بھارتی سماجی کارکن اور ماہرِ تعلیم سونم وانگچک کی صحت کے حوالے سے صفدر جنگ اسپتال نے بتایا ہے کہ طویل بھوک ہڑتال اور پانی کی کمی کے باعث وہ جسمانی طور پر کمزور ہو گئے ہیں، تاہم ان کی حالت اس وقت مستحکم ہے اور انہیں مسلسل طبی نگرانی اور علاج کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک کی حالت تشویشناک، کاکروچ پارٹی کا ملک گیر بھوک ہڑتال کا اعلان
رپورٹ کے مطابق سونم وانگچک کو ان کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کے 21ویں روز ہفتہ کی صبح نئی دہلی کے جنتر منتر سے اسپتال منتقل کیا گیا۔ دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دہلی ہائیکورٹ کی ہدایات اور ڈاکٹروں کی سفارش پر ان کی بگڑتی ہوئی صحت کے پیش نظر کیا گیا۔
🚨Delhi Police has picked up Sonam Wangchuk forcefully! WATCH! pic.twitter.com/AlSSRf77vS
— Saurav Das (@SauravDassss) July 18, 2026
صفدر جنگ اسپتال کی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر چاروبمبا کے مطابق وانگچک طویل فاقے اور ڈی ہائیڈریشن کے باعث کمزور ہیں، لیکن ان کی طبی علامات مستحکم ہیں۔ ان کے جسمانی افعال کو معمول پر لانے کے لیے مسلسل مشاہدے اور علاج کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج 2 ہفتوں سے جاری، وزیر تعلیم کی برطرفی کا مطالبہ
دوسری جانب سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی انگمو نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں اپنی پسند کے اسپتال منتقل کیا جائے اور ان کی رضامندی کے بغیر کوئی دوا یا ڈرپ نہ دی جائے۔ اس معاملے پر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے، جبکہ حکومت اور احتجاجی رہنماؤں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔













