگا۔

تو صاحبو ساری کھوج کا نچوڑ کیا نکلا؟ یہ کہ آج کی تاریخ میں دماغی صحت ناپنے کا کوئی ایک جادوئی ٹیسٹ موجود نہیں مگر چند سادہ چیزیں ہمارے اپنے ہاتھ میں ہیں۔

گہری اور باقاعدہ نیند، اسٹریس (تناؤ) میں کمی اور خود سے  نرمی، باقاعدہ ورزش اور صاف ستھری متوازن خوراک، مسلسل کچھ نیا سیکھتے رہنا، اور سب سے بڑھ کر لوگوں سے جڑے رہنا۔ یہی سادہ سی عادتیں دماغ کی عمر کو جوان رکھتی ہیں۔

خاکسار کو اِس ساری تحقیق میں سب سے خوبصورت بات یہ لگی کہ ہمارا دماغ کوئی مہربند مقدر نہیں، جس پر لکیریں کھنچ چکی ہوں۔ یہ ایک باغ کی مانند ہے، جسے جس عمر میں چاہیں سنوارنا شروع کر دیں، پھول کھلنے لگتے ہیں۔

ہم عمر بھر یہ فکر کرتے رہتے ہیں کہ چہرے پر جھریاں نہ آئیں، بال سفید نہ ہوں، مگر اُس دماغ کی طرف کم ہی دھیان دیتے ہیں جو اِن سب کا آقا ہے۔

مزید پڑھیں: آدھا گھنٹہ صبح، آدھا گھنٹہ شام

سو اگلی بار جب آپ کا بچہ آپ سے کسی لمبے چوڑے حساب کتاب کا زبانی فوری جواب مانگے تو گھبرائیے مت۔ بس اپنے آپ سے یہ ضرور پوچھیے کہ کیا آپ اپنے دماغ کے ساتھ وہی نرمی، وہی محبت اور وہی توجہ برت رہے ہیں، جو آپ اپنے جسم کے باقی حصوں کے لیے روا رکھتے ہیں؟

یہ بھی یقین رکھیں کہ ہم تھوڑی سی توجہ سے،اپنے دماغ کو جسم سے 5،10 سال جوان رکھ سکتےہیں۔ تب ڈیمنشیا، الزائمر اور اسی طرح کے کئی دیگر پریشان کن امراض سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ فیصلہ اب آپ کو کرنا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خیبرپختونخوا حکومت کا اراکین اسمبلی کے لیے متنازع مراعات واپس لینے کا اعلان، ’ایک ہفتے میں تمام ترامیم واپس لیں گے‘

چین نے پاکستانی مکئی کی درآمدات کے لیے اپنی منڈی کھول دی، ملک میں قیمت کنڑول رکھنے کے لیے کیا ضروری ہے؟

آئی فون کے نئے نظام میں بچوں کے تحفظ کے لیے بڑے اقدامات، والدین کو مزید اختیارات مل جائیں گے

آئرلینڈ اور انگلینڈ سے شکست: بھارتی ٹی 20 ٹیم کی مسلسل ناکامیوں کی اصل وجہ کیا ہے؟

حکومت پاکستانی فلموں اور ڈراموں کو نیٹ فلکس پر جگہ دلانے کے لیے سرگرم

ویڈیو

وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ، کون سے نئے چہرے شامل ہونے جا رہے ہیں؟

سولر پینلز کی قیمتوں میں کمی، کیا صارفین کو واقعی ریلیف ملا ؟

آزاد کشمیر میں ن لیگ حکومت بنانے جارہی ہے، وزیراعظم کا فیصلہ نواز شریف کریں گے، محمد حنیف ملک

کالم / تجزیہ

برداشت کی بھی حد ہوتی ہے

میسی کے گول سے 45 برس بعد کھلنے والا سفارتخانہ

اونٹ کے جسم پر گل کاری کا آرٹ