بھارت کے معروف سماجی کارکن اور ماہر تعلیم سونم وانگچک کی جانب سے امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے خلاف شروع کی گئی بھوک ہڑتال نے ملک بھر میں نوجوانوں کی ایک بڑی احتجاجی تحریک کی شکل اختیار کر لی ہے۔
3 ہفتوں سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی بھوک ہڑتال کے بعد دہلی پولیس انہیں اسپتال منتقل کر دیا، جس کے بعد ان کی تحریک کو مزید عوامی حمایت حاصل ہونے لگی۔
یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار کے خلاف طلبہ کی بغاوت، پارلیمنٹ کی جانب احتجاجی مارچ، وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ
59 سالہ سونم وانگچک کا مطالبہ ہے کہ لاکھوں طلبہ کو متاثر کرنے والے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں۔
Day #23
I'll continue my fast……….. pic.twitter.com/rfohA8iMkx— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 20, 2026
وانگچک کا کہنا ہے کہ اس معاملے نے نہ صرف طلبہ کے مستقبل کو نقصان پہنچایا بلکہ دنیا بھر میں بھارت کی ساکھ کو بھی متاثر کیا ہے۔
بھوک ہڑتال کے دوران دہلی کے جنتر منتر میں موجود وانگچک کو ملک کے مختلف حصوں سے عوام، طلبہ اور بالی ووڈ شخصیات کی جانب سے حمایت کے پیغامات موصول ہوئے۔
مزید پڑھیں: بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک کی حالت تشویشناک، کاکروچ پارٹی کا ملک گیر بھوک ہڑتال کا اعلان
بعض حلقوں نے انہیں اکیسویں صدی کا مہاتما گاندھی بھی قرار دیا، تاہم انہوں نے اس تشبیہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ گاندھی ہیں اور نہ ہیرو، بلکہ صرف ایک عام شہری ہیں جو اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔
انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ دوسروں میں ہیرو تلاش کرنے کے بجائے خود اپنی زندگی کے ہیرو بنیں۔

لداخ سے تعلق رکھنے والے سونم وانگچک تعلیم کے شعبے میں اصلاحات، ماحولیاتی تحفظ اور پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے اپنی جدت پسند کوششوں کے باعث عالمی شہرت رکھتے ہیں۔
انہوں نے برف سے مصنوعی گلیشیئر، جنہیں ’آئس اسٹوپا‘ کہا جاتا ہے، متعارف کرائے تاکہ موسم سرما میں پانی ذخیرہ کر کے گرمیوں میں آبپاشی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
ان خدمات کے اعتراف میں انہیں 2018 میں ایشیا کے ممتاز ریمن میگسیسے ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔
“Sonam has decided to continue his hunger strike seeing the way protestors were treated yesterday.
He'll not break it until Parliament takes cognizance.
Police forced there way in the truck I was in and tried to take Abhijeet; everyone protected me by forming a human chain.”
— News Arena India (@NewsArenaIndia) July 21, 2026
سن 1966 میں لداخ کے ایک دور افتادہ گاؤں میں پیدا ہونے والے وانگچک نے طالب علمی کے زمانے میں ہی طلبہ کے لیے مفت تعلیمی پروگرام شروع کیے اور بعد ازاں اسٹوڈنٹس ایجوکیشنل اینڈ کلچرل موومنٹ آف لداخ کی بنیاد رکھی۔
حالیہ برسوں میں وہ لداخ کے لیے زیادہ خودمختاری اور ماحولیاتی تحفظ کے مطالبات کی قیادت بھی کرتے رہے ہیں، 2025 میں لداخ کو ریاست کا درجہ دینے کے مطالبے پر ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد انہیں تقریباً 6 ماہ قید بھی کاٹنا پڑی، تاہم انہوں نے تشدد پر اکسانے کے الزامات کی تردید کی تھی۔
مزید پڑھیں: ’استعفیٰ دو ورنہ پارلیمنٹ اکھاڑ کربھارت کو نیپال بنا دیں گے‘، مودی حکومت کے خلاف احتجاج شدت اختیار کرگیا
سونم وانگچک نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ 6 ہفتے تک بھوک ہڑتال جاری رکھ سکتے ہیں، تاہم انہیں امید ہے کہ جمہوری حکومت عوام کی آواز سنے گی۔
ان کے بقول وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ نظام میں جوابدہی پیدا کرنے اور جمہوری عمل پر عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے ضروری ہے۔














