سابق سیکریٹری خارجہ اور معروف سفارت کار اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے باوجود امن کا عمل ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، کیونکہ فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار ہیں۔ ان کے مطابق مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) مکمل امن معاہدہ نہیں بلکہ ایک جزوی انتظام تھا، جس کے بعد کئی مراحل پر مشتمل مذاکرات ہونا تھے۔
’وی نیوز‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جنگ سے قبل اصل تنازع ایران کے جوہری پروگرام اور حکومت کی تبدیلی کے گرد گھومتا تھا، تاہم اب آبنائے ہرمز سب سے اہم مسئلہ بن چکی ہے۔
مزید پڑھیں: یورپی یونین کی امریکا ایران معاہدے کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف
انہوں نے کہاکہ ایران آبنائے ہرمز کو اپنی قومی سلامتی اور جنگ کے دوران حاصل ہونے والی تزویراتی برتری کا اہم جزو سمجھتا ہے، جبکہ امریکا اسے ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ قرار دے کر وہاں آزادیٔ جہاز رانی کے اصول پر زور دے رہا ہے۔ ان کے بقول دونوں ممالک کے اس بنیادی اختلاف نے امن مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کھڑی کردی ہے۔
’ایران کی سفارتی کامیابیاں عسکری کارروائیوں سے متاثر ہوں گی‘
اعزاز چوہدری نے کہاکہ جنگ کے بعد ایران کو دو بڑی کامیابیاں حاصل ہوئیں، ایک یہ کہ امریکا اور اسرائیل اپنے بنیادی اہداف حاصل نہ کر سکے، جبکہ دوسری یہ کہ مفاہمتی یادداشت مجموعی طور پر ایران کے لیے نسبتاً بہتر ثابت ہوئی۔
ان کے مطابق اس دوران امریکا اور اسرائیل کے درمیان عوامی سطح پر فاصلے بھی پیدا ہوئے اور خلیجی ریاستوں نے بھی امریکی سلامتی کی ضمانت پر سوال اٹھانا شروع کیا، تاہم آبنائے ہرمز میں ایران کی حالیہ عسکری سرگرمیوں نے صورتحال کو تبدیل کرنا شروع کردیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ اس حکمت عملی سے امریکا اور اسرائیل دوبارہ قریب آ رہے ہیں، خلیجی ممالک بھی محتاط ہوگئے ہیں اور تیل کی عالمی ترسیل متاثر ہونے کے باعث دیگر ممالک بھی تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔
اعزاز چوہدری نے کہاکہ دنیا کے ہر ملک میں طاقت کے مختلف مراکز ہوتے ہیں، تاہم جب کوئی ملک خود کو حالت جنگ میں سمجھتا ہے تو ادارے عمومی طور پر متحد ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پاسداران انقلاب یقیناً یہ سمجھتے ہوں گے کہ حالیہ جنگ میں کامیابی ان کی عسکری حکمت عملی کا نتیجہ ہے، اسی لیے وہ آبنائے ہرمز میں ایران کا اثرورسوخ مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں، جبکہ سیاسی قیادت ممکنہ طور پر سفارت کاری اور امن کے عمل کو جاری رکھنے میں زیادہ فائدہ دیکھتی ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک طویل جنگ نہیں چاہتے، جس کے باعث ثالثی کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔
مکمل جنگ نہیں بلکہ ’منجمد تنازع‘
سابق سیکریٹری خارجہ نے کہاکہ موجودہ صورتحال مکمل جنگ نہیں بلکہ ایک ’منجمد تنازع‘ کی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں وقتاً فوقتاً کشیدگی میں اضافہ ہوتا رہے گا، تاہم دونوں ممالک طویل جنگ سے گریز کریں گے۔
انہوں نے کہاکہ امریکا اپنی داخلی سیاسی وجوہات کی بنا پر نئی طویل جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا، جبکہ ایران بھی مزید معاشی نقصان نہیں چاہے گا۔ ان کے مطابق اسی لیے پاکستان اور قطر جیسے ثالثی کرنے والے ممالک کے لیے اب بھی اہم کردار موجود ہے۔
بھارت کی عسکری ناکامی کے بعد پراکسی جنگ
اعزاز چوہدری نے کہاکہ بھارت کو پاکستان کے خلاف حالیہ عسکری محاذ پر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے، جس کے بعد اس نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے افغانستان کے راستے پراکسی دہشتگردی کا سہارا لیا۔
ان کے مطابق ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کے ذریعے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
’دہشتگردی کا مقابلہ صرف طاقت سے نہیں، سیاسی عمل بھی ضروری ہے‘
انہوں نے کہاکہ پاکستان کو دہشتگردی کے خلاف دو محاذوں پر بیک وقت کام کرنا ہوگا۔ ایک طرف دہشتگردوں کے خلاف فیصلہ کن عسکری کارروائیاں ضروری ہیں، جبکہ دوسری جانب سیاسی عمل، عوامی شکایات کے ازالے اور مقامی آبادی کو ریاست کے قریب لانے پر بھی توجہ دینا ہوگی۔
’اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں‘
انہوں نے زور دیا کہ مضبوط مقامی حکومتیں ہی عوامی مسائل کا مؤثر حل فراہم کر سکتی ہیں۔ ان کے مطابق وسائل اور اختیارات کو تحصیل اور ضلع کی سطح تک منتقل کیا جائے تاکہ لوگوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے بڑے شہروں کے چکر نہ لگانے پڑیں۔
انہوں نے کہاکہ مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے سے مرکز کے خلاف پائی جانے والی شکایات بھی کم ہوں گی اور بیرونی قوتوں کے لیے عوام میں اپنا اثر بڑھانا بھی مشکل ہو جائےگا۔
’بھارت کا کردار بے نقاب کرنا ضروری، مگر داخلی کمزوریاں بھی دور کرنا ہوں گی‘
اعزاز چوہدری نے کہاکہ اب اس بات میں کسی شک کی گنجائش نہیں کہ بھارت کئی برسوں سے بلوچستان سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ یورپی یونین کی ’ڈس انفو لیب‘ سمیت مختلف عالمی رپورٹس بھی اس کی نشاندہی کر چکی ہیں۔
ان کے مطابق بھارت کا مقصد سی پیک اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کو متاثر کرنا ہے، تاہم پاکستان کو صرف بیرونی سازشوں کا ذکر کرنے کے بجائے اپنی داخلی کمزوریوں کو بھی دور کرنا ہوگا۔
’احتجاج جمہوری حق، مگر بیرونی ایجنڈا ناقابل قبول‘
اعزاز چوہدری نے کہاکہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، تاہم اگر کوئی تحریک بیرونی قوتوں کے اشاروں پر قومی وحدت یا ریاستی مفادات کے خلاف استعمال ہونے لگے تو اس کا جائزہ لینا ضروری ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متعدد جائز مطالبات حکومت پہلے ہی تسلیم کر چکی تھی، لیکن اس کے بعد اگر کوئی بیرونی فنڈنگ یا بیرونی ایجنڈے کے تحت سرگرم ہوتا ہے تو یہ نہ ملک کے مفاد میں ہے اور نہ ہی عوام کے مفاد میں ہے۔
’طاقت اور مکالمہ ساتھ ساتھ چلنے چاہییں‘
اعزاز چوہدری نے کہاکہ جہاں قانون شکنی، دہشتگردی یا ریاستی رٹ کو چیلنج کیا جائے وہاں قانون کے مطابق طاقت کا استعمال ضروری ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ سیاسی مکالمہ بھی جاری رہنا چاہیے۔
مزید پڑھیں: پاکستان نے اقوام متحدہ میں بھارتی دہشتگردی اور جارحانہ اقدامات کا پردہ چاک کر دیا
انہوں نے کہاکہ مختلف علاقوں کے عوام اور احتجاجی حلقوں سے بات چیت، اعتماد سازی اور ان کے جائز مسائل کے حل کے ذریعے ہی دیرپا امن اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔












