پارلیمنٹ مارچ سے قبل سونم وانگچک کا پیغام، ’غیرقانونی حراست‘ کا دعویٰ

اتوار 19 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی سماجی کارکن اور ماہرِ تعلیم سونم وانگچک نے مبینہ طور پر غیرقانونی حراست میں ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی جانب مجوزہ مارچ کو کامیاب بنانے کی اپیل کی ہے، جبکہ ان کی اہلیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ کل پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس کے آغاز پر احتجاجی مارچ کی قیادت کریں گی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے صفدر جنگ اسپتال سے اپنے ہاتھ سے تحریر کردہ پیغام میں کہا ہے کہ وہ 3 ہفتوں سے جاری بھوک ہڑتال کے باوجود اپنے مطالبات پر قائم ہیں۔ انہوں نے اپنے پیغام میں احتجاج کو ’بھارت کی دوسری آزادی کی تحریک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک جیسے ناانصافیوں اور خوف کی فضا سے نجات حاصل کرنا ہے۔

وانگچک نے اپنے حامیوں سے اپیل کی کہ پارلیمنٹ کی جانب ہونے والے مارچ کو بھرپور کامیاب بنایا جائے۔ انہوں نے اپنے پیغام کے اختتام پر لکھا کہ یہ نوٹ صفدر جنگ اسپتال میں اپنی ’غیرقانونی حراست‘ سے اہلیہ گیتانجلی جے انگمو کے ذریعے بھیج رہے ہیں۔

بھارتی پولیس نے 18 جولائی کو، بھوک ہڑتال کے 21ویں روز، وانگچک کو نئی دہلی کے جنتر منتر سے منتقل کرکے صفدر جنگ اسپتال میں داخل کر دیا تھا۔ یہ اقدام دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے حکومت کو وانگچک کی جان بچانے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کے بعد کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک بھوک ہڑتال کے باعث کمزور، زبردستی اسپتال منتقل

دوسری جانب، وانگچک کی اہلیہ نے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سرکاری اسپتال میں علاج کے حوالے سے شفافیت نہیں برتی جا رہی، لہٰذا انہیں کسی نجی اسپتال منتقل کرنے کی اجازت دی جائے۔

واضح رہے کہ سونم وانگچک مبینہ نیٹ (NEET) امتحانی پرچہ لیک کے خلاف احتجاجی تحریک میں پیش پیش ہیں اور تعلیمی نظام میں شفافیت، احتساب اور اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp