بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں اسکول ایجوکیشن، صحت اور سماجی بہبود کی وزیر سکینہ ایتو کو بھی پیر کے روز مزارِ شہداء پر حاضری دے کر خراجِ عقیدت پیش کرنے سے روک دیا گیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سکینہ ایتو نے بتایا کہ وہ 13 جولائی 1931ء کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے سرینگر کے نقشبند صاحب میں واقع مزارِ شہداء پہنچیں۔
یہ بھی پڑھیں: سرینگر میں 13 جولائی کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے پر پابندیاں سخت، مزارِ شہداء سیل
تاہم یومِ شہدائے کشمیر کے موقع پر بھارتی فورسز کی بھاری نفری کی تعیناتی اور قبرستان کے گرد خار دار تاروں کی وسیع رکاوٹوں کے باعث انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
I tried to visit the Mazar-e-Shuhada at 4:30 AM today to pay my humble tributes to our martyrs of 13th July. However, due to the heavy deployment of security forces and extensive barbed-wire barricading around the graves, I was prevented from entering. I was accompanied by the… pic.twitter.com/8ca75MSHRX
— Sakina Itoo (@sakinaitoo) July 12, 2026
سکینہ ایتو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں بتایا کہ وہ آج صبح ساڑھے چار بجے 13 جولائی کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے مزارِ شہداء جانا چاہتی تھیں۔
مزید پڑھیں: یومِ شہدائے کشمیر: صدر اور وزیراعظم کا 22 شہدائے 1931 کو خراجِ عقیدت، حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ
’۔۔۔ لیکن بھارتی فورسز کی بھاری تعیناتی اور خار دار تاروں کی رکاوٹوں کے باعث مجھے اندر جانے سے روک دیا گیا۔‘
اس موقع پر جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس یعنی جے کے این سی کی ویمن ونگ کی صوبائی صدر انجینئر سبیہ قادری بھی ان کے ہمراہ موجود تھیں۔














