مودی حکومت کیخلاف احتجاج میں اہم کردار سونم وانگچک کون ہیں؟

منگل 21 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کے معروف سماجی کارکن اور ماہر تعلیم سونم وانگچک کی جانب سے امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے خلاف شروع کی گئی بھوک ہڑتال نے ملک بھر میں نوجوانوں کی ایک بڑی احتجاجی تحریک کی شکل اختیار کر لی ہے۔

3 ہفتوں سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی بھوک ہڑتال کے بعد دہلی پولیس انہیں اسپتال منتقل کر دیا، جس کے بعد ان کی تحریک کو مزید عوامی حمایت حاصل ہونے لگی۔

یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار کے خلاف طلبہ کی بغاوت، پارلیمنٹ کی جانب احتجاجی مارچ، وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ

59 سالہ سونم وانگچک کا مطالبہ ہے کہ لاکھوں طلبہ کو متاثر کرنے والے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں۔

وانگچک کا کہنا ہے کہ اس معاملے نے نہ صرف طلبہ کے مستقبل کو نقصان پہنچایا بلکہ دنیا بھر میں بھارت کی ساکھ کو بھی متاثر کیا ہے۔

بھوک ہڑتال کے دوران دہلی کے جنتر منتر میں موجود وانگچک کو ملک کے مختلف حصوں سے عوام، طلبہ اور بالی ووڈ شخصیات کی جانب سے حمایت کے پیغامات موصول ہوئے۔

مزید پڑھیں: بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک کی حالت تشویشناک، کاکروچ پارٹی کا ملک گیر بھوک ہڑتال کا اعلان

بعض حلقوں نے انہیں اکیسویں صدی کا مہاتما گاندھی بھی قرار دیا، تاہم انہوں نے اس تشبیہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ گاندھی ہیں اور نہ ہیرو، بلکہ صرف ایک عام شہری ہیں جو اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔

انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ دوسروں میں ہیرو تلاش کرنے کے بجائے خود اپنی زندگی کے ہیرو بنیں۔

لداخ سے تعلق رکھنے والے سونم وانگچک تعلیم کے شعبے میں اصلاحات، ماحولیاتی تحفظ اور پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے اپنی جدت پسند کوششوں کے باعث عالمی شہرت رکھتے ہیں۔

انہوں نے برف سے مصنوعی گلیشیئر، جنہیں ’آئس اسٹوپا‘ کہا جاتا ہے، متعارف کرائے تاکہ موسم سرما میں پانی ذخیرہ کر کے گرمیوں میں آبپاشی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

ان خدمات کے اعتراف میں انہیں 2018 میں ایشیا کے ممتاز ریمن میگسیسے ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔

سن 1966 میں لداخ کے ایک دور افتادہ گاؤں میں پیدا ہونے والے وانگچک نے طالب علمی کے زمانے میں ہی طلبہ کے لیے مفت تعلیمی پروگرام شروع کیے اور بعد ازاں اسٹوڈنٹس ایجوکیشنل اینڈ کلچرل موومنٹ آف لداخ کی بنیاد رکھی۔

حالیہ برسوں میں وہ لداخ کے لیے زیادہ خودمختاری اور ماحولیاتی تحفظ کے مطالبات کی قیادت بھی کرتے رہے ہیں، 2025 میں لداخ کو ریاست کا درجہ دینے کے مطالبے پر ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد انہیں تقریباً 6 ماہ قید بھی کاٹنا پڑی، تاہم انہوں نے تشدد پر اکسانے کے الزامات کی تردید کی تھی۔

مزید پڑھیں: ’استعفیٰ دو ورنہ پارلیمنٹ اکھاڑ کربھارت کو نیپال بنا دیں گے‘، مودی حکومت کے خلاف احتجاج شدت اختیار کرگیا

سونم وانگچک نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ 6 ہفتے تک بھوک ہڑتال جاری رکھ سکتے ہیں، تاہم انہیں امید ہے کہ جمہوری حکومت عوام کی آواز سنے گی۔

ان کے بقول وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ نظام میں جوابدہی پیدا کرنے اور جمہوری عمل پر عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے ضروری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکی پابندیوں پر شدید ردعمل، ایسی سیاست خود واشنگٹن کے لیے وبال بن جائے گی، روس

سجاول میں تیل و گیس کا نیا ذخیرہ دریافت، شاہ بندر بلاک سے پیداوار شروع

حکومت نے 4 سالوں میں بجلی کے بل اور 2 سالوں میں پیٹرولیم لیوی سے کتنے ارب روپے کمائے؟ حیران کن اعداد و شمار

نیتن یاہو اور جے ڈی وینس آمنے سامنے، واشنگٹن خفیہ ملاقات میں کیا ہوا؟  تفصیلات سامنے آگئیں

بشریٰ بی بی نے سزا معطلی کے لیے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کر لیا

ویڈیو

محدود وسائل میں عائشہ بلوچ نے بھارت کو کیسے چت کیا؟ باکسر کی متاثر کن کہانی

ایکشن کمیٹی نے الیکشن فارم سے ریاست پاکستان سے وفاداری کی شق نکالنے کا مطالبہ کیا، وزیر امور کشمیر امیر مقام

جسٹن گریوز نے ٹیسٹ کرکٹ میں منفرد عالمی ریکارڈ قائم کرلیا، ’سہولت کار‘ پاکستان ٹیم

کالم / تجزیہ

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

اے ٹی ایم مشین