پولنگ عملے کی ووٹنگ سے آزاد کشمیر میں انتخابات ملتوی ہونے کے خدشات ختم، نواز شریف انتخابی دنگل سجانے کو تیار

منگل 21 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے 27 جولائی 2026 کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل انتخابی عمل ایک اہم سنگ میل عبور کر چکا ہے، جہاں انتخابی ڈیوٹی پر مامور سرکاری ملازمین کی خصوصی پولنگ کامیابی سے مکمل ہوگئی۔ دوسری جانب انتخابی مہم آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔ سابق وزیراعظم پاکستان نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز آج مظفرآباد میں جلسسے سے خطاب کریں گے، جبکہ بلاول بھٹو کوٹلی کے حلقہ نکیال میں کارکنوں کا لہو گرمائیں گے۔

پیر 20 جولائی کو انتخابی ڈیوٹی پر مامور سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی پولنگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ہزاروں ملازمین نے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا۔

مزید پڑھیں: کشمیر انتخابات: انتخابی مہم آخری مرحلے میں داخل، الیکشن کمیشن تیار

اس مرحلے کی کامیاب تکمیل کے بعد یہ تاثر عملاً ختم ہوگیا ہے کہ کسی وجہ سے انتخابات ملتوی ہو سکتے ہیں، کیونکہ الیکشن کمیشن کی تمام تر تیاریاں آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔

آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن کی جانب سے خصوصی پولنگ کا انتظام اس لیے کیا گیا تاکہ وہ سرکاری ملازمین، جو 27 جولائی کو پولنگ اسٹیشنوں پر انتخابی ذمہ داریاں انجام دیں گے، اپنے ووٹ کے حق سے محروم نہ رہیں۔

اس مقصد کے لیے تمام اضلاع کے ضلعی ہیڈکوارٹرز میں خصوصی پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے جبکہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران، ریٹرننگ افسران اور ضلعی انتظامیہ کو شفاف، منظم اور بروقت پولنگ کے انعقاد کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔

چیف الیکشن کمشنر کی ہدایات کے مطابق راولاکوٹ اور سدھنوتی میں ملازمین کی پولنگ نہیں ہوئی۔

چیف الیکشن کمشنر آزاد جموں و کشمیر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے کہاکہ الیکشن کمیشن آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

انہوں نے واضح کیاکہ انتخابی عمل کو آئین اور قانون کے مطابق ہر صورت مکمل کیا جائے گا اور کسی بھی دباؤ یا مداخلت کو خاطر میں نہیں لایا جائےگا۔

انہوں نے تمام متعلقہ اداروں، انتخابی عملے اور سیکیورٹی اداروں کے باہمی تعاون کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ 27 جولائی کو عوام پرامن ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

امسال کے انتخابات کئی حوالوں سے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی 45 میں سے 44 نشستوں کے لیے انتخاب ہوگا، کیوں کہ سدھنوتی کے حلقہ 2 بلوچ میں ایک امیدوار کے انتقال کے باعث انتخابات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے 33 انتخابی حلقے آزاد کشمیر میں ہیں، جبکہ 12 نشستیں پاکستان میں مقیم مہاجرین پاکستان کے لیے مختص ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق مجموعی طور پر 38 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ ووٹرز اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کریں گے، جبکہ پورے انتخابی عمل کے لیے ہزاروں پولنگ اسٹیشنز اور پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق انتخابی عملے کی پیشگی پولنگ کی کامیاب تکمیل اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ انتخابی شیڈول کے مطابق تمام انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔

انتخابی مہم فیصلہ کن مرحلے میں داخل

دوسری جانب انتخابی مہم بھی اپنے آخری اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنی سرگرمیاں مزید تیز کر دی ہیں اور بڑے عوامی اجتماعات کا سلسلہ جاری ہے۔

نواز شریف کے مظفرآباد جلسے کی تیاریاں آخری مرحلے میں داخل، رانا ثنااللہ اور امیر مقام کا جلسہ گاہ کا دورہ

اسی سلسلے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز آج مظفرآباد میں ایک بڑے انتخابی جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ اور وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر انجینیئر امیر مقام نے یونیورسٹی کالج گراؤنڈ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جلسے کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا اور متعلقہ حکام سے بریفنگ حاصل کی۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب کے معاونِ خصوصی ذیشان ملک، سینیٹر سعود مجید، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مظفرآباد سٹی سے امیدوار اسمبلی سید افتخار گیلانی، سابق رکن قومی اسمبلی محسن شاہنواز رانجھا، مرکزی چیئرمین رابطہ بورڈ سردار طارق اور دیگر پارٹی رہنما بھی موجود تھے۔

دورے کے دوران جلسہ گاہ میں اسٹیج، سیکیورٹی، شرکا کے بیٹھنے کے انتظامات، ٹریفک پلان اور دیگر انتظامی امور کا جائزہ لیا گیا تاکہ قائد مسلم لیگ (ن) نواز شریف کے جلسہ عام کے تمام انتظامات بروقت اور مؤثر انداز میں مکمل کیے جا سکیں۔

بلاول بھٹو کا آج کوٹلی کے حلقہ نکیال میں جلسہ شیڈول

اس کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو بھی آزاد کشمیر میں اپنی انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں، اور وہ آج کوٹلی کے حلقہ نکیال میں جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مختلف سیاسی حلقوں میں انتخابات کے انعقاد سے متعلق قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں، تاہم 20 جولائی کو انتخابی ڈیوٹی پر مامور ملازمین کی خصوصی پولنگ کے کامیاب انعقاد نے ان خدشات کو عملاً ختم کر دیا ہے۔

انتخابی انتظامات، بیلٹ پیپرز کی ترسیل، پولنگ عملے کی تعیناتی اور ملازمین کی پولنگ کی تکمیل کے بعد اب تمام توجہ 27 جولائی کو ہونے والی عام پولنگ پر مرکوز ہو گئی ہے، جہاں آزاد جموں و کشمیر کے لاکھوں ووٹر آئندہ پانچ برس کے لیے اپنی نمائندہ حکومت کا انتخاب کریں گے۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات: ضابطہ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد کرانے کا فیصلہ، تمام ادارے کردار ادا کریں، چیف الیکشن کمشنر

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جمہوری عمل ہر صورت مکمل ہونا چاہیے، آزاد کشمیر میں زلزلہ 2005 کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال میں بھی انتخابات بروقت ہوئے تھے، عوام کے لیے موقع ہے کہ وہ اپنی پسند کے نمائندوں کو اسمبلی میں بھیجیں جو ان کے مسائل پر آواز بلند کرسکیں اور حل کے لیے اقدامات کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی آئی اے اور ایئر فرانس کا اشتراک، ایک ہی ٹکٹ پر یورپ کے 21 شہروں کا سفر ممکن

راول ڈیم صفائی مہم، 200 سے زیادہ رضاکاروں کی شرکت، 2 ٹن کچرا اٹھا لیا

پاکستان میں مذہبی آزادی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ’آئی آر ایف پیس بلڈر فورم‘ اگست میں شروع ہوگا

جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل امیر العظیم انتقال کر گئے

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کردیا گیا

ویڈیو

اسحاق ڈار کی فلپائن میں سری لنکا اور مصر کے وزرائے خارجہ سے اہم ملاقاتیں

پاکستان نے ہاتھ کھڑے کردیے، ایران کو الٹی میٹم، کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج سے مودی پریشان، نواز شریف کی انوکھی خواہش

بھارت میں طلبا احتجاج نہیں، ہندتوا فاشسٹ سوچ کے خلاف بغاوت ہوئی ہے، سابق سینیٹر مشاہد حسین سید

کالم / تجزیہ

مزید عدالتیں یا بہتر انصاف؟

فلم تھری ایڈیٹس کے حقیقی رانچھو کی اصل جنگ

کشمیر انتخابات: تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے