اٹک ریفائنری لمیٹڈ، حبکو، او جی ڈی سی ایل، پاکستان آئل فیلڈز، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، پاکستان اسٹیٹ آئل، ایس ایس جی سی، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک اور یونائیٹڈ بینک جیسے انڈیکس پر زیادہ اثر رکھنے والے حصص سبز زون میں کاروبار کرتے رہے۔
بدھ کے روز بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مضبوط بحالی دیکھی گئی تھی، جب گزشتہ سیشن کی شدید فروخت کے بعد سرمایہ کاروں نے نسبتاً کم قیمتوں پر حصص کی خریداری کی۔
تاہم مشرقِ وسطیٰ میں جاری جغرافیائی کشیدگی کے باعث سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
بدھ کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,766.97 پوائنٹس یعنی 1.02 فیصد اضافے کے ساتھ 175,285.78 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی منڈیوں کی صورتحال
دوسری جانب ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں جمعرات کو مندی دیکھی گئی، چپ ساز کمپنیوں کے حصص میں دباؤ کے باعث سرمایہ کار محتاط رہے، جبکہ امریکی مہنگائی کے اعداد و شمار توقعات سے بہتر آنے کے بعد بانڈز کی طلب میں اضافہ ہوا۔
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سرمایہ کاروں کا اعتماد اسٹاک ایکسچینج میں بہتری کا باعث، کیا معیشت مستحکم ہورہی ہے؟
امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کے بعد ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں، جبکہ تہران نے امریکا کے ساتھ ’بقا کی جنگ‘ کا انتباہ دیا ہے۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 0.6 فیصد اضافے کے ساتھ 85.45 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ رواں ہفتے کے دوران اس میں مجموعی طور پر 12 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔

سرمایہ کاروں کی نظریں دنیا کی سب سے بڑی جدید مصنوعی ذہانت چپس تیار کرنے والی کمپنی تائیوان سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کمپنی کے سہ ماہی نتائج پر مرکوز ہیں۔
توقع ہے کہ کمپنی اپریل تا جون سہ ماہی میں خالص منافع میں 59 فیصد اضافے کے ساتھ مسلسل 5ویں سہ ماہی ریکارڈ منافع حاصل کرے گی۔
تاہم چپ سازی کے آلات فراہم کرنے والی عالمی کمپنی اے ایس ایم ایل کے حصص اپنی 2026 کی فروخت کی پیش گوئی بڑھانے اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کے اعلان کے باوجود 0.4 فیصد گر گئے، جس کے اثرات ایشیائی منڈیوں پر بھی مرتب ہوئے۔