خوابوں کا تعاقب مہنگا پڑ گیا، سوئٹزرلینڈ میں کروڑوں کی نوکری چھوڑنے والا نوجوان پچھتانے لگا

منگل 14 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مائیکروسافٹ کے سابق ملازم کرسچین ہارمز نے سوئٹزرلینڈ میں سالانہ 2 لاکھ ڈالر (تقریباً 5 کروڑ 70 لاکھ پاکستانی روپے) کی پرکشش ملازمت چھوڑنے کے فیصلے کو اپنی زندگی کا ’سب سے احمقانہ فیصلہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کارپوریٹ زندگی سے نکل کر اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کرنا ان کی توقع سے کہیں زیادہ مشکل ثابت ہوا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 26 سالہ کرسچین ہارمز نے مائیکروسافٹ کی اعلیٰ تنخواہ، مالی استحکام اور پیشہ ورانہ شناخت کو خیرباد کہہ کر آسٹریلیا منتقل ہونے کا فیصلہ کیا جہاں انہوں نے کانٹینٹ کریئیٹر اور آن لائن کاروباری شخصیت کے طور پر اپنا کیریئر بنانے کی کوشش کی۔

ہارمز نے اپنی ویڈیو “My Museum of Failures as a 27-year-old who quit his dream job” میں کہا کہ کارپوریٹ ملازمت چھوڑنا صرف اچھی تنخواہ سے دستبردار ہونا نہیں بلکہ اس شناخت اور تحفظ کو بھی چھوڑ دینا ہے جو ایسی ملازمت کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے ماضی کے خوابوں پر پورا نہیں اتر سکے تاہم اس کے باوجود انہیں یقین ہے کہ وہ درست راستے پر گامزن ہیں۔

ہارمز نے بتایا کہ انہوں نے 26 سال کی عمر میں 2 لاکھ ڈالر سالانہ کی ملازمت چھوڑ کر انٹرنیٹ پر برانڈز کے لیے ویڈیوز بنانے کا فیصلہ کیا مگر چیزیں ان کی منصوبہ بندی کے مطابق نہ چل سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا میں ساحل سے محروم ملک کتنے، ایسے ترقی پذیر ممالک کے لیے اقوام متحدہ کیا کر رہی ہے؟

انہوں نے کہا کہ انہیں یقین تھا کہ اب تک وہ اپنی کمپنی قائم کر چکے ہوں گے لیکن بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اپنے اسی خواب کو پورا کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں جس کی خاطر انہوں نے اتنا بڑا قدم اٹھایا تھا حالانکہ انہیں اب بھی یقین ہے کہ وہ صحیح سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

ہارمز نے بتایا کہ وہ بغیر کسی واضح منصوبے کے آسٹریلیا منتقل ہوئے اور خود کو صرف پانچ ماہ کا وقت دیا تاکہ فیصلہ کر سکیں کہ آگے کیا کرنا ہے۔ اس دوران انہوں نے کانٹینٹ تخلیق کرنے، مختلف برانڈز کے ساتھ کام کرنے اور آن لائن مواقع تلاش کرنے پر توجہ دی لیکن کئی ماہ کی منصوبہ بندی اور تجربات کے باوجود انہیں وہ نتائج حاصل نہ ہو سکے جن کی وہ امید کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ‘اپنے ساتھ کچھ لیکر نہ جائیں’، سوئٹزرلینڈ میں بھارتی سیاحوں کو شرمندگی کا سامنا، ہوٹل انتظامیہ کا سخت پیغام

انہوں نے مزید بتایا کہ وطن واپسی کی پرواز سے صرف ایک ہفتہ قبل انہوں نے انٹرنیٹ سے اپنی پہلی آمدنی حاصل کی۔ ان کے مطابق آخری تاریخ کے دباؤ نے وہ کام کر دکھایا جو کئی ماہ کی منصوبہ بندی نہ کر سکی۔ اسی تجربے سے انہیں احساس ہوا کہ وہ اکثر اسی وقت مؤثر انداز میں کام کرتے ہیں جب حالات انتہائی مشکل ہو جائیں اور یہ عادت انہیں بالکل پسند نہیں۔

اپنے کاروبار کے تجربے پر بات کرتے ہوئے ہارمز نے کہا کہ انہوں نے کئی ماہ ایک کاروبار کھڑا کرنے میں صرف کر دیے لیکن بعد میں خود سے سوال کیا کہ کیا انہیں واقعی یہ کاروبار شروع کرنا بھی چاہیے تھا؟ ان کے بقول، وہ اسے ’ڈیو ڈیلیجنس‘ (مکمل جائزہ) سمجھتے رہے مگر بعد میں احساس ہوا کہ دراصل یہ خوف تھا جسے انہوں نے مصروفیت کی شکل دے رکھی تھی اور اسی وجہ سے کئی ماہ کی محنت کے باوجود انہیں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی۔

یہ بھی پڑھیں: 10 ممالک جن کی شہریت حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے

انہوں نے بتایا کہ وہ اب انسٹاگرام پر اپنی پوری جدوجہد کو دستاویزی شکل میں شیئر کر رہے ہیں تاکہ لوگوں کو دکھا سکیں کہ ایک محفوظ اور مستحکم زندگی چھوڑ کر نئے خوابوں کا تعاقب کرنا حقیقت میں کیسا ہوتا ہے۔

ان کی کہانی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہی ہے جہاں متعدد صارفین نے انہیں ہمت نہ ہارنے اور اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا مشورہ دیا۔ ایک صارف نے لکھا ’بھائی آپ ضرور کامیاب ہوں گے‘۔

یہ بھی پڑھیں: پارلیمنٹ ہاؤس کے کیفے ٹیریا میں کھانے پینے کی اشیا کے ریٹس کیا ہیں؟

دوسرے صارف نے تبصرہ کیا ’میرے خیال میں یہ احمقانہ نہیں بلکہ ایک بہادرانہ فیصلہ تھا‘۔ ایک اور صارف نے کہا ’کبھی کبھی راستہ بہت مشکل ہو جاتا ہے، لیکن یہ اچھی بات ہے کہ آپ نے اپنے دل کی آواز سنی اور اپنے خواب کا پیچھا کیا‘۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فضل الرحمان نے پوری تاریخِ اسلام کے شہدا کی تضحیک کی ہے، فیاض الحسن چوہان

’آپ کو شرم آنی چاہیے‘، خالی کمرے میں اے سی چلتا دیکھ کر وزیر صحت پنجاب کا اسپتال انتظامیہ پر سخت اظہارِ برہمی

خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن تیار، صوبائی حکومت سے مشاورت جاری

شہدا کی قربانیوں کو تنخواہ یا مراعات سے نہیں تولا جا سکتا، شہدا پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، حنیف عباسی

اسٹاک ایکسچینج شدید مندی کا شکار، انڈیکس تقریباً 5 ہزار پوائنٹس گر گیا

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم