اینڈی برنہم برطانیہ کے نئے وزیرِ اعظم کا عہدہ آج سنبھالیں گے

پیر 20 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لیبر پارٹی کے رہنما اینڈی برنہم، کیئر اسٹارمر کے استعفے کے بعد پیر کے روز برطانیہ کے نئے وزیرِ اعظم کا عہدہ سنبھالیں گے۔ برنہم کے حصے میں لیبر پارٹی کی قیادت بغیر کسی مقابلے کے آئی ہے۔

56 سالہ اینڈی برنہم اس سے قبل مختلف لیبر حکومتوں میں اہم وزارتوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اینڈی برنہم لیبر پارٹی کے نئے سربراہ منتخب، برطانیہ کے اگلے وزیراعظم بننے کی راہ ہموار

وہ 2017 میں ویسٹ منسٹر چھوڑ کر گریٹر مانچسٹر کے میئر منتخب ہوئے تھے، جہاں شمالی انگلینڈ کے حقوق اور علاقائی ترقی کے لیے سرگرم کردار ادا کرنے پر انہیں ’کنگ آف دی نارتھ‘ کا لقب ملا۔

برنہم حال ہی میں ضمنی انتخاب جیت کر دوبارہ پارلیمنٹ پہنچے اور چند ہی ہفتوں بعد لیبر پارٹی کی قیادت سنبھالنے میں کامیاب ہوگئے۔

وہ برطانیہ کے 59ویں جبکہ گزشتہ 10 برسوں میں 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں رہائش اختیار کرنے والے 7ویں وزیرِ اعظم ہوں گے۔

عہدہ سنبھالنے کا طریقہ کار

پیر کے روز کیئر اسٹارمر باضابطہ طور پر شاہ چارلس سوم کو اپنا استعفیٰ پیش کریں گے، جس کے بعد شاہ اینڈی برنہم کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے، دعوت قبول کرتے ہی برنہم قانونی طور پر وزیرِ اعظم بن جائیں گے۔

اس کے بعد وہ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ پہنچ کر قوم سے اپنا پہلا خطاب کریں گے اور نئی کابینہ کی تشکیل کا عمل شروع کریں گے۔

برطانوی نظام میں وزیرِ اعظم کے منصب کے لیے نہ حلف برداری کی الگ تقریب ہوتی ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لینا ضروری ہوتا ہے۔

اینڈی برنہم نے لیبر پارٹی کے قائد منتخب ہونے کے بعد وعدہ کیا ہے کہ ان کی حکومت عوام کے لیے زندگی کو زیادہ سستا بنانے، مہنگائی کے بوجھ میں کمی لانے اور ملک کے مختلف علاقوں کے درمیان معاشی تفاوت کم کرنے پر توجہ دے گی۔

انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت شمال، جنوب، مشرق اور مغرب سمیت اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کے تمام شہریوں کی نمائندگی کرے گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق برنہم کی حکومت کے ابتدائی اہم فیصلوں میں مالی مشکلات کا شکار واٹر کمپنی تھیمز واٹر کو خصوصی انتظامی نظام کے تحت عارضی سرکاری تحویل میں لینا بھی شامل ہو سکتا ہے۔

عام انتخابات کیوں نہیں ہوں گے؟

برطانیہ کے پارلیمانی نظام کے تحت حکمران جماعت اپنے رہنما کو تبدیل کر سکتی ہے اور اگر اس کے پاس ایوانِ زیریں میں اکثریت موجود ہو تو نیا رہنما خود بخود وزیرِ اعظم بن جاتا ہے۔

چونکہ لیبر پارٹی کو 2024 کے عام انتخابات میں اکثریت حاصل ہوئی تھی، اس لیے نئی حکومت کے لیے فوری عام انتخابات کی ضرورت نہیں۔ آئندہ عام انتخابات 2029 تک کسی بھی وقت کرائے جا سکتے ہیں۔

اسٹارمر نے استعفیٰ کیوں دیا؟

کیئر اسٹارمر نے 22 جون کو لیبر پارٹی کی قیادت چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔ ان کی حکومت کو کئی سیاسی تنازعات، مقامی انتخابات میں بھاری شکست اور پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی کا سامنا تھا۔

ان کے استعفے کے بعد لیبر پارٹی میں قیادت کا انتخاب ہوا، جس میں اینڈی برنہم واحد امیدوار تھے اور وہ بلا مقابلہ پارٹی کے نئے رہنما منتخب ہوگئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، حکومت نے 25 اگست کے لیے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا

برطانیہ میں سالمونیلا پھیلنے کا خدشہ، علامات، علاج اور بچاؤ کے طریقے

امریکی یونیورسٹیوں کی غیرملکی طلبہ کو 15 ستمبر سے قبل امریکا واپس پہنچنے کی ہدایت

معاشی تنہائی یا عالمی معیشت میں شمولیت، امریکا کا ایران کو سخت پیغام

اسلام آباد کے قریب ہزار سال پرانے گکھڑ دور کے تاریخی مقامات سیاحوں کے لیے کھول دیے گئے

ویڈیو

فیلڈ مارشل دنیا کو تباہی سے بچانے کے مشن پر، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی راہیں جدا؟ مولانا کا یہودی ایجنٹ سے غیر فطری اتحاد

جیل رولز کسی بھی قیدی کو پرائیویٹ اسپتال سے علاج کی اجازت نہیں دیتے: سینیئر وکلا

بلوچستان کا طالب علم اے آئی کی مدد سے انسانوں کو نئی زندگی فراہم کرے گا؟

کالم / تجزیہ

کیا شہباز حکومت توہینِ عدالت کے ’جرم‘ میں گھر جا سکتی ہے؟

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا

سفید جادو، مثبت اور مددگار