پاکستان اور انڈونیشیا نے صحت کے شعبے میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے اور مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کے لیے مشترکہ اقدامات اٹھانے کا بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔
یہ اہم فیصلہ جنیوا میں منعقدہ ایک بین الاقوامی تقریب کے موقع پر پاکستان کے وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال اور ان کے انڈونیشین ہم منصب کے درمیان ہونے والی ایک اعلیٰ سطح کی ملاقات میں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو کن چیلنجز کا سامنا ہوگا؟
ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، طبی شعبے میں اصلاحات اور دونوں ممالک کے عوام کو صحت کی جدید سہولیات کی فراہمی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ویکسین سازی اور انڈونیشیا کی ٹیکنالوجی کا حصول
ملاقات کے دوران وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے انڈونیشین ہم منصب کو پاکستان میں مقامی طور پر ویکسین سازی کے شعبے میں ہونے والی حالیہ پیشرفت اور حکومتی اقدامات سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔
انہوں نے پاکستان اور انڈونیشیا کے مابین دیرینہ اور مضبوط برادرانہ تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان میں مستقبل کی طبی ضروریات کو پورا کرنے اور وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری ناگزیر ہو چکی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے انڈونیشیا ہمارا ’لیڈنگ پارٹنر‘ یعنی کلیدی شراکت دار ہے۔‘
وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان فارماسیوٹیکل اور بائیو ٹیکنالوجی کے میدان میں انڈونیشیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی، مہارت اور وسیع تجربات سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا خواہشمند ہے تاکہ ملک کو اس شعبے میں خود کفیل بنایا جا سکے۔
انڈونیشیا کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی
اس موقع پر انڈونیشیا کے وزیرِ صحت نے پاکستان کے اقدامات کو سراہتے ہوئے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’انڈونیشیا پاکستان میں ویکسین کی تیاری، تحقیق اور مقامی ماہرین کی استعداد کار (کپیسٹی بلڈنگ) کو بڑھانے کے لیے اپنے تمام تر وسائل اور تکنیکی تعاون فراہم کرے گا۔‘
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے باعث ملک میں ادویات اور فارمولا دودھ کی قلت کا خدشہ
انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ دونوں مسلم ممالک صحت کے شعبے میں موجود چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھیں گے اور دونوں ممالک کے عوام کو جدید، معیاری، محفوظ اور مؤثر طبی سہولیات کی سستی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مل کر کام جاری رکھیں گے۔
مستقبل کا لائحہ عمل
واضح رہے کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے مابین صحت کے شعبے میں یہ تعاون ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر ہیلتھ سیکیورٹی اور سستی ادویات کی فراہمی کو بنیادی اہمیت حاصل ہو چکی ہے۔
جنیوا میں ہونے والی اس ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے تکنیکی ماہرین کی سطح پر جلد ہی ورکنگ گروپس تشکیل دیے جائیں گے، جو ویکسین مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے معاہدوں کو حتمی شکل دیں گے، جس سے نہ صرف پاکستان کی درآمدی ویکسینز پر انحصار کم ہوگا بلکہ ملکی زرمبادلہ کی بھی بچت ہوگی۔














