کراچی سو رہا تھا، مگر ’منی برازیل‘ جاگ رہا تھا، لیاری میں فٹبال فائنل کی رات کیسی گزری؟

پیر 20 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اتوار اور پیر کی درمیانی شب کراچی کے بیشتر علاقے معمول کے مطابق خاموش تھے، لیکن لیاری میں منظر بالکل مختلف تھا۔ گلیاں جگمگا رہی تھیں، گراؤنڈز تماشائیوں سے بھرے ہوئے تھے اور ہر چند قدم کے فاصلے پر فٹبال کے دیوانے اپنی پسندیدہ ٹیموں کی حمایت میں نعرے لگا رہے تھے۔ ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے پورا لیاری ایک رات کے لیے اسٹیڈیم میں تبدیل ہوگیا ہو۔

لیاری، جسے برسوں سے ’منی برازیل‘ کہا جاتا ہے، نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ یہاں فٹبال صرف ایک کھیل نہیں بلکہ ایک ثقافت، ایک روایت اور ایک جذبہ ہے۔ علاقے کے بڑے گراؤنڈز سے لے کر چھوٹی گلیوں تک بڑی اسکرینیں اور پروجیکٹر نصب تھے، جہاں ہزاروں افراد فیفا ورلڈ کپ کے فائنل کا انتظار کررہے تھے۔

مزید پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ 2026: میڈونا سے شکیرا تک، وہ 10 یادگار لمحات جنہوں نے دنیا بھر کی توجہ سمیٹ لی

سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ اس فٹبال میلے میں صرف عام شہری ہی شریک نہیں تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نبیل گبول، منتخب بلدیاتی نمائندے اور شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیت فہد مصطفیٰ بھی لیاری پہنچے اور شائقین کے درمیان بیٹھ کر میچ سے لطف اندوز ہوتے رہے۔

گراؤنڈ میں موجود لوگوں کا کہنا تھا کہ لیاری کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں۔ یہاں کئی دہائیوں سے ورلڈ کپ کے دوران راتیں اسی طرح جاگ کر گزاری جاتی ہیں۔ پہلے لوگ ایک چھوٹے سے ٹی وی کے گرد جمع ہوتے تھے، مگر اب ہر محلے اور ہر گراؤنڈ میں بڑی اسکرینیں لگ چکی ہیں۔

فٹبال کے اس بخار میں بچے بھی کسی سے پیچھے نہیں تھے۔ دس سالہ ایک لڑکے نے بڑے اعتماد سے بتایا کہ ورلڈ کپ کے آغاز پر وہ برازیل کا مداح تھا کیونکہ اسے نیمار پسند ہے۔ برازیل کے باہر ہونے کے بعد اس نے فرانس کی حمایت شروع کردی، کیونکہ کیلیان ایمباپے اس کا پسندیدہ کھلاڑی ہے۔ تاہم فرانس کی شکست کے بعد اس نے اسپین کے حق میں آواز بلند کر دی۔

اس کے برابر بیٹھی 8 سالہ بچی نے فوراً اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا، ’نہیں، جیت تو ارجنٹائن کی ہوگی، کیونکہ میسی سب سے بہترین کھلاڑی ہیں۔‘

دونوں بچوں کے درمیان اپنی اپنی ٹیموں کے حق میں دلچسپ نوک جھونک جاری رہی، جبکہ اردگرد بیٹھے لوگ ان کی باتیں سن کر مسکراتے رہے۔ ایک طرف ننھا مداح اسپین کی جیت کے دعوے کر رہا تھا تو دوسری طرف چھوٹی سی بچی پورے اعتماد کے ساتھ میسی کے نام کے نعرے لگا رہی تھی۔

لیاری کی فٹبال کلچر نے صرف مقامی لوگوں کو ہی نہیں بلکہ بیرون ملک سے آنے والوں کو بھی اپنی جانب متوجہ کیا۔ شمالی لندن سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان خصوصی طور پر لیاری پہنچا تاکہ یہاں کے ماحول کو قریب سے محسوس کر سکے۔

اس نوجوان نے بتایا کہ وہ کراچی کے کسی بھی علاقے میں میچ دیکھ سکتا تھا، مگر اس نے جان بوجھ کر لیاری کا انتخاب کیا۔ اس کے بقول، ’میں نے لیاری کے فٹبال جنون کے بارے میں بہت کچھ سنا تھا، لیکن یہاں آکر احساس ہوا کہ یہ صرف ایک میچ نہیں بلکہ ایک تہوار ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر جس محبت اور جوش سے فٹبال دیکھتے ہیں، وہ منظر ناقابلِ فراموش ہے۔‘

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نبیل گبول نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ لیاری کے لوگ کھیلوں سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور یہی اس علاقے کی اصل شناخت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر یہاں کے نوجوانوں کو مزید سہولیات اور مواقع فراہم کیے جائیں تو مستقبل میں پاکستان کی قومی فٹبال ٹیم میں بھی لیاری کے کھلاڑی نمایاں نظر آئیں گے۔

رات گہری ہوتی گئی، مگر لیاری کی رونق کم نہ ہوئی۔ کہیں لوگ اپنی پسندیدہ ٹیم کی جیت کے خواب دیکھ رہے تھے، کہیں بچے کھلاڑیوں کے نام لے کر خوشی سے شور مچا رہے تھے، جبکہ گراؤنڈ میں موجود ہزاروں افراد بڑی اسکرینوں پر جمی نگاہوں کے ساتھ ہر لمحے کو محسوس کررہے تھے۔

اس رات ایک بار پھر ثابت ہوگیا کہ جب دنیا فٹبال کا فائنل دیکھتی ہے، تو لیاری اسے صرف دیکھتا نہیں بلکہ پوری شدت کے ساتھ جیتا ہے۔

میچ کے اختتام پر اسپین نے ٹرافی تو اپنے نام کرلی، لیکن اس رات اگر کسی نے واقعی دل جیتے تو وہ لیاری کے لوگ تھے۔ رات بھر گلیوں اور گراؤنڈز میں جمع ہزاروں چہروں پر خوشی، جوش اور اپنائیت نمایاں تھی۔ کہیں بچے اپنی پسندیدہ ٹیم کی جیت کا جشن منا رہے تھے تو کہیں ہارنے والی ٹیم کے مداح اگلے ورلڈ کپ کی امیدیں باندھ رہے تھے۔

مزید پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ 2026: فیرا توریس کا شاندار فیلڈ گول، اسپین عالمی چیمپیئن بن گیا، ارجنٹائن کا خواب چکنا چور

شاید اسی لیے لیاری کو صرف ’منی برازیل‘ نہیں کہا جاتا۔ یہاں فٹبال محض نوے منٹ کا کھیل نہیں، بلکہ نسلوں سے جڑا ایک جذبہ ہے۔ اسپین جیت گیا، ٹرافی اس کے حصے میں آئی، مگر اس رات لیاری والوں نے اپنی محبت، مہمان نوازی اور کھیل سے وابستگی سے سب کے دل جیت لیے۔ جب دنیا فائنل دیکھ رہی تھی، تب لیاری اسے صرف دیکھ نہیں رہا تھا، بلکہ اپنی مخصوص انداز میں جی رہا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پمز اسپتال واقعہ ایک حادثہ، وزیراعظم اور وزیر کا کام ایک اسپتال کو دیکھنے کا نہیں ہونا چاہیے، مصطفیٰ کمال

پمز آتشزدگی واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی قائم، نوٹیفکیشن جاری

پمز آتشزدگی واقعے پر سوشل میڈیا مہم، پی ٹی آئی دور میں آگ لگنے کے واقعات کی تفصیلات بھی سامنے آگئیں

پنجاب کے سرکاری اسپتالوں کو حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت، 24 گھنٹوں میں رپورٹ طلب

بلاول بھٹو بھی پمز اسپتال سانحہ پر بول پڑے، متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی کا مطالبہ

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان اور عمران خان کے حامی اپوزیشن اتحاد قبول کریں گے؟ پشاور کے شہریوں کی رائے

پی ٹی آئی اپنے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی کوشش نہیں کر رہی، ایڈووکیٹ فیصل چوہدری

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ تہران، ایک بار پھر ایران امریکا مذاکرت شروع ہونے کے امکانات روشن

کالم / تجزیہ

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ

‘میں واپس آؤں گا’ سے تازہ ہونے والے دکھ

اِکّو اَلف تیرے دَرکار