گرتی ہوئی صحت کے باوجود بھارتی طالبہ رہنما ‘نیہا بورا’ کی بھوک ہڑتال جاری

پیر 20 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

۔

۔

۔

۔

۔

۔

۔

۔

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے جنتر منتر پر تعلیمی نظام میں اصلاحات، NEET-UG پیپر لیک اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کی ناکامیوں کے خلاف نوجوانوں کی تحریک ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ (CJP) اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔

بھارتی روزنامہ دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق، نئی دہلی کے جنتر منتر پر جاری ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ (CJP) اور مختلف طالب علم تنظیموں کے احتجاج کا ایک نمایاں چہرہ اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی (JNU) کی طالبہ ‘نیہا بورا’ اپنی گرتی ہوئی صحت کے باوجود بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ اور ان کے ساتھی تعلیمی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے خلاف گزشتہ 20 سے زائد دنوں سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر ہیں۔

طبی عملے کی شدید تشویش اور گرتی ہوئی صحت

نیہا کے ساتھ ہڑتال پر بیٹھے دیگر ساتھیوں (امین اور منیش) کی حالت بھی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ مظاہرین کی صحت پر نظر رکھنے والے ڈاکٹروں کے مطابق، طویل فاقہ کشی کے باعث نیہا کا شوگر لیول خطرناک حد تک گر چکا ہے اور اس میں مسلسل اتار چڑھاؤ آرہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے نئی دہلی: ’کاکروچ تحریک‘ کا پابندی کے باوجود پارلیمنٹ کی جانب مارچ شروع

ڈاکٹروں نے متنبہ کیا ہے کہ نیہا کی حالت اس وقت انتہائی نازک ہے اور وہ کسی بھی وقت بے ہوش یا کوما میں جا سکتی ہیں۔ ڈاکٹروں نے ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ ان کی جان بچائی جا سکے۔

حکومت کو جھکانے کا عزم

تپتی ہوئی دھوپ اور شدید گرمی کے باوجود نیہا اور ان کے ساتھی روزانہ پریس بریفنگ میں حصہ لیتے ہیں، حالانکہ ڈاکٹروں نے انہیں کم بولنے اور توانائی بچانے کا مشورہ دیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نیہا نے اپنے غیر متزلزل عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ جب تک حکومت کانپنے نہیں لگے گی، وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم نہیں کریں گی۔

تحریک کے مطالبات اور پس منظر

کاکروچ جنتا پارٹی اور طلبہ تنظیموں کی جانب سے شروع کی گئی اس ہڑتال کا بنیادی مقصد NEET امتحانات میں ہونے والی دھاندلی اور پیپر لیک کے معاملے پر مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ حاصل کرنا اور امتحانی نظام کو شفاف بنانا ہے۔ جنتر منتر پر یہ احتجاج معروف سماجی کارکن سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال کے ساتھ ہی جاری ہے، جس میں اب طلبہ کے والدین اور معاشرے کے دیگر طبقات بھی شامل ہو رہے ہیں۔

عوامی یکجہتی اور پارلیمنٹ کی طرف مارچ 

تحریک کے منتظمین کا کہنا ہے کہ حکومت کی سرد مہری کے باوجود عوامی سطح پر اس احتجاج کو بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔ مختلف یونیورسٹیوں کے طلبہ اور عام شہری روزانہ جنتر منتر کا رخ کر رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بھی اس احتجاج کو سیاسی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔

مزید پڑھیں: بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک بھوک ہڑتال کے باعث کمزور، زبردستی اسپتال منتقل

نیہا اور تحریک کے دیگر رہنماؤں نے 20 جولائی کو ہونے والے ‘پارلیمنٹ مارچ’ کے لیے عوام اور طلبہ سے پرامن طریقے سے بڑی تعداد میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے، تاکہ حکومت پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp