مصنوعی ذہانت یا اے آئی کی تیزی سے بدلتی دنیا میں ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ کئی افراد اب صرف دفتری اوقات میں ہی نہیں بلکہ اپنے فارغ وقت میں بھی نئی اے آئی ٹیکنالوجیز سیکھنے میں مصروف ہیں تاکہ وہ تیزی سے بدلتے رجحانات کے ساتھ خود کو ہم آہنگ رکھ سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی ماڈل میں انسانی دماغ سے مشابہ نظام کا انکشاف
میٹا میں سافٹ ویئر انجینیئر روہن کلکرنی بھی ایسے ہی پیشہ ور افراد میں شامل ہیں۔ انہوں نے بزنس انسائیڈر کو بتایا کہ دفتر سے واپسی کے بعد بھی وہ ہر ہفتے تقریباً 4 سے 6 گھنٹے مصنوعی ذہانت سے متعلق نئی چیزیں سیکھنے میں صرف کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ چیٹ جی پی ٹی، کلاڈ اور پرپلیکسیٹی جیسی اے آئی سروسز کی سبسکرپشن پر ماہانہ تقریباً 50 امریکی ڈالر بھی خرچ کرتے ہیں۔
روہن کلکرنی کے مطابق وہ ان متعدد ٹیکنالوجی ماہرین میں شامل ہیں جو اپنی ملازمت کے علاوہ ذاتی وقت میں بھی اے آئی پر کام کرتے ہیں تاکہ نئی مہارتیں حاصل کر سکیں، ذاتی منصوبے (سائیڈ پراجیکٹس) بنا سکیں اور اس تیزی سے ترقی کرتی ٹیکنالوجی میں دوسروں سے پیچھے نہ رہ جائیں۔
انہوں نے بتایا کہ دفتر میں اے آئی کے استعمال سے بعض منصوبوں کی تکمیل کا دورانیہ جو پہلے تقریباً ایک ماہ ہوتا تھا اب کم ہو کر صرف 2 سے 3 ہفتے رہ گیا ہے۔ ان کے مطابق نئی ٹیکنالوجیز خود سیکھنے کی عادت انہیں مصنوعی ذہانت کے دور سے پہلے ہی پڑ چکی تھی جب وہ ذاتی منصوبوں کے ذریعے نئی مہارتیں حاصل کیا کرتے تھے۔
کلکرنی نے کہا کہ ابتدا میں وہ ہر مسئلے کا حل مکمل طور پر اے آئی سے حاصل کرتے تھے اور خود سوچنے کی کوشش نہیں کرتے تھے لیکن اب انہوں نے اپنا طریقہ کار تبدیل کر لیا ہے۔ اب وہ پہلے خود مسئلے کا حل تلاش کرتے ہیں پھر مصنوعی ذہانت کی مدد سے اپنے جواب کی تصدیق یا بہتری کرتے ہیں۔
مزید پڑھیے: اے آئی کے باعث سوچنے کی صلاحیت متاثر، سافٹ ویئر انجینیئرز بھی خود کو بے مقصد تصور کرنے لگے
ان کے مطابق اے آئی سیکھنے کے لیے اضافی وقت نکالنے سے ان کی زندگی کے کسی اہم پہلو پر منفی اثر نہیں پڑا بلکہ انہوں نے غیر ضروری طور پر یوٹیوب شارٹس دیکھنے اور وقت ضائع کرنے والی دیگر سرگرمیوں میں کمی کر دی ہے۔
روہن کلکرنی کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں صرف عملی کام کرنے والے فرد کے بجائے ایک منصوبہ ساز (آرکیٹیکٹ) کی طرح سوچنا ضروری ہو گیا ہے تاہم اسی طرزِ فکر کی وجہ سے کئی ٹیکنالوجی ماہرین خود کو ذہنی تھکن یا اے آئی فیٹیگ کا شکار بھی محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وہ ہر نئی ٹیکنالوجی کے پیچھے بھاگنے کے بجائے پہلے سے موجود علم کی بنیاد پر آگے بڑھتے ہیں اور ایسی ٹیکنالوجی پر توجہ دیتے ہیں جو حقیقی زندگی میں لوگوں کے مسائل حل کر سکے۔
مزید پڑھیں: اے آئی کمالات: ایمیزون و دیگر بارانی جنگلات اب جائے بغیر بھی دیکھے اور محسوس کیے جاسکتے ہیں
ان کے مطابق پیشہ ورانہ تعلقات میں بھی کامیابی صرف مفاد کی بنیاد پر نہیں بلکہ سیکھنے کے شوق اور تجسس کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے اور یہی رویہ طویل مدت میں بہتر نتائج دیتا ہے۔














