انڈونیشیا کے کاپی رائٹ قانون میں بڑی تبدیلی، مصنوعی ذہانت سے تیار مواد کو بھی تحفظ ملے گا

جمعہ 17 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انڈونیشیا نے کاپی رائٹ قوانین میں بڑی تبدیلیوں کی تیاری شروع کردی ہے، جس کے تحت مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیے گئے ایسے مواد کو بھی دانشورانہ حقوق دیے جائیں گے جن میں انسانی تخلیقی کردار شامل ہو۔

اگر یہ قانون منظور ہوجاتا ہے تو انڈونیشیا جنوب مشرقی ایشیا کا پہلا ملک بن جائے گا جو اپنے کاپی رائٹ قانون میں مصنوعی ذہانت کو باضابطہ طور پر شامل کرے گا۔ دنیا بھر کی حکومتیں اس وقت مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال اور تخلیقی مواد کے حقوق سے متعلق قوانین پر غور کررہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آن لائن پلیٹ فارمز نے مصنوعی ذہانت کے کم معیار مواد کو فلٹر کرنے کی سہولت دیدی

انڈونیشیا کی وزارت قانون کے دانشورانہ املاک سے متعلق عہدیدار ہرمَنسیاہ سریگر نے تصدیق کی ہے کہ مجوزہ قانون کا مسودہ تیار ہے، جو ملک کے کاپی رائٹ قوانین میں مصنوعی ذہانت کو پہلی بار تسلیم کرے گا۔

مجوزہ قانون کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو سوشل میڈیا مواد کے اقتباسات دوبارہ شائع کرنے اور انہیں مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے استعمال کرنے پر معاوضہ ادا کرنا ہوگا۔ یہ رقم ایک سرکاری نگرانی میں قائم اجتماعی نظام کے ذریعے خبروں کے اداروں تک پہنچائی جائے گی۔

یہ قوانین ویڈیو گیمز، تصاویر، صحافت اور فلموں سمیت مختلف شعبوں کے مواد پر لاگو ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت کے مرہون منت مواد کو میٹا کمپنی کیسے ممتاز رکھے گی؟

رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ مواد کو صرف اسی صورت میں کاپی رائٹ تحفظ ملے گا جب اس میں انسانی تخلیقی کردار موجود ہو، جبکہ مکمل طور پر مصنوعی ذہانت سے تیار کیے گئے مواد کو تحفظ حاصل نہیں ہوگا۔

گوگل نے مجوزہ قانون پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سخت اور وسیع پابندیاں مقامی تخلیق کاروں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، جدت کے عمل کو سست کرسکتی ہیں اور ملک میں ڈیجیٹل شعبے کی سرمایہ کاری کو متاثر کرسکتی ہیں۔

انڈونیشیا کی یہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی معیشت مصنوعی ذہانت کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے مختلف پروگرامز میں اسے شامل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

انڈونیشیا ان 29 ممالک میں شامل ہے جنہوں نے شنگھائی میں مصنوعی ذہانت کے عالمی نظم و نسق اور تعاون کے لیے بین الحکومتی ادارہ قائم کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

دوسری جانب یورپی یونین کے مصنوعی ذہانت قانون کا مقصد تصاویر، ویڈیوز اور دیگر مواد میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی واضح نشاندہی کرنا ہے، تاہم بعض فنونِ لطیفہ کے کاموں کو استثنیٰ دیا گیا ہے۔

امریکا اور سنگاپور کے کاپی رائٹ قوانین میں فی الحال مصنوعی ذہانت کا واضح ذکر موجود نہیں، تاہم وہاں کے متعلقہ ادارے واضح کرچکے ہیں کہ کاپی رائٹ تحفظ کے لیے انسانی تخلیقی اختیار ضروری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان نے جی ایس پی پلس وعدوں پر عملدرآمد اور سماجی تحفظ میں تاریخی پیشرفت کی، یورپی یونین

 نیٹ فلکس کے شیئرز میں 9 فیصد سے زیادہ کمی، سرمایہ کاروں کو تشویش لاحق

دہشتگردی اور لاقانونیت کا راستہ اختیار کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں، انتخابی قافلے پر حملے کے بعد تنویر الیاس کا بیان

’ملٹی ٹاسکنگ‘: دیپیکا پڈوکون امید سے ہونے کے باوجود شوٹنگ میں مصروف، ڈیڑھ سالہ بیٹی کی بھی دیکھ بھال

پاکستان آؤں تو بریانی اور کڑاہی ملے گی؟ جنوبی کورین میوزک گروپ کے سوال نے مداحوں کے دل جیت لیے

ویڈیو

کرکٹ کا سنہری باب بند، پاکستان کیخلاف 365 رنز بنانے والے عظیم آل راؤنڈر سر گیری سوبرز انتقال کر گئے

سہیل آفریدی کی پولیس، غنڈہ راج عروج پر، کابینہ میں ردوبدل حقیقت یا پروپیگنڈا؟ عوام پر پیٹرول بم گرنے کو تیار

چین سے 3گنا زیادہ قیمت پر گیس کی خریداری، اسلام آباد بمقابلہ پنجاب، گندم اور آٹا عوام کی پہنچ سے باہر، مہنگائی ایران جنگ پر نہ ڈالیں

کالم / تجزیہ

کیا موساد نےسابق ایرانی صدر کو آلہ کار بنا لیا تھا؟

ہمارا جھوٹ اور ان کا جھوٹ

دھڑکتے دل کا فون