وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری صرف مقامی نہیں بلکہ عالمی کاروباری مواقع فراہم کرتی ہے، جبکہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کو آئندہ سال عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی لیول تھری منظوری ملنے کے بعد پاکستانی ادویات کے لیے دنیا کے 100 نئے ممالک کی منڈیاں کھل جائیں گی۔ انہوں نے چینی سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے اس سنہری موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اسلام آباد میں پاک چین بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری صرف ملک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی منڈیوں تک رسائی کا ذریعہ بنتی ہے، اس لیے موجودہ حالات میں سرمایہ کاری کے لیے پاکستان سے بہتر موقع کم ہی ملے گا۔
یہ بھی پڑھیں:ویکسین کی مقامی تیاری میں انڈونیشیا پاکستان کا ’کلیدی شراکت دار بن گیا، مصطفیٰ کمال
انہوں نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) اس وقت عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی لیول ٹو منظوری کی حامل ہے، جبکہ تمام ضروری تقاضے تقریباً مکمل کیے جا چکے ہیں اور توقع ہے کہ آئندہ سال 2027 میں پاکستان کو ڈبلیو ایچ او لیول تھری ایکریڈیٹیشن حاصل ہو جائے گی۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ لیول تھری منظوری ملتے ہی پاکستانی ادویات کو دنیا کے تقریباً 100 نئے ممالک کی منڈیوں تک رسائی حاصل ہو جائے گی، جس سے ملکی دواسازی کی صنعت، برآمدات اور سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
وفاقی وزیر صحت نے پاکستانی اور چینی کاروباری برادری سے کہا کہ وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور کاروباری شراکت داری کو عملی شکل دیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز متعدد مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط ہوئے اور آج بھی کئی معاہدے متوقع ہیں، تاہم اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب یہ معاہدے عملی منصوبوں میں تبدیل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ نے ایف آئی اے سے جعلی ادویات کیس کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا
انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری صرف معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ ان پر عمل درآمد کو یقینی بنانا بھی ہے۔ حکومت سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی، رکاوٹیں دور کرے گی اور کاروبار میں آسانیاں پیدا کرے گی، تاہم ان کے کاروباری معاملات میں غیر ضروری مداخلت نہیں کی جائے گی بلکہ سہولت کار کا کردار ادا کیا جائے گا۔
مصطفیٰ کمال نے کانفرنس میں شریک چینی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پاک چین اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے نئے منصوبے دونوں ممالک کی دوستی اور معاشی شراکت داری کو مزید مستحکم کریں گے۔














