ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟

منگل 21 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک پہنچتی دکھائی دے رہی ہے۔ چند ماہ قبل شروع ہونے والے اس بحران نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رکھی ہے۔

لیکن اب ایران نے واضح الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ اب صرف مذاکرات پر انحصار کرنے کی پالیسی ختم ہو چکی ہے، اور اگر امریکا نے مزید فوجی کارروائی یا جارحیت کی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: امریکا ایران کشیدگی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی دوبارہ ناکہ بندی کا اعلان

دوسری جانب امریکا بھی اپنے مؤقف پر قائم ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

یاد رہے کہ یہ بحران قریباً 5 ماہ سے مختلف مراحل میں جاری ہے، تاہم حالیہ ہفتوں میں اس میں دوبارہ شدت آئی ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

ماہرین خبردار کررہے ہیں کہ اگر حالات پر قابو نہ پایا گیا تو یہ تنازع صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہے گا بلکہ خطے کے دیگر ممالک بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں، جس کے عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

کشیدگی کم نہ ہوئی تو پورا خطہ لپیٹ میں آ جائےگا، مسعود خالد

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سابق سفارت کار مسعود خالد کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ کشیدگی ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اگر دونوں فریقوں نے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات نہ کیے تو یہ صورتحال قابو سے باہر ہو کر ایک وسیع علاقائی تنازع کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

مسعود خالد کے مطابق موجودہ بحران صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہے گا، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں موجود مختلف اتحادی گروپس، علاقائی ممالک اور عالمی طاقتیں اس صورتحال سے متاثر ہو سکتی ہیں۔ ان کے بقول کسی بھی غلط اندازے یا محدود کارروائی کے نتیجے میں ردعمل کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے جسے روکنا مشکل ہو جائےگا۔

وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ تمام بڑے فریق مکمل جنگ سے گریز کرنا چاہیں گے، تاہم مسلسل حملوں، جوابی کارروائیوں اور بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث تنازع کے پھیلاؤ کا خطرہ موجود ہے۔

ان کے مطابق خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتی رابطوں اور مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی جائے۔

مسعود خالد کے مطابق آنے والے دنوں میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا واشنگٹن اور تہران تصادم کا راستہ اختیار کرتے ہیں یا پھر کسی ایسے سفارتی راستے پر واپس آتے ہیں جو خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچا سکے۔

تہران طاقت کے ذریعے اپنا مؤقف منوانے کی حکمت عملی اختیار کررہا ہے، فیاضان ریاض

اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے اسسٹنٹ ریسرچ ایسوسی ایٹ فیضان ریاض کے مطابق، ایران کا یہ اعلان کہ اب صرف مذاکرات پر انحصار کی پالیسی ختم ہو چکی ہے اور امریکا کی کسی بھی نئی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران سفارت کاری کے بجائے طاقت کے ذریعے اپنے مؤقف کو منوانے کی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔

فیضان ریاض کے مطابق اس کا یہ مطلب نہیں کہ فوری طور پر مکمل جنگ چھڑ جائے گی، تاہم غلط اندازوں یا کسی بھی معمولی واقعے کے بڑے تصادم میں تبدیل ہونے کا خطرہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ایران ممکنہ طور پر اپنے میزائل اور ڈرون حملوں کی صلاحیت، عراق، شام، لبنان اور یمن میں اپنے اتحادی گروہوں کے ذریعے دباؤ، جبکہ آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں بحری راستوں پر اثرانداز ہونے کی حکمتِ عملی پر انحصار کر سکتا ہے۔ دوسری جانب امریکا بھی کشیدگی کو محدود رکھنے اور ضرورت پڑنے پر جوابی کارروائی کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کرےگا۔

فیضان ریاض کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات اب خلیجی خطے سے نکل کر عالمی معیشت تک پہنچ چکے ہیں۔ توانائی کی عالمی منڈیاں، بحری نقل و حمل کے اخراجات اور مہنگائی غیر یقینی صورتحال کی زد میں ہیں، جبکہ چین، روس اور یورپی ممالک سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ مشرق وسطیٰ ایک وسیع اور تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں آنے سے بچ سکے۔

ان کے بقول فی الحال اس بات کا امکان کم ہے کہ یہ تنازع براہِ راست کئی ممالک پر مشتمل مکمل جنگ میں تبدیل ہو جائے، کیونکہ نہ واشنگٹن اور نہ ہی تہران ایک طویل جنگ کے خواہاں ہیں۔

تاہم وہ خبردار کرتے ہیں کہ پراکسی گروہوں کے ذریعے تنازع پھیلنے کا خطرہ بدستور موجود ہے۔ اگر امریکا نے ایرانی قیادت یا جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تو ایران اپنے اتحادی گروہوں کے ذریعے امریکی مفادات اور اتحادی ممالک پر حملوں کا دائرہ وسیع کر سکتا ہے، جس سے اسرائیل اور خلیجی ریاستیں بھی براہِ راست اس تنازع کا حصہ بن سکتی ہیں۔

فیضان ریاض کے مطابق موجودہ حالات میں سب سے زیادہ امکان اسی بات کا ہے کہ آنے والے عرصے میں خطہ محدود فوجی کارروائیوں، پراکسی حملوں اور مسلسل سفارتی سرگرمیوں کے امتزاج سے گزرے گا۔

ان کے نزدیک عالمی استحکام کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ پسِ پردہ سفارتی رابطے اور تیسرے فریق کی ثالثی آئندہ کسی بڑے تصادم کو روکنے میں کس حد تک کامیاب رہتی ہے۔

کشیدگی پھیلنے کے ممکنہ خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، آصف درانی

سابق سفیر آصف درانی کے مطابق، ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے ممکنہ پھیلاؤ کے خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ تنازع مختلف سمتوں میں آگے بڑھ سکتا ہے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی حساس محاذوں کا سامنا کر رہا ہے۔

آصف درانی کے مطابق، اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خطے کے دیگر ممالک، اتحادی گروپس اور اہم اسٹریٹجک مقامات بھی اس بحران سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

ان کے بقول جنگ کے پھیلاؤ کی صورت میں صورتحال کے کئی ممکنہ رخ سامنے آ سکتے ہیں، جن میں محدود فوجی کارروائیوں سے لے کر وسیع علاقائی تصادم تک کے امکانات شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا امریکا ایران کشیدگی پر اظہار تشویش، برادر ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ

وہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ بحران میں سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ کسی بھی فریق کی ایک غلط حکمتِ عملی یا غیر متوقع ردِعمل کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ اس لیے آنے والے دنوں میں عالمی طاقتوں اور علاقائی ممالک کی سفارتی کوششیں اس بات کا تعین کریں گی کہ یہ تنازع محدود رہتا ہے یا ایک بڑے بحران میں تبدیل ہوتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی آئی اے اور ایئر فرانس کا اشتراک، ایک ہی ٹکٹ پر یورپ کے 21 شہروں کا سفر ممکن

راول ڈیم صفائی مہم، 200 سے زیادہ رضاکاروں کی شرکت، 2 ٹن کچرا اٹھا لیا

پاکستان میں مذہبی آزادی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ’آئی آر ایف پیس بلڈر فورم‘ اگست میں شروع ہوگا

جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل امیر العظیم انتقال کر گئے

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کردیا گیا

ویڈیو

اسحاق ڈار کی فلپائن میں سری لنکا اور مصر کے وزرائے خارجہ سے اہم ملاقاتیں

پاکستان نے ہاتھ کھڑے کردیے، ایران کو الٹی میٹم، کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج سے مودی پریشان، نواز شریف کی انوکھی خواہش

بھارت میں طلبا احتجاج نہیں، ہندتوا فاشسٹ سوچ کے خلاف بغاوت ہوئی ہے، سابق سینیٹر مشاہد حسین سید

کالم / تجزیہ

مزید عدالتیں یا بہتر انصاف؟

فلم تھری ایڈیٹس کے حقیقی رانچھو کی اصل جنگ

کشمیر انتخابات: تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے