فٹبال میں گول ہی فتح کی زبان ہوتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جو ایک میچ کا رخ بدل دیتا ہے، کروڑوں شائقین کو خوشی سے جھومنے پر مجبور کر دیتا ہے اور کسی کھلاڑی کو ہمیشہ کے لیے تاریخ کا حصہ بنا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فیفا ورلڈکپ جیسے عظیم ترین مقابلے میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی کو گولڈن بوٹ (Golden Boot) سے نوازا جاتا ہے، جو عالمی فٹبال کے معتبر ترین انفرادی اعزازات میں شمار ہوتا ہے۔
یہ اعزاز صرف زیادہ گول کرنے والے اسٹرائیکر کی شناخت نہیں، بلکہ اس کی مستقل مزاجی، دباؤ میں بہترین کارکردگی اور اپنی ٹیم کو کامیابی کی راہ پر گامزن کرنے میں کلیدی کردار کا اعتراف بھی ہے۔ کئی عظیم فٹبالرز نے ورلڈ کپ کی ٹرافی تو نہ جیتی، مگر گولڈن بوٹ نے انہیں فٹبال کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔
گولڈن بوٹ کی ابتدا
اگرچہ فیفا ورلڈ کپ کا آغاز 1930 میں ہوا، تاہم کئی دہائیوں تک سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی کو محض ’ٹاپ اسکورر‘ کے طور پر تسلیم کیا جاتا تھا۔ باقاعدہ انفرادی اعزاز کا آغاز 1982 کے اسپین ورلڈ کپ میں ہوا، جب فیفا نے پہلی مرتبہ گولڈن شو (Golden Shoe) متعارف کرایا۔ بعد ازاں 2010 میں اس کا نام تبدیل کرکے گولڈن بوٹ (Golden Boot) رکھ دیا گیا، جبکہ دوسرے اور تیسرے بہترین گول اسکوررز کے لیے بالترتیب سلور بوٹ اور برونز بوٹ کے اعزازات بھی متعارف کرائے گئے۔
فاتح کا انتخاب کیسے ہوتا ہے؟
گولڈن بوٹ اس کھلاڑی کو دیا جاتا ہے جو پورے ورلڈکپ میں سب سے زیادہ گول اسکور کرے۔ اگر 2 یا زیادہ کھلاڑی برابر گول کریں تو سب سے پہلے اسسٹ (Assist) کی تعداد دیکھی جاتی ہے، یعنی کس کھلاڑی نے اپنے ساتھیوں کو گول کرنے کے زیادہ مواقع فراہم کیے۔
اگر اسسٹ بھی برابر ہوں تو پھر میدان میں گزارے گئے کم وقت کو معیار بنایا جاتا ہے۔ جس کھلاڑی نے کم منٹ کھیل کر اتنے ہی گول کیے ہوں، وہ فاتح قرار پاتا ہے۔ اس طریقۂ کار کو 1994 کے بعد مزید مؤثر بنایا گیا اور 2006 میں اسے باقاعدہ واضح کیا گیا تاکہ ممکنہ حد تک مشترکہ فاتح سے بچا جا سکے۔
گولڈن بوٹ جیتنے والے عظیم نام
فیفا ورلڈ کپ کی گولڈن بوٹ صرف ایک انفرادی اعزاز نہیں بلکہ ان عظیم اسٹرائیکرز کی غیر معمولی صلاحیتوں کی گواہ بھی ہے جنہوں نے اپنی شاندار گول اسکورنگ سے دنیا بھر کے شائقین کو مسحور کیا۔ اس اعزاز کے فاتحین میں ایسے بے مثال نام شامل ہیں جو بعد ازاں فٹبال کی تاریخ کے روشن ترین ستارے بنے۔
ان میں اٹلی کے پاؤلو روسی (Paolo Rossi)، انگلینڈ کے گیری لائنیکر (Gary Lineker)، اٹلی کے سالواتورے شلاچی (Salvatore Schillaci)، برازیل کے رونالڈو (Ronaldo Nazário)، جرمنی کے میروسلاو کلوسے (Miroslav Klose) اور تھامس مولر (Thomas Müller)، کولمبیا کے خامیس روڈریگیز (James Rodríguez)، انگلینڈ کے ہیری کین(Harry Kane) اور فرانس کے کیلیان ایمباپے (Kylian Mbappé) نمایاں ہیں۔
تاہم کئی مواقع پر گولڈن بوٹ کا فاتح عالمی چیمپیئن نہیں بن سکا۔ یہی حقیقت اس اعزاز کی انفرادیت کو مزید نمایاں کرتی ہے، کیونکہ یہ اجتماعی کامیابی کے بجائے ایک کھلاڑی کی غیر معمولی کارکردگی کا اعتراف ہوتا ہے۔
دوسری جانب ارجنٹینا کے لیونل میسی (Lionel Messi) اگرچہ 2 مرتبہ فیفا ورلڈ کپ (2014 اور 2022) کے بہترین کھلاڑی (گولڈن بال) کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں، تاہم وہ ورلڈ کپ میں کبھی گولڈن بوٹ (ٹاپ اسکورر) کا اعزاز حاصل نہیں کر سکے۔
پرتگال کے عظیم فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو (Cristiano Ronaldo) کے نام ایک منفرد اعزاز ہے کہ وہ فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں 6 مختلف ایڈیشنز (2006، 2010، 2014، 2018، 2022 اور 2026) میں گول کرنے والے پہلے مرد فٹبالر بن گئے، تاہم وہ اپنے طویل ورلڈ کپ کیریئر میں کبھی بھی ٹورنامنٹ کے ٹاپ اسکورر نہیں بن سکے اور نہ ہی گولڈن بوٹ کا اعزاز اپنے نام کر سکے۔
فیفا ورلڈ کپ کے عظیم گول اسکوررز اور ناقابلِ شکست ریکارڈز
فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ ایسے عظیم اسٹرائیکرز سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اپنی غیر معمولی گول اسکورنگ سے عالمی فٹبال پر انمٹ نقوش چھوڑے۔ 1930 کے پہلے ورلڈکپ میں ارجنٹینا کے گیلرمو اسٹیبیلے(Guillermo Stábile) نے صرف 4 میچوں میں 8 گول کرکے پہلے ٹاپ اسکورر کا اعزاز حاصل کیا۔
1934 میں اٹلی کے اینجلو شیاویو (Angelo Schiavio) اور 1938 میں برازیل کے لیونیداس (Leônidas da Silva) نے اپنی شاندار کارکردگی سے دنیا بھر کے شائقین کو متاثر کیا۔
1954 میں ہنگری کے عظیم اسٹرائیکر سینڈور کوچِش (Sándor Kocsis) نے 11 گول کیے، مگر صرف 4 برس بعد ژوست فونتین (Just Fontaine) نے 13 گول کرکے ایسا ریکارڈ قائم کیا جس کی تفصیل آگے بیان کی جا رہی ہے۔
ژوست فونتین: ایک لازوال داستان
1958 کے سویڈن ورلڈکپ میں فرانس کے کھلاڑی ژوست فونتین (Just Fontaine) نے صرف 6 میچوں میں 13 گول اسکور کرکے ایسا عالمی ریکارڈ قائم کیا جو قریباً 7 دہائیاں (68 سال) گزرنے کے باوجود آج بھی ناقابلِ شکست ہے۔ انہوں نے پیراگوئے کے خلاف ہیٹ ٹرک (3 گول)، یوگوسلاویہ اور اسکاٹ لینڈ کے خلاف دو، 2 گول کیے۔
پھر کوارٹر فائنل میں شمالی آئرلینڈ کے خلاف ایک، سیمی فائنل میں برازیل کے خلاف ایک اور تیسری پوزیشن کے میچ میں مغربی جرمنی کے خلاف 4 گول داغ کر اپنے مجموعی گولوں کی تعداد 13 تک پہنچا دی۔
یہ صرف ایک ریکارڈ نہیں بلکہ ورلڈ کپ کی تاریخ کا ایسا سنگِ میل ہے جس تک بعد کے عظیم ترین اسٹرائیکرز بھی نہیں پہنچ سکے۔
1962 میں برازیل کے گارینشا (Garrincha)، ویوا (Vavá) اور چند دیگر کھلاڑی مشترکہ طور پر ٹاپ اسکورر رہے، جبکہ 1966 میں پرتگال کے لیجنڈ یوسیبیو (Eusébio) نے 9 گول کرکے دنیا بھر میں اپنی دھاک بٹھا دی۔ 1970 میں مغربی جرمنی کے شہرۂ آفاق اسٹرائیکر گیرڈ مولر (Gerd Müller) نے 10 گول اسکور کیے اور اپنے عہد کے خطرناک ترین فارورڈز میں شمار ہونے لگے۔
1982 میں اٹلی کے پاؤلو روسی (Paolo Rossi) نے 6 گول کرکے نہ صرف گولڈن بوٹ اپنے نام کیا بلکہ اپنی ٹیم کو عالمی چیمپیئن بھی بنایا۔ 1986 میں انگلینڈ کے گیری لائنیکر (Gary Lineker) اور 1990 میں اٹلی کے سالواتورے شلاچی (Salvatore Schillaci) نے بھی اپنی غیر معمولی کارکردگی سے گولڈن بوٹ حاصل کیے۔
1994 جب گولڈن بوٹ کے 2 فاتح سامنے آئے
1994 کا ورلڈ کپ گولڈن بوٹ کی تاریخ کا منفرد ترین ٹورنامنٹ ثابت ہوا۔ روس کے اولیگ سالینکو (Oleg Salenko) اور بلغاریہ کے ہرسٹو اسٹوئچکوف (Hristo Stoichkov) چھ، 6 گول کرکے مشترکہ طور پر ٹاپ اسکورر قرار پائے۔
سالینکو نے اپنے 6 میں سے 5 گول صرف ایک ہی میچ میں کیمرون کے خلاف داغے، جو آج بھی ورلڈ کپ کے ایک میچ میں کسی ایک کھلاڑی کی جانب سے سب سے زیادہ گول کرنے کا ریکارڈ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شاندار کارکردگی کے باوجود روس گروپ مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکا۔
دوسری جانب اسٹوئچکوف نے اپنے 6 گول پورے ٹورنامنٹ میں مختلف مراحل پر کیے اور بلغاریہ کو پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک پہنچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ بعد ازاں فیفا نے ٹائی بریکر کے قوانین مزید مؤثر بنائے تاکہ آئندہ ممکنہ حد تک ایک ہی گولڈن بوٹ فاتح کا انتخاب کیا جا سکے۔
1998 میں کروشیا کے ڈاوور شوکر (Davor Šuker)، 2002 میں برازیل کے رونالڈو (Ronaldo Nazário)، 2006 میں جرمنی کے میروسلاو کلوسے (Miroslav Klose)، 2010 میں تھامس مولر (Thomas Müller)، 2014 میں کولمبیا کے خامیس روڈریگیز (James Rodríguez)، 2018 میں انگلینڈ کے ہیری کین (Harry Kane) اور 2022 میں فرانس کے کیلیان ایمباپے(Kylian Mbappé) گولڈن بوٹ کے فاتح بنے۔
ان تمام عظیم کھلاڑیوں نے ثابت کیا کہ ورلڈ کپ میں چند یادگار لمحات بھی کسی فٹبالر کو ہمیشہ کے لیے تاریخ کا حصہ بنا سکتے ہیں، مگر ایک ہی ٹورنامنٹ میں 13 گول کرنے کا ژوست فونتین کا ریکارڈ آج بھی عالمی فٹبال کی سب سے بلند چوٹی کی حیثیت رکھتا ہے۔
2026 ورلڈ کپ میں گولڈن بوٹ کی فیصلہ کن دوڑ
فیفا ورلڈکپ 2026 اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہوچکا ہے اور اب صرف فائنل اور تیسری پوزیشن کے میچ باقی ہیں۔ عالمی چیمپیئن کی طرح گولڈن بوٹ کی دوڑ بھی اپنے فیصلہ کن مرحلے میں پہنچ چکی ہے۔
فرانس کے کیلیان ایمباپے (Kylian Mbappé) اور ارجنٹینا کے لیونل میسی (Lionel Messi) آٹھ، 8 گول کے ساتھ سرفہرست ہیں، تاہم میسی 4 اسسٹس کے ساتھ ایمباپے کی 3 اسسٹس پر برتری رکھتے ہیں۔ دوسری جانب انگلینڈ کے ہیری کین (Harry Kane) اور جوڈ بیلنگھم (Jude Bellingham) چھ، 6 گول کے ساتھ گولڈن بوٹ کی دوڑ سے باہر لیکن فہرست میں موجود ہیں۔
فرانس اگرچہ سیمی فائنل میں اسپین سے شکست کھا چکا ہے، لیکن ایمباپے کے پاس تیسری پوزیشن کے میچ میں ایک بار پھر اپنی برتری مستحکم کرنے کا موقع ہوگا۔
48 ٹیموں پر مشتمل نئے فارمیٹ نے گول اسکوررز کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ میچ کھیلنے کا موقع ضرور فراہم کیا ہے، مگر اس کے باوجود 1958 میں ژوست فونتین کے ایک ہی ورلڈکپ میں 13 گول کرنے کا عالمی ریکارڈ بدستور قائم ہے۔
گولڈن بوٹ ۔ ۔ ۔ عظمت کی علامت
ورلڈ کپ ہر 4 سال بعد آتا ہے۔ لیکن اس کے کچھ لمحے صدیوں تک یاد رہ جاتے ہیں۔ کوئی ٹیم ٹرافی اٹھا کر امر ہو جاتی ہے اور کوئی اسٹرائیکر اپنے گولوں سے تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنا لیتا ہے۔
گولڈن بوٹ دراصل صرف سنہرے رنگ کا ایک جوتا نہیں، بلکہ اس عزم، مہارت، تسلسل اور جرات کی علامت ہے جو ایک عظیم اسٹرائیکر کو دنیا کے کروڑوں فٹبالرز سے ممتاز بناتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گیلرمو اسٹیبیلے، ژوست فونتین، یوسیبیو، گیرڈ مولر، رونالڈو، میروسلاو کلوسے، ہیری کین اور کیلیان ایمباپے تک ہر فاتح نے اپنے نام کے ساتھ تاریخ کا ایک نیا باب رقم کیا۔
اور شاید یہی گولڈن بوٹ کی اصل کشش بھی ہے۔ ہر 4 سال بعد دنیا ایک نئے ہیرو کی تلاش میں ہوتی ہے، نئے ریکارڈ بنتے ہیں، نئے ستارے جنم لیتے ہیں، مگر ژوست فونتین کے 13 گول آج بھی عالمی فٹبال کی ایک ایسی فلک بوس چوٹی ہیں جس تک پہنچنا ہر عظیم اسٹرائیکر کا خواب تو ہے، مگر حقیقت اب تک نہیں بن سکا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













