ایران کی امریکا کو سخت وارننگ، حملے بڑھے تو پورا مشرقِ وسطیٰ میدانِ جنگ بن جائے گا

جمعرات 16 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کی جانب سے فضائی حملوں کے جواب میں ایران نے انتہائی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے اپنے فوجی حملوں کا دائرہ کار بڑھایا تو ایران پورے مشرقِ وسطیٰ میں وسیع پیمانے پر جوابی فوجی کارروائیاں شروع کر دے گا۔ دوسری جانب، پینٹاگون اور اسرائیلی قیادت کے درمیان اس بگڑتی ہوئی صورتحال پر اہم ترین مشاورت بھی عمل میں آئی ہے۔

ایران کی ‘سرخ لکیر’ اور شدید جوابی کارروائی کا انتباہ

امریکی میڈیا ادارے ’فاکس نیوز‘ نے ایران کے عسکری ہیڈکوارٹر ‘خاتم الانبیاء’ کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری کا ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اگر امریکا نے ایران کے بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو خطے کا کوئی بھی حصہ محفوظ نہیں رہے گا۔

یہ بھی پڑھیے امریکی فورسز کے ایران پر مسلسل پانچویں روز حملے، آبنائے ہرمز میں بحری و فضائی کشیدگی عروج پر

ترجمان کا کہنا تھا ’اگر امریکی صدر کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی کھوکھلی دھمکیوں پر عمل کیا گیا، تو وہ تمام علاقائی انفراسٹرکچر جو اب تک ایران کے صبر و تحمل کی وجہ سے محفوظ رہا ہے، ایرانی مسلح افواج کے زوردار حملوں کی زد میں آ کر تباہ و برباد ہو جائے گا۔‘

ایرانی ترجمان نے واضح کیا کہ تہران کسی بھی صورت امریکا کو ’آبنائے ہرمز‘  میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گا، اور اسے ایران کی ناقابلِ تسخیر ’سرخ لکیر‘ قرار دیا۔

صدر ٹرمپ کا سخت لہجہ اور گرڈ اسٹیشنز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

یہ شدید ردعمل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران مذاکرات کی میز پر واپس نہیں آتا تو امریکا اپنے فوجی حملوں کا دائرہ بڑھائے گا اور ایران پر انتہائی سخت ضربیں لگائی جائیں گی۔

صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ’اگلا ہفتہ ایران کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اب باری ان کے بجلی گھروں (پاور پلانٹس) کی ہے۔ ہم ان کے تمام پاور پلانٹس اور پلوں کو تباہ کر دیں گے، الا یہ کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئیں اور بات چیت شروع کریں۔‘

امریکی وزیرِ دفاع اور اسرائیلی ہم منصب کے درمیان اہم رابطہ

خطے میں جاری کشیدگی کے دوران امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اور اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے، جس میں ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسرائیلی وزارتِ دفاع کے مطابق، ہیگستھ نے اپنے ہم منصب کو ایران میں امریکی فوج کی سرگرمیوں اور حالیہ حملوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا، اور دونوں رہنماؤں نے کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ، ایران میں متعدد فوجی اہداف پر حملے

واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا نے گزشتہ چند دنوں کے دوران ایران کے اندر متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔ جواب میں، ایران نے بھی خطے میں موجود امریکی اتحادیوں بشمول کویت، بحرین اور اردن کو نشانہ بنایا ہے، جس سے پورے مشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع تر جنگ چھڑنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوغت جیسے موضوعات پر بچوں کو کھل کر گائیڈ کریں، معروف ماڈل ونیزہ کا والدین کو مشورہ

انیقہ معراج ‘مس ورلڈ’ مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی پہلی خاتون بن گئیں

ایس سی او بارڈر سروسز سربراہان کا اجلاس: سرحدی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ

اپنے ہی انتخابی حلقے سے شکست کھا گئے تو پھر کبھی الیکشن نہیں لڑیں گے، وزیراعظم آزاد کشمیر

ویڈیو

’کاروبار میں آسانی‘ کی 558 اصلاحات پر پیشرفت، 468 ارب روپے سے زائد بچت متوقع، وزیراعظم

بھارت سے دریائے چناب میں پانی کی آمد 4 روز میں 21 ہزار 600 کیوسک کم، سندھ طاس معاہدے پر تشویش بڑھ گئی

جب جماعتوں میں مشاورت کی روایت کمزور پڑنے لگے تو اختلافات بڑھ جاتے ہیں، رہنما ایم کیو ایم رؤف صدیقی

کالم / تجزیہ

کیا موساد نےسابق ایرانی صدر کو آلہ کار بنا لیا تھا؟

ہمارا جھوٹ اور ان کا جھوٹ

دھڑکتے دل کا فون