وفاقی آئینی عدالت میں ایرانی ڈیزل اسمگلنگ سے متعلق درج ایف آئی آر کو کالعدم قرار دینے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت ہوئی جس دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ نیلامی کے ایک ٹینکر کا اجازت نامہ 10،10 ٹینکرز لانے میں استعمال ہوتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت میں ایرانی ڈیزل اسمگلنگ سے متعلق درج ایف آئی آر کو کالعدم قرار دینے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔
مزید پڑھیں: کراچی میں کسٹمز کی کارروائی، 42 ہزار لیٹر سے زائد اسمگل شدہ ایرانی ڈیزل برآمد
سماعت کے دوران عدالت نے مال مقدمہ واپس کرنے سے روکنے کے لیے کسٹمز کی جانب سے حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا مسترد کردی۔
سماعت کے دوران کسٹمز کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ اسمگل شدہ ڈیزل پکڑ کر نیلام کیا جاتا ہے۔ اس پر جسٹس روزی خان نے ریمارکس دیے کہ نیلامی کے ایک ٹینکر کا اجازت نامہ 10،10 ٹینکرز لانے میں استعمال ہوتا ہے۔
کسٹمز کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بغیر تحقیقات کے ہی ایف آئی آر پہلے معطل اور بعد ازاں کالعدم قرار دے دی گئی۔
اس کے جواب میں اسٹوریج کمپنی کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ واحد ثبوت صرف ڈرائیور کا بیان ہے کہ نیلامی کا اجازت نامہ دوبارہ استعمال ہو رہا ہے۔
اسٹوریج کمپنی کے وکیل احسن بھون نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے کی آڑ میں پورا سٹوریج سینٹر ہی سیل کر دیا گیا ہے۔ جسٹس روزی خان نے استفسار کیا کہ شواہد کے بغیر حقائق کا تعین کیسے ہوسکتا ہے؟
جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی آر بدنیتی پر ہی خارج ہوسکتی ہے، اس کیس میں کیا بدنیتی ہے؟ اس پر احسن بھون نے کہا کہ پورا سٹوریج پوائنٹ ہی سیل کر دیا گیا ہے جہاں ریفائنری کا آئل بھی موجود ہوتا ہے۔
کسٹمز کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 2 آئل ٹینکرز سڑک سے پکڑے گئے جبکہ چار سٹوریج کے ایریا سے تحویل میں لیے گئے۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ میں ایرانی پیٹرول کی غیر قانونی فروخت پھر شروع، حکومتی پابندی مؤثر کیوں نہ رہی؟
انہوں نے مزید کہاکہ اسٹوریج سینٹر ڈی سیل کرنے پر کسٹمز کو کوئی اعتراض نہیں، تاہم کیس ختم ہونے کی بنیاد پر مالِ مقدمہ بھی واپس کروایا جا رہا ہے۔
دلائل سننے کے بعد جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔













