بلوچستان میں جاری دہشتگردی کی تین جہتیں ہیں: پری ٹیررازم، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم۔ ان تینوں سے ایک ساتھ نپٹے بغیر کوئی حل نہیں، یہ ایک ہمہ جہت مسئلہ ہے اور اس کے لیے پالیسی بھی ہمہ جہت ہونی چاہیے۔
دہشتگردی کا پہلا، فوری اور درست جواب تو فورسز کی جانب سے کی گئی کارروائی ہی ہے۔ اس معاملے میں کسی اگر مگر کی کوئی گنجائش نہیں کہ جو بھی گروہ ریاست کے خلاف بندوق اٹھاتا ہے اس کے خلاف بھرپور اور بروقت کارروائی ناگزیر ہے، ہر سطح پر یکسوئی نہایت ضروری ہے۔
لیکن پری ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم سے نپٹنے کے لیے کچھ اور بھی چاہیے۔
پری ٹیررازم میں ایک پورا بیانیہ تخلیق کیا جاتا ہے کہ ریاست ولن ہےاور غاصب ہے، اور اس سے لڑنے والے تو مجبور ہیں۔ انہوں نے مجبور ہو کر بندوق اٹھائی ہے وغیرہ وغیرہ۔ دہشتگردوں کے ابلاغی اور سیاسی سہولت کار یہ کام تندہی سے کررہے ہیں۔
پوسٹ ٹیررازم میں یہ ہوتا ہے کہ دہشتگردی کے بعد قوم میں یکسوئی نہ پیدا ہونے پائے۔ ادھر دہشتگردی ہوتی ہے ادھر ساتھ ہی کسی کو یاد آ جاتا ہے کہ اس نے سالوں پہلے جو تنخواہیں اور مراعات بطور رکن قومی اسمبلی لی تھی انہیں واپس کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ کوئی کھڑے کھڑے شہدا پر نشتر زنی شروع کر دیتا ہے کہ فوجی کا جان قربان کرنا کون سی قربانی ہے وہ تو تنخواہ ہی اسی کی لیتا ہے، کوئی دہشتگردوں کے لیے جواز تلاش کرنے بیٹھ جاتا ہے، کوئی حقوق انسانی کی آڑ میں ریاست کو سینگوں پر لے لیتا ہے۔
اس میں اتفاق کتنا ہے اور اہتمام کتنا، اس سے قطع نظر، یہ ایک پوری حکمت عملی ہے کہ دہشتگردی کے بعدد قوم یکسو نہ ہونے پائے۔ دہشتگردی کے فوراً بعد ریاستی اداروں ہی پر فرد جرم عائد کرنا شروع کر دو یا کم از کم خلط مبحث ضرور پیدا کر دو۔ اگر، مگر چونکہ چنانچہ، یہ ایک مکمل واردات ہے۔
یعنی ایک دن دہشتگرد حملہ کرتے ہیں، دوسرے دن نمک پاشی شروع ہو جاتی ہے۔ ہدف ریاست ہی ہوتی ہے اور ریاستی ادارے ہی ہوتے ہیں۔ کوئی بندوق لے کر آتا ہےاور انہیں شہید کر جاتا ہے اور کوئی زور خطابت سے طعنہ دیتا ہے کہ شہید ہو کر کون سا احسان کررہے ہو، تنخواہیں نہیں لیتے۔
پری ٹیررازم میں وہ فالٹ لائنز جنہیں دشمن ایکسپلائٹ کرتا ہے، انہیں پاکستان نے اپنی گڈ گورننس سے بھرنا ہے۔ دہشتگردی کی ریکروٹمنٹ کہاں سے ہوتی ہے، کیوں ہوتی ہے، دہشتگرد گروپ لوگوں کو کیسے اپنی طرف مائل کر لیتے ہیں، کیا عوامل ہیں جن کی وجہ سے دشمن کو ان فالٹ لائنز کو ایکسپلائٹ کرنا ممکن ہورہا ہے، یہ بالکل ایک دوسرا پہلو ہے اورا س کا تعلق سماجی، انتظامی، سیاسی اور حکومتی معاملات سے ہے۔
دہشتگردی کو کچلنا فوج اور سیکیورٹی اداروں کا کام ہے اور وہ اپنا کام کررہے ہیں، لیکن پری ٹیررازم میں فالٹ لائنز کو بھرنا اور دہشتگردی کی ریکروٹمنٹ اور پوسٹ ٹیررازم میں اس کی ابلاغی اور فکری سہولت کاری کو روکنا سیاست دانوں کا کام ہے۔ سوال یہ ہے کہ بلوچستان کے معاملے میں پاکستان کا اجتماعی سیاسی شعور کہاں کھڑا ہے؟ وفاقی حکومت کہاں کھڑی ہے، بلوچستان کی حکومت کہاں کھڑی ہے؟ پارلیمان کہاں ہے؟
بلوچستان کے نوجوانوں کو انگیج کرنے کی ضرورت ہے، انہیں قومی دھارے کا حصہ بنانے کی نہیں بلکہ انہیں قومی دھارے کی ملکیت کا احساس دینے کی ضرورت ہے۔ جو لوگ ریاست اور آئین کے ساتھ کھڑے ہیں انہیں قومی زندگی میں شراکت کا احساس دلانے کی ضرورت ہے۔ وہاں غربت بھی بہت ہے اور محرومیاں بھی پہاڑوں جیسی ہیں، ان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، یہ کام کس نے کرنا ہے؟
فنڈز دینے یا پنجاب کے میڈیکل کالجوں میں بلوچستان کے لیے نشستیں رکھنے سے بات نہیں بنے گی، بات تب بنے گی جب بلوچستان کے اندر شراکت اقتدار کا احساس اور پاکستان کے حق ملکیت کا احساس پیدا کیا جائے گا۔ کیا کبھی پارلیمان نے اس پر غور کیاکہ اس کی کیا صورتیں ہو سکتی ہیں؟ جناح فارمولے پر ہی عمل کر لیجیے۔ اس سے شاندار چیز ہی کوئی نہیں ہے۔
وقت بدل رہا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب بلوچستان کی سیاسی رگ جاں سرداروں اور نوابوں کی گرفت میں تھی، اب معاملات بدل رہے ہیں۔ جس طرح انڈسٹریلائزیشن نے یورپ کو بدلا، بالکل اسی طرح سوشل میڈیا نے پاکستان کے نوجوان کی سوچ کا رخ بدل دیا ہے۔ بلوچستان میں ہمارے سیاسی بیانیے کا سارا فوکس اس بات پر رہتا ہے کہ الیکٹیبلز، سردار اور نواب کیا سوچ رہے ہیں اور کس کے ساتھ ہیں، یا انہیں کس کے ساتھ ہانکا جا سکتا ہے لیکن بلوچستان کا نوجوان اس قومی بیانیے سے غائب ہے، وہ خود کو اس بیانیے کا حصہ یا مخاطب محسوس نہیں کرتا، اس کے ساتھ کوئی مکالمہ ہی نہیں کررہا، وہ اجنبی ہوتا جا رہا ہے۔
ہمیں سمجھنا ہوگا کہ بلوچستان میں طاقت کے روایتی مرکز ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، اب وہاں طاقت کا مرکز نوجوان ہے، بیانیہ سازی کی غالب قوت اب تعلیمی اداروں میں نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے، اس پہلو پر ہم نے کتنی توجہ دی ہے؟
دہشتگردی کے خلاف ہماری فورسز تو میدان میں ہیں، لیکن پری ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم کے مقابلے میں ہماری پارلیمان کہاں ہے؟
کیا آج تک پارلیمان سے کوئی ایسا جوابی بیانیہ آیا ہے جس نے علیحدگی پسندوں کے بیانیے کو ادھیڑ دیا ہو؟ مثالی صورت حال بھلے نہ ہو، بھلے وہاں غربت اور محرومیاں ہوں اور بے شک وہاں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہو لیکن کیا کوئی ایسا تقابل پیش کیا گیا ہے کہ 1947 میں بلوچستان کیسا تھا، اب کیسا ہے۔ خان آف قلات کے بلوچستان کی حالت کیا تھی اور اب کیا ہے؟ کیا ان سالوں میں وہاں واقعی بالکل کچھ نہیں ہوا یا ہوا؟ جو نہیں ہوا اس کی وجہ بلوچستان کا استحصال ہے یا رقبہ اور لینڈ اسکیپ کے کچھ مسائل بھی ہیں؟ جو مسائل ہیں وہ مکالمے سے حل ہوں گے یا بندووق اٹھا کر قتل و غارت سے حل ہوں گے؟
کراچی نے کیسے ترقی کی؟ وہاں ملک بھر سے لوگ آئے اس نے سب کو دامن میں س سمیٹا تو ترقی کی۔ پنجاب میں ہر صوبے کے لوگ آتے ہیں اور کاروبار کرتے ہیں۔ بلوچتان کا بیانیہ عجب ہے کہ باہر سے بھی کوئی نہ آئے، خبردار کسی دوسرے صوبے سے کوئی آیا، اس سے انہیں لگتا ہے یہ اقلیت میں بدل جائیں گے لیکن انہیں ترقی بھی چاہیے، اس آئسو لیشن میں ترقی نہیں ہو سکتی۔
وفاق کے خلاف نفرت بھری جا رہی ہے کیونکہ نفرت آسان ترین کاروبار ہے، عام آدمی کو تو شاید یہ بھی نہ پتا ہو کہ 300 سال کی تاریخ میں بلوچ عوام کے حقوق کے لیے اٹھنے والی پہلی آئینی اور جمہوری آواز قائد اعظم کی تھی۔ عام آدمی قائداعظم کے 14 نکات میں یہ تو پڑھتا ہوگا کہ بلوچستان میں آئینی اصلاحات نافذ کی جائیں لیکنن اسے شاید ہی کسی نے بتایا ہو کہ اس کا مطلب کیا تھا اور اس کا سیاق و سباق کیا تھا۔ اسے تو شاید یہ بھی معلوم نہ ہو 14 اگست کو جب پاکستان بنا تو قلات کی ریاست میں ایک بھی ہائی اسکول نہ تھا البتہ خانوں کی اولادیں باہر سے پڑھ کر آیا کرتی تھیں۔
اصلاح احوال کی بہت گنجائش موجود ہے اور اس پر جنگی بنیادوں پر کام ہونا چاہیے۔ جہاں آپریشن ضروری ہو وہاں پوری قوت سے آپریشن کیا جائے، جہاں مرہم کی ضرورت ہو وہاں مرہم رکھا جائے۔ دہشتگردی بھی ختم کی جائے اور وہ فالٹ لائنز بھی بھر دی جائیں جو دہشتگردوں کے لیے لائف لائن کا کام کرتی ہیں۔
نشتر بھی ضروری ہے، مرہم بھی لازم ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












