وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی جوانوں کی وطن کے لیے قربانی کو ان کی تنخواہ سے جوڑنا نہ صرف غیرمنصفانہ ہے بلکہ شہدا اور ان کے خاندانوں کی دل آزاری کے مترادف ہے۔
مزید پڑھیں:پاکستان چاہے تو طالبان کو غاروں میں واپس دھکیل دے، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی سخت الفاظ میں تنبیہ
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک کہنہ مشق سیاست دان اور ممتاز مذہبی رہنما ہیں، اس لیے ان سے الفاظ کے انتخاب میں زیادہ ذمہ داری کی توقع کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوئی شخص محض تنخواہ کے لیے اپنی جان نہیں دیتا، بلکہ جان کی قربانی کے پیچھے نظریہ، عقیدہ، فرض شناسی اور وطن سے گہری وابستگی ہوتی ہے۔
مولانا فضل الرحمان ایک کہنہ مشق سیاست دان اور ممتاز مذہبی رہنما ہیں، اس لیے ان سے الفاظ کے انتخاب میں زیادہ ذمہ داری کی توقع کی جاتی ہے۔ فوجی جوانوں کی وطن کے لیے قربانی کو ان کی تنخواہ سے جوڑنا نہ صرف غیرمنصفانہ ہے بلکہ شہداء اور ان کے خاندانوں کی دل آزاری کے مترادف ہے۔ کوئی شخص…
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) July 13, 2026
وزیر دفاع نے کہا کہ حالات، واقعات یا طریقۂ کار سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، تاہم اس نظریے، محبت، وابستگی اور قربانی کی توہین نہیں کی جا سکتی۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری ہے اور افواج پاکستان، دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں سمیت ماؤں کے جوان بیٹے روزانہ قومی پرچم میں لپٹ کر واپس آ رہے ہیں، ان کی قربانی کو تنخواہ کا نتیجہ قرار دینا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے بیان سے صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ ہزاروں شہدا، زخمیوں، بیواؤں، یتیم بچوں اور سوگوار والدین کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔














