کشکول کی تیاری

ہفتہ 18 جولائی 2026
author image

شبیر سومرو

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خود کو کشکول بنائے ہوئے بیٹھے ہیں

ہم جہاں بھر کے ستائے ہوئے بیٹھے ہیں

کشکول فقیروں، ملنگ بابوں اور درویشوں کا واحد اور ‘ملٹی پرپز’ برتن ہوتا ہے، جس میں وہ بھیک میں ملنے والا کھانا، پانی یا مشروب وغیرہ لیتے اور استعمال کرتے ہیں۔

کشکول ماضی میں کدو کی ایک خاص قسم کو سکھا کر بنایا جاتا تھا، مگر کدو کی وہ قسم اب معدوم ہو رہی ہے۔

کدو کے علاوہ یہ ‘برتن’ ایک خاص قسم کے بڑے ناریل کے خول سے بنایا جاتا ہے، جو نارجیلِ دریائی (Coco-de-Mer) کہلاتا ہے۔ اسے ڈبل ناریل بھی کہتے ہیں، کیوں کہ یہ پھل 2 حصوں میں تقسیم ہوتا ہے اور اتنا بڑا ہوتا ہے کہ اس کے دونوں حصوں سے ایک ایک کشکول بن جاتا ہے۔

مگر دونوں درخت، یعنی وہ خاص کدو اور نارجیلِ دریائی ہر جگہ نہیں پائے جاتے، اس لیے کشکول اب مختلف دھاتوں سے بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔

نارجیلِ دریائی سے بنے کشکول کی ایک خوبی، جو اسے قیمتی بناتی ہے، وہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اگر اس میں زہریلا مشروب یا کھانا ڈالا جائے تو اس کا رنگ تبدیل ہو کر سبز ہو جاتا ہے۔

جزائرِ مالدیپ اور سی شیلز کے باشندے بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ نارجیل کا خول معجزاتی طبی اثرات کا حامل ہوتا ہے۔ اس سے بنے پیالے یا کشکول میں اگر زہریلا کھانا یا مشروب ڈالا جائے، تو ایک تو کھانے یا مشروب کے رنگ بدلنے سے یہ ظاہر ہو جاتا ہے کہ اس میں زہر ملا ہوا ہے… واللہ اعلم بالصواب۔

‘کشکول’ لفظ فارسی زبان کا ہے۔ فارسی بولنے والے اس لفظ کو ادا کرتے ہوئے دوسرے کاف پر پیش دیتے ہیں، جب کہ ہم اردو، سندھی اور دیگر زبانیں بولنے والے دوسرے کاف پر پیش نہیں دیتے اور اس لفظ کو بَر وزنِ ‘مول’ اور ‘تول’ بولتے ہیں۔

کشکول کے معنی ویسے تو عالم آشکار ہیں، مگر پھر بھی یہاں بتانے میں کوئی ہرج نہیں۔ اس کے معنی بھیک مانگنے کا پیالہ یا ‘کاسہِ گدائی’ ہے، جو فقیروں اور ملنگوں کے پاس ہوتا ہے۔

فارسی میں اس کا ایک اور مطلب ایسی کتاب ہے، جس میں مختلف مضامین یکجا کر دیے گئے ہوں۔ عربی میں نوٹ بک کو بھی کشکول کہتے ہیں۔ ایران میں پہلے درویشوں کے جو کشکول بنتے تھے، ان کے بیرون پر ‘نادِ علی’ اور ‘آیت الکرسی’ کنداں کی جاتی تھی۔

کشکول کچا ‘دان’ (بھیک میں ملنے والا آٹا، چاول) ڈالنے، پکا ہوا کھانا اور سالن وغیرہ لینے اور کہیں بیٹھ کر کھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

کہتے ہیں کہ لفظ کشکول کی اصل ‘کچ کول’ ہے اور کچ کول انہی دو لفظوں ‘کچ’ اور ‘کول’ سے مل کر بنا ہے، جس کے معنی ہیں کچا پیالہ۔ لفظ ‘کچ’ تو باآسانی سمجھ آ سکتا ہے کہ یہ کچا کا اسمِ تصغیر ہے۔

دوسرا لفظ ‘کول’ اور ‘کولا’ سنسکرت میں تالاب کو کہتے ہیں۔ چوں کہ کول یا تالاب میں پانی چاروں طرف سے گھرا ہوا اور محفوظ ہوتا ہے، لہٰذا اس رعایت سے اردو میں بھی بانہوں کے حصار، آغوش اور مٹکے یا گھڑے کو مجازاً ‘کولی’ کہتے ہیں۔

پنجابی زبان میں کٹورا یا پیالہ ‘کولا’ کہلاتا ہے اور اس کی تصغیر ‘کولی’ ہے۔ سندھی زبان میں اچار رکھنے کے مرتبان کو ‘کولا’ کہتے ہیں۔

کشکول میں کھایا پیا تو جا سکتا ہے مگر کچھ پکایا نہیں جا سکتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اسے عوامی زبان میں کچکول کہا گیا اور اسی لفظ میں حرف ‘چ’ بدل کر ‘ش’ ہو گیا ہے۔ اب یہ لفظ کشکول عام ہو گیا ہے۔

جس طرح پختون یا افغان روایات کے مطابق مہمان قہوہ پی کر جب تک پیالی اوندھی کر کے نہیں رکھتا، تب تک میزبان اس میں بار بار قہوہ ڈال کر دیتا رہتا ہے، یہی روایت کشکول استعمال کرنے والے فقیروں اور درویشوں کے طبقے میں بھی پائی جاتی ہے۔

اگر دان میں ملا ہوا کھانا کھا کر ان کی طبیعت سیر ہو جاتی ہے، یعنی پیٹ بھر جاتا ہے، تو وہ کشکول کو اپنے دامن سے صاف کر کے الٹا کر کے رکھ دیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ بس، اب مزید بھوک نہیں ہے!

اس کے علاوہ کہتے ہیں کہ رات کو سونے سے پہلے بھی فقیر لوگ اپنا کشکول دھو کر، صاف کر کے الٹا کر کے رکھتے ہیں۔

گوتم بدھ کا تاریخی کشکول کابل میں ہے

تاریخ میں گوتم بدھ کا عظیم الجثّہ کشکول سب سے زیادہ مشہور ہے۔ بدھ بھکشو آج بھی اپنے ‘مرشد’ کی روایت کو زندہ رکھتے ہوئے اپنے ہاتھ میں جو کشکول رکھتے ہیں، ملنے والی بھیک یا دان اسی میں لیتے ہیں۔

قصے کے مطابق گوتم کو یہ کشکول ‘مہابرہما’ نے تحفتاً دیا تھا۔ جب گوتم نے بدھ گیا میں نروان حاصل کیا تو یہ کشکول پراسرار طور پر گم ہو گیا، جس سے وہ اداس ہو گئے۔

ان کی اداسی دیکھتے ہوئے 4 ہندو دیوتائوں نے انہیں مختلف قیمتی دھاتوں سے بنے 4 کشکول پیش کیے۔ گوتم بدھ نے ان چاروں کو ایک دوسرے میں رکھ دیا تو وہ ایک ہی کشکول میں تبدیل ہو گئے۔

بعد میں مہاتما بدھ نے یہ کشکول بھارت کے علاقے کیسریہ کے بادشاہ لچھوی اور اس کی رعایا کو عطیہ کر دیا تھا۔ یہاں سے یہ کشکول قریبی قصبے ویشالی منتقل کیا گیا، جہاں اس مقصد کے لیے ایک خاص عبادت گاہ تعمیر کی گئی تھی۔

اس کشکول کی موجودگی کی وجہ سے اس قصبے کے دن پھر گئے تھے، جہاں ہر سال ہزاروں بدھ سیاح اس نادر کشکول کی زیارت کے لیے آیا کرتے تھے۔ یہاں یہ 4 یا 5 صدیوں تک نمائش پذیر رہا۔ یہ دیومالائی کہانی مشہور چینی سیاحوں فاہیان اور زوآن زینگ نے بھی اپنے سفرناموں میں شامل کی ہے۔

ویشالی سے مہاتما بدھ کا تاریخی کشکول پشاور منتقل کیا گیا، جو اس زمانے میں ‘پرش پور’ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ پشاور میں یہ 400 عیسوی تک رہا۔ اس دوران ختن کے بادشاہ نے اس کشکول کو اپنے ملک لے جانے کے لیے چڑھائی کی مگر ناکام رہا۔

اس کے ربع صدی بعد گندھارا کے بادشاہ Yu Chi نے اسی مقصد کے لیے حملہ کیا اور کشکول اٹھوا کر گندھارا شہر لے گیا، جس کے مضافات میں آج کا قندھار شہر واقع ہے۔

چند عشرے پہلے یہ کشکول کابل کے عجائب گھر منتقل کیا گیا ہے۔ اس کی ‘دیوار’ کی موٹائی 2 انچ ہے اور اس میں 4 تہیں واضح نظر آتی ہیں، جن کے باعث یہ کہانی سامنے آئی کہ 4 ہندو دیوتائوں نے 4 مختلف کشکول پیش کیے تھے، جنھیں ملا کر مہاتما بدھ نے ایک کر دیا تھا۔

اس کی بیرونی تہہ پر 6 سطروں میں عربی میں عبارتیں کنداں ہیں۔ یہاں یہ سوال بروقت ہو گا کہ بدھ مت کے مقدس برتن پر عربی عبارتیں کیوں اور کیسے ہیں؟ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا خیال ہے کہ یہ عبارتیں بعد میں کھود کر کنداں کی گئی ہیں۔

مہاتما بدھ کا وہ بھاری بھرکم، پتھر سے بنا کشکول جو کابل (افغانستان) کے ایک عجائب گھر میں موجود ہے، اس کے لیے بھارتی حکومت مختلف ادوار میں افغان حکومت کے ساتھ خط و کتابت کرتی رہی ہے کہ گوتم بدھ کا یہ کشکول بھارت کو واپس کیا جائے، مگر افغان حکومت مختلف حیلے بہانے کر کے ٹالتی آ رہی ہے۔

مسیحی دنیا میں بھی کشکول کا استعمال رہا ہے، جس میں مشنری افراد اور پادری وغیرہ جب اپنے دین کی تبلیغ کے لیے سفر پر نکلتے تھے، تو کھانے پینے کے کئی برتن لے جانے کے بجائے ایک کشکول ساتھ لے کر پھرتے تھے۔

ہندو سادھو تو قدیم زمانے سے کشکول اپنے ساتھ رکھتے آ رہے ہیں۔ جہاں تک مسلمان فقیروں، ملنگوں اور درویشوں کے ہاں کشکول کے استعمال کا تعلق ہے تو اس میں کوئی دو رائے نہیں، مگر ہمارے پیارے پاکستان کا معاشی حشر جو حکمرانوں نے کیا ہے، اس کے بعد کشکول ہمارا ‘قومی نشان’ بن چکا ہے۔

ہمارے سیاست دان جب حزبِ اختلاف میں ہوتے ہیں تو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اقتدار میں آ کر ملک کو معاشی قوّت بنا دیں گے اور کشکول توڑ دیں گے، لیکن یہی رہنمایانِ قوم جب حکومت میں آ جاتے ہیں تو پچھلے حکمرانوں سے بھی بڑا کشکول تھام کر عالمی مالیاتی اداروں کے پھیرے لگانا شروع کرتے ہیں اور ان کی شرائط پر کشکول بھر لاتے ہیں۔

انٹرنیٹ پر کشکول کے حوالے سے جتنے بھی کارٹون ملتے ہیں، ان میں سے اکثر و بیشتر ہمارے ملک اور یہاں کے حکمرانوں سے متعلق ہیں۔ ان میں ہمارے صاحبانِ اقتدار کشکول تھامے کبھی امریکا تو کبھی آئی ایم ایف کے آگے کھڑے نظر آتے ہیں۔

مگر اس ‘کشکول برداری’ کا آخری حتمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ملک کے غریب عوام کے ہاتھوں میں آٹے دال کے حصول کے لیے کشکول ہوتا ہے!

کشکول کا استعمال تو صدیوں سے جاری ہو گا، مگر میڈیا میں اس کے نظر آنے کے اوّلین شواہد 1878 میں ملتے ہیں، جب چین کے علاقے تبّت سے متعلق ایک مضمون لندن کے ‘The Cornhill’ میگزین میں شائع ہوا تھا۔

اس مضمون میں ایک اسکیچ بھی شامل تھا، جس میں ایک نوعمر بدھ بھکشو بھیک مانگنے کے مشن پر نکلا ہوا ہے اور ایک بدھ پیروکار اس کے آگے سر بہ سجود ہے، جب کہ ایک خاتون اسے کھانا پیش کر رہی ہے۔ اسکیچ میں بدھ بھکشو کے پاس کشکول موجود ہے۔

شاہ عبداللطیف بھٹائی کا کشکول

شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری کے شارح ہوت چند مول چند گربخشانڑی لکھتے ہیں کہ وہ سفر و حضر میں قرآن پاک، مثنوی مولانا روم اور اپنے سگڑ دادا شاہ کریم بلڑی والے کے کلام کی کتاب ساتھ رکھا کرتے تھے۔

شاہ صاحب کا لباس گیرو رنگی کفنی ہوتا تھا، سر پہ کلاہ رکھتے تھے، جس کے اوپر سیاہ کپڑے کی پگڑی بھی باندھتے تھے۔ ان کے ایک ہاتھ میں بڑا عصا ہوا کرتا تھا اور دوسرے ہاتھ میں ایک کِستا (کشکول) ہوتا تھا، جس میں کھایا پیا کرتے تھے۔ ان کے یہ نوادرات آج بھی بھٹ شاہ میں شاہ سائیں کے فقیروں کے پاس محفوظ ہیں۔

انسانی خواہش اور لالچ کا کشکول کبھی نہیں بھرتا

یہ داستان ایک بادشاہ اور ایک فقیر سے متعلق ہے۔ ایک دن وہ فقیر بادشاہ کے دربار میں آ کر کھڑا ہوتا ہے تو بادشاہ اس سے پوچھتا ہے: ‘تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟’

فقیر طنزیہ انداز میں کہتا ہے کہ ’بادشاہ سلامت! میں ہمیشہ مالک سے مانگنا پسند کرتا ہوں، مالک کے نوکر سے نہیں۔ اور آپ اس مالک کے نوکر ہو کر اس طرح بات کر رہے ہیں، جیسے میری ضرورت پوری کرنا آپ کے بس میں ہو!’

اس پر بادشاہ جواب دیتا ہے: ‘ہاں، میں تمھاری ضرورت پوری کروں گا۔ تم بولو تو سہی۔’

اس پر فقیر اپنا کشکول آگے کر کے بولتا ہے۔

‘تو پھر آپ میرے اس کشکول کو بھر دیجیے۔’

بادشاہ وزیر کو حکم دیتا ہے کہ فقیر کا کشکول پیسوں سے بھر دیا جائے۔ وزیر کافی سارے پیسے منگوا کر کشکول میں ڈال دیتا ہے، مگر حیرت کی بات یہ ہوتی ہے کہ وہ تمام پیسے کشکول میں جا کر غائب ہو جاتے ہیں۔

وزیرِ باتدبیر مزید دولت منگوا کر ڈالتا ہے مگر وہ بھی گم ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد بادشاہ کے حکم پر قیمتی جواہرات اور سونا وغیرہ فقیر کے کشکول میں ڈالا جاتا ہے، مگر ان سب کا حشر بھی وہی ہوتا ہے۔ کشکول میں گئی ہر چیز غائب ہو جاتی ہے۔

اب تو بادشاہ کے لیے یہ انا کا مسئلہ بن جاتا ہے کہ ایک معمولی فقیر کا چھوٹا سا کشکول بھی وہ نہیں بھر سکتا! وہ احکامات جاری کرتا ہے کہ سرکاری خزانے میں جو بھی چیزیں موجود ہیں، سب لا کے اس کشکول میں ڈالی جائیں تاکہ یہ بھر جائے۔

احکامات پر عمل کیا جاتا ہے مگر نتیجہ وہی حسبِ سابق نکلتا ہے اور کشکول خالی ہی رہتا ہے! اب بادشاہ کے پاس کوئی قیمتی چیز نہیں رہتی جو وہ فقیر کے کشکول میں ڈلواتا۔ اس کی انا ٹوٹ چکی ہوتی ہے۔

وہ فقیر کے سامنے جھک جاتا ہے اور کہتا ہے کہ ’اب تو میں بھی تمھارے جیسا فقیر بن گیا ہوں۔ تم بے شک وہ سب لے جاؤ، جو میں نے تمھارے اس کشکول میں دلوایا ہے۔

مجھے صرف ایک سوال کا جواب دیتے جاؤ کہ تمہارے پاس کیا جادو ہے اور یہ کشکول آخر کس چیز کا بنا ہوا ہے، جس میں جانے والی ہر چیز گم ہو جاتی ہے؟’

فقیر سکون سے جواب دیتا ہے کہ ’میرے پاس کوئی جادو نہیں… اور جہاں تک اس کشکول کی بات ہے تو یہ اصل میں انسانی خواہش، لالچ اور ہَوَس سے بنا ہوا ہے… جن کی کوئی تھاہ نہیں۔’

اللہ بس… باقی ہَوَس!

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی وژن 2030 کے تحت پاکستانی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کا نیا راستہ، اہم تجارتی معاہدے کرلیے گئے

روس کا کیف پر اب تک کا سب سے بڑا بیلسٹک میزائل حملہ، 2 ہلاک، 16 زخمی

K-4 منصوبہ 2029 تک مؤخر، منعم ظفر خان کا وزیراعظم کو احتجاجی خط، فوری فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ

فیس بک اور انسٹاگرام کی سروسز متاثر، پاکستان سمیت مختلف ممالک کے صارفین کو مشکلات کا سامنا

ورلڈ کپ 2026: اسپین اور ارجنٹینا کے درمیان فائنل، فاتح ٹیم کو کتنی انعامی رقم ملے گی؟

ویڈیو

اردن میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد واشنگٹن کی ایران پر شدید بمباری، تہران کا انتقام کا اعلان، خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی

’محدود بجٹ میڈیا انڈسٹری کے لیے بڑا چیلنج بن گیا‘

نہال ہاشمی سے عالمی شہرت یافتہ باکسر عامر خان کی ملاقات، جدید باکسنگ اکیڈمی کے قیام کی خواہش کا اظہار

کالم / تجزیہ

ایک اور تحریک وکلا: ہماری توبہ، ہمیں معاف رکھیں

گیری سوبرز: ایک بے بدل کرکٹر کو الوداع

فیفا کے سنہرے جوتوں کی الف لیلیٰ