اسلام آباد: پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

منگل 14 جولائی 2026
author image

عمیر خان آباد

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد کو اکثر پاکستان کا سب سے بہترمنصوبہ بندی کے تحت بسایا گیا شہر قرار دیا جاتا ہے، لیکن اگر اس شہر کے مستقبل کو درپیش سب سے بڑے خطرات کی فہرست بنائی جائے تو پانی کا بحران یقیناً سرفہرست ہوگا۔ بدقسمتی سے یہ مسئلہ ابھی تک وہ توجہ حاصل نہیں کر سکا جس کا یہ متقاضی ہے۔ شہر کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے، نئی ہاؤسنگ سوسائٹیاں وجود میں آ رہی ہیں، کمرشل سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، مگر زیر زمین پانی کے ذخائر پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے مقابلے کے لیے کوئی جامع اور مربوط حکمت عملی نظر نہیں آتی۔

اسلام آباد کی آبادی گزشتہ چند دہائیوں میں کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ اس بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے پانی کی فراہمی بنیادی ضرورت تھی اور ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا ہماری ترجیحات بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں؟ کیا اسلام آباد کو سب سے پہلے ایک جدید میٹرو بس نظام کی ضرورت تھی یا ایک جامع واٹر سکیورٹی پلان کی؟ یہ سوال محض سیاسی نہیں بلکہ ترقیاتی منصوبہ بندی کے بنیادی اصولوں سے متعلق ہے۔ اور گورننس کے مسائل کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

کئی وجوہات کی بناء پر جن میں ناقص منصوبہ بندی اور گورننس کی ناکامی نمایاں ہیں، ہمارا ملک ایک عرصے سے اقتصادی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے محدود سرمایہ ہی دستیاب ہوتا ہے اور منصوبوں کے ترجیحی چناؤ میں بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔

مجوزہ منصوبوں کی پیشہ ورانہ جانچ پڑتال کے بعد ہی اچھے منصوبوں کو منتخب کرنا ممکن ہوتا ہے۔ کیا ایسے میں اسلام آباد کے باسیوں کی اہم ترین ضرورت، یعنی پانی کی فراہمی سے متعلق ایک جامع منصوبے پر عملدرامد کو پس پشت ڈالنے میں شہری انتظامیہ اور وفاقی حکومت کسی طرح بھی حق بجانب ہیں؟

اسلام آباد کے پانی کا بڑا حصہ دو ذرائع سے حاصل ہوتا ہے: سطحی پانی اور زیر زمین پانی۔ سطحی پانی کی فراہمی بنیادی طور پر سملی ڈیم اور خانپور ڈیم سے ہوتی ہے، جبکہ ہزاروں نجی اور سرکاری ٹیوب ویل زیر زمین پانی نکال رہے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ زیر زمین پانی کے ذخائر سے نکاسی کی رفتار ان کی قدرتی ری چارج کی صلاحیت سے زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں زیر زمین پانی کی سطح مسلسل نیچے گر رہی ہے۔ اور جب پانی سے بھری زیر زمین چٹانوں کو خالی کر دیا جائے تو اکثر ان چٹانوں کے مسام اپنے اطراف کی چٹانوں کے دباؤ سے متاثر ہوتے ہیں اور ہمیشہ کے لیے بند بھی ہو سکتے ہیں۔ اس طرح ان کی زیر زمین پانی کو زخیرہ کرنے کی صلاحیت ہمیشہ کے لیے ضائع ہو سکتی ہے۔ اس بناء پر زیر زمین پانی کو ایک منصوبے کے تحت استعمال کرنے کے لیے اقدامات ضروری ہیں۔ اور اس امر کو جامع منصوبہ بندی کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔

گزشتہ کئی برسوں سے مختلف تحقیقی مطالعات اور سرکاری رپورٹس یہ نشاندہی کر رہی ہیں کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے متعدد علاقوں میں زیر زمین پانی کی سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے۔ بعض علاقوں میں یہ کمی سالانہ ایک سے دو میٹر تک ریکارڈ کی گئی ہے۔ جو بور چند سال پہلے 150 یا 200 فٹ پر پانی دے رہے تھے، آج ان میں سے بہت سے خشک ہو چکے ہیں یا ان کی پیداوار نمایاں طور پر کم ہو چکی ہے۔

اس صورت حال کی ایک بڑی وجہ بغیر کسی جامع منصوبہ بندی کے بڑے پیمانے پر ٹیوب ویل اور بور کی کھدائی ہے۔ آج اسلام آباد کے مختلف سیکٹروں، نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں، کمرشل عمارتوں اور گھروں میں ہزاروں نجی بور موجود ہیں۔ ان میں سے اکثر کی تنصیب کے وقت نہ کوئی ہائیڈروجیولوجیکل مطالعہ کیا گیا، نہ ہی آب اندوخت (ایکویفر) کی صلاحیت کا جائزہ لیا گیا اور نہ ہی مجموعی پانی کے توازن (واٹر بیلنس) کا حساب لگایا گیا۔

نتیجتاً ہر فرد اور ادارہ اپنی اپنی ضرورت کے مطابق، اپنے اپنے طور پر زیر زمین پانی نکال رہا ہے، جبکہ مجموعی ذخائر پر اس کے اثرات کا کوئی جامع حساب کتاب موجود نہیں۔ اس سلسلے میں حسب ضرورت قانون سازی کی ضرورت ہے۔ جس میں بور یا کونوں کی کھدائی سے قبل متعلقہ محکموں سے اجازت لینا لازمی قرار دیا جائے۔ متعلقہ ادارے اپنے ڈیٹا بیس اور مہارت کی بنیاد پر فرد یا ادارے کو تکنیکی مشورے دے سکیں، تاکہ بورنگ کا کام درست طور پرانجام پائے۔

اسلام آباد کے زیر زمین پانی کے ذخائر مختلف اقسام کے ایکویفرز پر مشتمل ہیں۔ شہر کے کئی حصوں میں موجود کانگلومریٹ ایک اہم اور نسبتاً اچھی پیداوار والا ایکویفر سمجھا جاتا ہے جس میں بجری، ریت اور کنکریلے ذخائر موجود ہیں۔ دریاؤں اور ندی نالوں کے ساتھ موجود جدید الیووئل ذخائر بھی اچھے آبی وسائل فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ مارگلہ کے پہاڑی علاقوں میں چونا پتھر(لائم اسٹون) اور ریتیلا پتھر (سینڈ اسٹون) کی درازدار (فریکچرڈ) ارضیاتی تشکیلات ( فارمیشنز) بھی پانی کے ذخیرے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

لیکن ان تمام ایکویفرز کی ری چارج اور نکاسی کی صلاحیت مختلف ہے اور اس کے مطابق انتظام کے بغیر پانی کی دیرپا فراہمی ممکن نہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کی ان ذخائر میں موجود فریکچر یا ایک دوسرے سے جدا سینڈ لینز تک پہنچنے کی صورت میں پانی مل جائے اور شاید بہت اچھا ذخیرہ ہو، لیکن دوسرے ہی پلاٹ میں فریکچر یا لینز نہ ملنے کی صورت میں بور ناکام ہو جائے۔ اس بناء پر جیوفزیکل سروے کے بغیر بور کرنے میں ناکامی کا زیادہ خدشہ ہوتا ہے۔

اسلام آباد میں زیرِ زمین پانی کے انتظام کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ شہر کے مختلف علاقے مختلف زیرِ زمین آبی نظاموں پر مشتمل ہیں، لیکن پانی کے انتظام کو عموماً ایک ہی نوعیّت کا مسئلہ سمجھ کر نمٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مارگلہ کے پہاڑی سلسلے میں موجود لائم اسٹون کی دراڑ دار آبی تہیں، اسلام آباد کے مرکزی علاقوں میں بجری، ریت اور کنکریلے ذخائر پر مشتمل زیرِ زمین آبی ذخائر، اور بی۔17، سنگجانی اور ملحقہ علاقوں میں سوالک سینڈ اسٹون پر مشتمل آبی تہیں، اپنی ساخت، پانی جذب کرنے کی صلاحیت، قدرتی آبی ری چارج کی رفتار اور پائیدار پیداوار کے اعتبار سے ایک دوسرے سے نمایاں طور پر مختلف ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ پورے شہر کے لیے ایک ہی طرز کی منصوبہ بندی نہ تو مؤثر ثابت ہو سکتی ہے اور نہ ہی طویل مدّت میں زیرِ زمین پانی کے وسائل کے پائیدار استعمال کو یقینی بنا سکتی ہے۔

اسلام آباد کے پانی کے مسئلے کا حل صرف مزید ٹیوب ویل لگانے میں نہیں، بلکہ ایک مربوط گراؤنڈ واٹر مینجمنٹ پروگرام میں ہے۔ اس پروگرام کے جق چند بنیادی اجزاء ہونے چاہئیں، وہ درج ذیل ہیں :
اوّل، پورے اسلام آباد کا جدید ہائیڈروجیولوجیکل نقشہ تیار کیا جائے، جس میں مختلف ایکویفرز کی حدود، گہرائی، پانی کے معیار اور ری چارج کی صلاحیت کا تعین ہو۔

دوم، تمام سرکاری اور نجی بوراور ٹیوب ویلوں کی رجسٹریشن اور مانیٹرنگ کی جائے اور نئے بور اور ٹیوب ویل کے لیے سائنسی م علومات کی بنیاد پر متعلقہ محکموں سے منظوری کا نظام متعارف کرایا جائے۔

سوم، زیر زمین پانی کی سطح کی مسلسل نگرانی کے لیے آبزرویشن ویلز کا جال بچھایا جائے تاکہ پالیسی سازی حقیقی اعداد و شمار کی بنیاد پر ہو۔ اس مقصد کے لیے کئی موجودہ کونوں کو بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

چہارم، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے اور زیر زمین ذخائر میں واپس پہنچانے کے لیے ری چارج ویلز اور رین واٹر ہارویسٹنگ کو لازمی بنایا جائے۔ ری چارج کے لیے بہتر مقامات کا تعین سیٹلایٹ ایمجری اور دیگر ہائڈرو جیولوجیکل معلومات کے ذریعے کیا جائے اور جہاں ممکن ہو، زمین کی سطح پر بہنے وال پانی کو چھوٹے چیک ڈیم (بند) اور تالاب سے روک کر زمین میں جذب ہونے دینے کا انتظام کیا جائے۔

پنجم، واٹر شیڈ مینجمنٹ کو قومی ترجیح دی جائے۔ مارگلہ ہلز، سملی واٹرشیڈ اور دیگر کیچمنٹ ایریاز شہر کے آبی مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ جنگلات کی کٹائی، بے ہنگم تعمیرات اور زمین کے استعمال میں تبدیلی پانی کی قدرتی ری چارج کو متاثر کرتی ہیں۔ اگر واٹر شیڈز محفوظ نہیں رہیں گے تو نہ ڈیم بھر سکیں گے اور نہ ہی ایکویفرز ری چارج ہو سکیں گے۔

ڈیموں کی اہمیت بھی اسی تناظر میں مزید بڑھ جاتی ہے۔ سملی ڈیم اور خانپور ڈیم نے کئی دہائیوں تک اسلام آباد کی آبی ضروریات پوری کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، لیکن بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر نئے ذخائر، چھوٹے ڈیم، چیک ڈیمز اور ری چارج اسٹرکچرز کی ضرورت واضح طور پر محسوس کی جا رہی ہے۔ ایسے منصوبے نہ صرف پانی ذخیرہ کرتے ہیں بلکہ زیر زمین پانی کی قدرتی ری چارج میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ امر بھی قابل غور ہے کہ مختلف ادارے مثلاً سی ڈی اے، واسا، پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز، وزارت آبی وسائل
اور مختلف جامعات اس شعبہ میں کام کر رہی ہیں، ان کوششوں میں مطلوبہ سطح کے ربط اور ہم آہنگی اہم ہوگی۔ ایک مشترکہ “اسلام آباد واٹر سکیورٹی اتھارٹی” یا مربوط ادارہ جاتی فریم ورک کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو تمام متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے اور پالیسی پر عمل درآمد کو یقینی بنا سکے۔

اسلام آباد کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ پانی کا بحران کب آئے گا، بلکہ یہ ہے کہ ہم اس بحران کی تیاری کب شروع کریں گے۔ اگر آج بھی ہم نے زیر زمین پانی کے غیر منظم استعمال، واٹر شیڈز کی تباہی اور غیر سائنسی منصوبہ بندی کو نہ روکا تو آنے والے برسوں میں پانی کی قلت اس شہر کی معاشی، سماجی اور ماحولیاتی ترقی کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ دنیا کے کتنے اہم شہر ایسے ہی حالات سے دوچار ہو چکے ہیں، مزید کٹھن وقت کے آنے سے پہلے ہوشیار ہو جانا بہتر ہو گا۔

وقت آ گیا ہے کہ اسلام آباد کے لیے ایک جامع، سائنسی بنیادوں پر مربوط گراؤنڈ واٹر مینجمنٹ منصوبہ تیار کیا جائے، تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے پانی کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان ہاکی فیڈریشن کا خواتین ہاکی کو دوبارہ فعال بنانے کا منصوبہ، نئی کھلاڑیوں کو عالمی میدان میں موقع مل گیا

خوراک خریدنے سے پہلے معلومات چیک کرنے والی ایپس واقعی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں؟

کب اور کہاں سجے گا اسٹار کھلاڑیوں کا میلہ؟ پی سی بی کے دھماکے دار ٹورنامنٹ کی تفصیلات سامنے آگئیں

یوٹیوب پر نوعمر صارفین کو مضر ویڈیوز کی سفارش، نئی تحقیق میں تشویشناک انکشاف

اسحاق ڈار کی زیر صدارت سول ایوارڈز کے لیے نامزدگیوں کا جائزہ، شفاف اور میرٹ پر مبنی عمل جاری رکھنے پر زور

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم