روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر ایک بار پھر شدید فضائی حملے کیے ہیں۔ یوکرینی حکام کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد ایک ہی رات میں داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کی یہ سب سے بڑی تعداد تھی۔
یوکرین کی وزارت خارجہ کے مطابق اتوار کی صبح ہونے والے کئی گھنٹوں پر محیط حملوں میں کم از کم ایک شخص ہلاک جبکہ 16 افراد زخمی ہوئے۔ حملوں سے کیف کے 6 مختلف اضلاع متاثر ہوئے اور متعدد رہائشی و تجارتی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
مزید پڑھیں: فیس بک اور انسٹاگرام کی سروسز متاثر، پاکستان سمیت مختلف ممالک کے صارفین کو مشکلات کا سامنا
یوکرین کی اسٹیٹ ایمرجنسی سروس کے مطابق میزائل حملوں کے نتیجے میں رہائشی مکانات، دفاتر، صنعتی تنصیبات، ایک ہاسٹل اور کئی گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ سویاتوشنسکی ضلع میں ریسکیو اہلکاروں نے جلتے ہوئے ایک گھر سے 4 افراد کو بحفاظت نکالا، جبکہ شیوچینکیفسکی ضلع میں 3 منزلہ عمارت میں پھنسے رہائشیوں کو بھی بچایا گیا۔ بعد ازاں ایک عمارت سے ایک شخص کی لاش برآمد ہوئی۔
The coward in Moscow, who is afraid to meet with President Zelenskyy to end the war, continues to wage a war against civilians.
Russia unleashed the largest number of ballistic missiles since the start of the war — around four dozen — in a brutal terrorist attack on the… pic.twitter.com/pqmwwlq7cX
— Andrii Sybiha 🇺🇦 (@andrii_sybiha) July 19, 2026
کیف کے علاوہ روسی ڈرون حملوں میں وسطی یوکرین کے دنیپروپیٹروسک علاقے میں بھی ایک شخص ہلاک ہوگیا، جبکہ زاپوریژیا میں ایک مسافر ٹرین کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ٹرین کا کنڈکٹر جان سے گیا۔
یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے حملوں کو یوکرین کے دارالحکومت پر وحشیانہ دہشتگرد حملہ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے ماسکو پر مزید سخت دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روسی حملوں کو روکنے کے لیے مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات ناگزیر ہیں۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس نے رات بھر میں 41 میزائل داغے، جن میں سے 18 کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے تباہ کر دیا گیا، تاہم باقی میزائل مختلف اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔
ادھر یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے بحیرہ اسود میں 2 روسی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے، جس کا مقصد روس کے زیر قبضہ کریمیا تک ایندھن اور رسد کی ترسیل کو متاثر کرنا ہے۔
مزید پڑھیں:روس نے افغانستان میں پولیو اور شیر خوار بچوں کی اموات پر خطرے کی گھنٹی بجا دی
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ امریکا یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل انٹرسیپٹرز مقامی سطح پر تیار کرنے کے لیے لائسنس دینے پر آمادہ ہے، تاہم اس منصوبے کی تفصیلات اور ٹائم لائن ابھی واضح نہیں۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ بیلسٹک میزائلوں سے دفاع اس وقت یوکرین کی اولین ترجیح ہے اور ملک کو روزانہ کی بنیاد پر جدید فضائی دفاعی نظام اور انٹرسیپٹر میزائلوں کی ضرورت ہے۔














