وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

پیر 20 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں تعلیمی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں، امتحانی پرچوں کے لیک ہونے اور تکنیکی خرابیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے کارروائی کی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نیلے رنگ کے انسدادِ ہنگامہ آرائی لباس میں ملبوس پولیس اہلکاروں نے جنتر منتر کے قریب مظاہرین پر دھاوا بولا، جس کے بعد مظاہرین ادھر ادھر بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔

مظاہرین وفاقی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: گرتی ہوئی صحت کے باوجود بھارتی طالبہ رہنما ‘نیہا بورا’ کی بھوک ہڑتال جاری

ان کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں مسلسل بے ضابطگیوں، پرچوں کے لیک ہونے اور تکنیکی مسائل کے باعث لاکھوں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔

19 سالہ طالب علم کے ایم گلشن نے کہا کہ طلبہ چاہتے ہیں کہ حکومت ان کی آواز سنے، اور انہیں خاموش نہ کرایا جائے۔

یہ احتجاج معروف سماجی کارکن سونم وانگچک کو ہفتے کے روز اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد سامنے آیا، جس کے ساتھ ہی نوجوانوں کی حمایت اور کاکروچ جنتا پارٹی تحریک کے حق میں ان کی بھوک ہڑتال بھی ختم ہوگئی۔

رپورٹ کے مطابق مئی میں شروع ہونے والی کاکروچ جنتا پارٹی نے سوشل میڈیا پر لاکھوں حامی حاصل کر لیے ہیں، یہ تحریک نوجوانوں میں تعلیمی نظام اور بے روزگاری کے خلاف بڑھتی ہوئی ناراضی کی نمائندگی کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں: نئی دہلی: ’کاکروچ تحریک‘ کا پابندی کے باوجود پارلیمنٹ کی جانب مارچ شروع

پارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آج کاکروچز کو کوئی نہیں روک سکتا، جبکہ بارش اور پولیس کی رکاوٹوں کے باوجود مظاہرین کی تصاویر بھی جاری کیں۔

بھارت کی تیز رفتار اقتصادی ترقی کے باوجود لاکھوں نوجوان اب بھی مستقل اور مناسب روزگار حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے باعث حکومتی پالیسیوں پر تنقید میں اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ ماہ تقریباً 22 لاکھ میڈیکل کے امیدواروں کو سخت سیکیورٹی میں دوبارہ امتحان دینا پڑا تھا کیونکہ اس سے قبل ہونے والا امتحان پرچہ لیک ہونے کے اسکینڈل کے بعد منسوخ کر دیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ تقریباً 20 لاکھ ہائی اسکول طلبہ کے امتحانات کی آن لائن مارکنگ کے نظام سے متعلق ایک اور تنازع بھی سامنے آیا، جس نے تعلیمی نظام پر مزید سوالات کھڑے کر دیے۔

پیر کے روز نئی دہلی کے وسطی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بھی جزوی طور پر معطل کر دی گئی، دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین کے پاس احتجاج کی اجازت نہیں تھی۔

مزید پڑھیں: بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک بھوک ہڑتال کے باعث کمزور، زبردستی اسپتال منتقل

پولیس نے بیان میں خبردار کیا کہ پابندی کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

16 سالہ طالبہ شبھی راؤ نے بتایا کہ وہ سونم وانگچک سے اظہارِ یکجہتی اور حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کرنے کے لیے احتجاج میں شریک ہوئی۔

’وزیراعظم نریندر مودی نے یہ تاثر دیا ہے کہ انہیں اس ملک کے نوجوانوں کی فکر نہیں ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp