ورلڈ کشمیر آگاہی فورم (WKAF) نے کہا ہے کہ نئی دہلی میں نیشنل کانفرنس کی قیادت میں بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کے لیے کیا جانے والا مظاہرہ محض ایک سیاسی سرگرمی ہے، جو کشمیری عوام کے بنیادی اور دیرینہ مطالبات کی عکاسی نہیں کرتا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق فورم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ احتجاج کرنا ایک جمہوری حق ہے، تاہم اس طرح کی سرگرمیاں اصل مسئلے سے توجہ ہٹا دیتی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ جموں و کشمیر کے عوام کا بنیادی مطالبہ ریاستی درجہ نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت کا حصول ہے تاکہ وہ اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں۔
فورم نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35-اے کے خاتمے اور جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد علاقے کی سیاسی، آئینی اور انتظامی صورتحال میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ بیان کے مطابق اس اقدام کے بعد بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتی، سیاسی رہنماؤں اور شہریوں کی گرفتاریاں، مواصلاتی پابندیاں اور سخت سکیورٹی قوانین کے نفاذ نے خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
یہ بھی پڑھیے بالی ووڈ فلم ’چوہان‘ پر ہنگامہ، مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گن متاثرین کا شدید ردِعمل
ورلڈ کشمیر آگاہی فورم کا کہنا تھا کہ محض ریاستی حیثیت کی بحالی سے ان بنیادی مسائل کا حل ممکن نہیں، کیونکہ یہ اقدام صرف ایک انتظامی اور آئینی تبدیلی ہوگا، جبکہ کشمیری عوام کے سیاسی مستقبل کا بنیادی سوال اپنی جگہ برقرار رہے گا۔
بیان میں نیشنل کانفرنس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ جماعت نے ماضی میں اقتدار کے حصول کے لیے کشمیری عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی، جبکہ موجودہ ریاستی درجہ بحال کرنے کی مہم بھی، فورم کے مطابق، بنیادی سیاسی تنازع سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہے۔
فورم نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی حکومت بھارتی آئین اور قانونی ڈھانچے کے تحت کام کر رہی ہے، جس کے باعث اس کے اختیارات محدود ہیں اور وہ جموں و کشمیر کے بنیادی سیاسی تنازع کے حل سے متعلق کوئی فیصلہ کرنے کی آئینی حیثیت نہیں رکھتی۔
یہ بھی پڑھیے آزاد کشمیر کے عوام پرسکون، مقبوضہ کشمیر خوف کی فضا میں، محبوبہ مفتی کا اعتراف
بیان میں کہا گیا کہ اگر مستقبل میں جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاستی درجہ بھی مل جاتا ہے تو نیشنل کانفرنس اور بھارتی حکومت اسے اپنی سیاسی کامیابی قرار دے سکتی ہیں، تاہم اس سے کشمیری عوام کے بنیادی مطالبے، یعنی حقِ خودارادیت، پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
ورلڈ کشمیر آگاہی فورم نے اپنے بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی دراصل بھارتی آئینی نظام کے اندر اختیارات کی تقسیم کا معاملہ ہے، جبکہ جموں و کشمیر کے تنازع کا مستقل اور پائیدار حل کشمیری عوام کی خواہشات اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حقِ خودارادیت کے تناظر میں تلاش کیا جانا چاہیے۔














