خیبر پختونخوا کے دور افتادہ اور پسماندہ ضلع اپر کوہستان میں مبینہ طور پر غیرت کے نام پر ایک لڑکے اور لڑکی کے قتل کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
اہل خانہ کی جانب سے رپورٹ درج نہ کرانے پر پولیس نے خود مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے۔
کوہستان پولیس کے مطابق واقعہ تھانہ داسو کی حدود میں واقع گاؤں شالہ میں پیش آیا، اطلاع ملتے ہی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے واردات کو چھپانے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے دونوں لاشیں برآمد کر لیں۔
داسو پولیس نے تصدیق کی ہے کہ دوہرے قتل کا واقعہ بظاہر غیرت کے نام پر پیش آیا ہے، تاہم اس ضمن میں مزید تفتیش جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں دل دہلا دینے والا واقعہ، شادی سے انکار پر خاتون کو زندہ جلانے کی کوشش
پولیس کے مطابق مقتول اور مقتولہ دونوں کے اہل خانہ کیس اور تفتیش میں پولیس کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
پولیس نے مقتولہ کی شناخت برکت جان کے نام سے کی ہے، جو 3 بچوں کی ماں تھی، جبکہ مقتول نوجوان کی شناخت نور زمان کے نام سے ہوئی ہے، جو کوہستان پولیس میں سپاہی تھا اور چند ماہ قبل اس کی شادی ہوئی تھی۔
پولیس کے مطابق ملزمان کو شبہ تھا کہ مقتول اور مقتولہ کے درمیان ناجائز تعلقات تھے، اسی شبے کی بنیاد پر خاتون کے شوہر نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر خاتون کو قریبی نالے میں لے جا کر گولی مار کر قتل کیا اور لاش وہاں پھینک دی۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ سول اسپتال میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب سے حملہ، مبینہ ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
داسو تھانے میں درج ایف آئی آر کے مطابق خاتون کے قتل کے بعد ملزمان نے پولیس اہلکار نور زمان کو دھوکے سے بلایا، مبینہ طور پر اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں تیز دھار آلے سے اس کا گلا کاٹ کر قتل کر دیا، ملزمان نے لاش کو ایک زیرِ تعمیر عمارت میں چھپانے کی بھی کوشش کی۔
پولیس نے بتایا کہ دونوں لاشیں برآمد کرکے پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کی گئیں، تاہم اہل خانہ نے کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔
پولیس کے مطابق کوہستان میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں، لیکن ایسے مقدمات میں اکثر اہل خانہ بھی ملوث ہوتے ہیں اور پولیس کے ساتھ تعاون نہیں کرتے۔
مزید پڑھیں: دوسری شادی کیوں کر رہے ہو؟ خاتون نے سابقہ شوہر کے گھر کو آگ لگادی
پولیس کا کہنا ہے کہ حالیہ دوہرے قتل کے مقدمے میں بھی کوئی مدعی سامنے نہیں آیا، جس پر ایس ایچ او کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ تاہم تاحال کسی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
پولیس کے مطابق کوہستان میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات اس وقت قومی توجہ کا مرکز بنے تھے جب ایک پرانی ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد اس میں نظر آنے والی لڑکیوں اور لڑکوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔
اس واقعے کے خلاف مقتول لڑکوں کے بھائی افضل کوہستانی نے مقامی روایات کے برعکس سامنے آ کر آواز اٹھائی تھی۔
افضل کوہستانی نے شدید مشکلات اور خطرات کے باوجود اس کیس کی پیروی جاری رکھی، تاہم چند سال قبل انہیں ایبٹ آباد میں فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا۔













