امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے K-4 منصوبے کی تکمیل میں مزید تاخیر پر وزیراعظم کو احتجاجی خط لکھتے ہوئے منصوبے کے لیے فوری فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساڑھے 3 کروڑ آبادی والا کراچی پانی کے شدید بحران کا شکار ہے اور شہر مزید انتظار کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان نے K-4 منصوبے کی تکمیل کی مدت دسمبر 2029 تک مؤخر کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کو ارسال کیے گئے احتجاجی خط میں کہا کہ کراچی ملک کی معیشت کا سب سے بڑا مرکز ہونے کے باوجود پینے کے صاف پانی سے محروم ہے، جبکہ وفاق اور سندھ حکومت اس اہم منصوبے پر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہیں۔

منعم ظفر خان نے کہا کہ K-4 منصوبے کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے لیے تقریباً 40 ارب روپے درکار ہیں، مگر گزشتہ سال صرف 3.2 ارب روپے اور رواں مالی سال میں محض 8 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے ناکافی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کے نزدیک K-4 واقعی ترجیحی منصوبہ ہے تو مطلوبہ فنڈز فوری طور پر جاری کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ K-4 میں تاخیر کے باعث کراچی میں پانی کا بحران مزید سنگین ہو چکا ہے اور شہری مہنگے داموں ٹینکر مافیا سے پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ ان کے بقول ملک کے ریونیو کا تقریباً 50 فیصد فراہم کرنے والا شہر بنیادی ضرورت یعنی پانی سے محروم ہے، جو کراچی کے ساتھ ناانصافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:شادی سے وقت مل گیا ہو تو وزیراعظم کراچی پر بھی کچھ توجہ دیں، امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر
امیر جماعت اسلامی کراچی نے مطالبہ کیا کہ K-4 منصوبے کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے لیے تمام درکار فنڈز رواں سال ہی فراہم کیے جائیں تاکہ منصوبہ جلد مکمل ہو سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اس معاملے پر فوری عملی اقدامات نہ کیے تو جماعت اسلامی کراچی عوام کے ساتھ مل کر احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام کو وعدے نہیں بلکہ پانی چاہیے، اس لیے وفاق فوری طور پر عملی اقدامات کرے۔














