ناروے کے تعلیمی نظام نے ایک شخص کی بچپن سے متعلق سوچ بدل دی، سوشل میڈیا پر بحث چھڑگئی

منگل 14 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ناروے میں بچوں کو ابتدائی عمر میں کھیل، فطرت اور عملی زندگی سکھائی جاتی ہے، ناروے میں رہنے والے ایک شخص نے بتایا ہے کہ وہاں کے تعلیمی نظام اور بچوں کی پرورش کے انداز نے بچپن اور تعلیم سے متعلق اس کی سوچ مکمل طور پر بدل دی، جس کے بعد اس کی سوشل میڈیا پوسٹ پر دلچسپ بحث شروع ہوگئی۔

ونود نامی صارف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لکھا کہ ناروے میں کنڈرگارٹن کو بچوں کو تعلیمی دوڑ میں آگے بڑھانے کی جگہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے ایسا ماحول تصور کیا جاتا ہے جہاں بچے، بچے بننا سیکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھاری بھرکم اسکولز بیگز سے نجات کی نئی پالیسی کیا ہے؟

انہوں نے بتایا کہ ناروے میں بچے ہر موسم میں گھنٹوں کھلے ماحول میں وقت گزارتے ہیں۔ وہ جنگلات، پہاڑوں اور قدرتی مقامات پر کھیلتے ہیں، چٹانوں پر چڑھتے ہیں، مٹی میں کھیلتے ہیں، اپنے ہاتھوں سے چیزیں بناتے ہیں، فطرت کی دیکھ بھال کرتے ہیں، اختلافات کو خود حل کرنا سیکھتے ہیں اور خودمختاری حاصل کرتے ہیں۔

ونود کے مطابق پڑھنا اور لکھنا تو بعد میں بھی سیکھا جاسکتا ہے، مگر بچپن دوبارہ واپس نہیں آتا۔

انہوں نے کہا کہ جب وہ بھارت واپس آئے تو دیکھا کہ 3 سال کی عمر کے قریب بچے بھی اسکول بیگ اٹھائے ہوئے تھے، حروف لکھنے، اعداد گننے اور ورک شیٹس مکمل کرنے میں مصروف تھے۔

ان کے بقول ایسا محسوس ہوا جیسے بچوں کو صرف اگلی جماعت کے لیے تیار کیا جا رہا ہو، نہ کہ انہیں بچپن گزارنے کا موقع دیا جا رہا ہو۔ انہوں نے لکھا کہ یہ منظر دیکھ کر ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

یہ بھی پڑھیں: جوڈیشل مجسٹریٹ نے گورنمنٹ اسکول کے دورے پر کیا دیکھا؟

اپنی پوسٹ کے اختتام پر ونود نے سوال اٹھایا کہ کیا زندگی کے پہلے اسباق صرف حروفِ تہجی اور اعداد ہونے چاہییں یا پھر اعتماد، مہربانی، ثابت قدمی، تجسس اور بچپن کی خوشیوں کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جانی چاہیے۔

یہ پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جہاں صارفین نے مختلف آراء کا اظہار کیا۔ بعض افراد نے کہا کہ بچوں کی پرورش کا انحصار والدین پر ہوتا ہے، جبکہ دیگر نے ونود کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی عمر میں بچوں پر غیر ضروری تعلیمی دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟