سپریم کورٹ نے جعلی ادویات بنانے اور بیرون ملک بھجوانے کے الزام میں نامزد ملزمان کی قبل از گرفتاری ضمانتوں میں آئندہ سماعت تک توسیع کرتے ہوئے ایف آئی اے سے کیس کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا۔
دوسری جانب عدالت نے ڈریپ کے وکیل کو ملزمان کے خلاف مزید شواہد پیش کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس ملک شہزاد اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے ضیا خالد سمیت 3 ملزمان کی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کو جعلی و غیرمعیاری ادویات سے پاک کرنے کے پروگرام کی منظوری
دوران سماعت ڈریپ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان جعلی ادویات تیار کرکے بیرون ممالک بھجوا رہے تھے، جبکہ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اقوام متحدہ نے بھی ان ادویات کے حوالے سے تحریری طور پر آگاہ کیا تھا۔
سماعت کے دوران جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ ہر روز جعلی ادویات کی وجہ سے لوگ مرتے ہیں، کسی کو یہ لائسنس نہیں دیا جا سکتا کہ جعلی ادویات بنائے اور لوگوں کو مارتا پھرے۔
ملزمان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکلوں کا متعلقہ کمپنی سے کوئی تعلق نہیں، نہ کمپنی کی ملکیت ان کے نام ہے اور نہ ہی کوئی رینٹ ایگریمنٹ موجود ہے۔
مزید پڑھیں: پشاور: کوریئر کمپنی سے جعلی ادویات کی بڑی کھیپ پکڑی گئی
اس پر جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیے کہ گلی کوچوں میں تو فارماسیوٹیکل کمپنی نہیں ہو سکتی، ادویات بن رہی تھیں، کوئی چارپائی تو نہیں بن رہی تھی جو بغیر اجازت تیار کی جا سکے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ڈریپ کے وکیل کوملزمان کے خلاف مزید شواہد پیش کرنے کی ہدایت کی۔
جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ ملزمان یہ بھی بتائیں کہ اگر ان کا کوئی تعلق نہیں تو ڈریپ نے ان کے خلاف مقدمہ کیوں بنایا۔
عدالت نے ملزمان کی عبوری ضمانتوں میں آئندہ سماعت تک توسیع کرتے ہوئے ایف آئی اے سے کیس کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا اور ہدایت کی کہ مقدمے کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔














