بھارت کی شمال مشرقی ہمالیائی ریاست سکم میں زیر تعمیر پن بجلی منصوبے کی ایک سرنگ منہدم ہونے کے نتیجے میں کم از کم 9 مزدور ہلاک ہوگئے، جبکہ 15 سے زائد افراد کے تاحال ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق یہ حادثہ دریائے تیستا پر تعمیر کیے جانے والے ایک سرکاری پن بجلی منصوبے کی سرنگ میں پیش آیا، جہاں مزدور معمول کے تعمیراتی کام میں مصروف تھے۔ حادثے کے بعد ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی شروع کردی، تاہم سرنگ کے اندر موجود خطرناک گیس اور ملبے کی صورتحال کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
سکم اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر راجیو روکا نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق 25 سے 27 افراد سرنگ کے اندر پھنس گئے تھے، جن میں سے 9 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جبکہ دیگر افراد کی تلاش جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سرنگ کے منہدم ہونے کی ممکنہ وجہ ایک دھماکا ہو سکتی ہے، تاہم اس دھماکے کی اصل نوعیت اور وجہ کا فوری طور پر تعین نہیں کیا جا سکا۔
راجیو روکا کا کہنا تھا کہ ’ہمیں یقین سے معلوم نہیں کہ دھماکا کس وجہ سے ہوا، کیونکہ یہ واقعہ سرنگ کے کافی اندر پیش آیا، تاہم امکان ہے کہ یہ قدرتی عمل کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔‘
حکام کے مطابق حادثے کے وقت علاقے میں مون سون کی شدید بارشیں بھی جاری تھیں، جس کے باعث زمین کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی ہے اور امدادی کارروائیوں میں اضافی احتیاط برتی جا رہی ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق زیر زمین چٹانوں سے خارج ہونے والی میتھین گیس بھی امدادی کارروائیوں میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔ سرنگ کے اندر گیس کی خطرناک مقدار موجود ہونے کے باعث صرف آکسیجن آلات سے لیس تربیت یافتہ امدادی اہلکاروں کو ہی اندر جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
راجیو روکا نے کہا کہ سرنگ کے اندر گیس کی موجودگی کے باعث ریسکیو آپریشن کی رفتار متاثر ہوئی ہے، تاہم امدادی ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کان کنی اور زیر زمین حادثات سے نمٹنے میں مہارت رکھنے والی ایک خصوصی ٹیم کو بھی فضائی راستے سے جائے حادثہ پر پہنچا دیا گیا ہے تاکہ ریسکیو آپریشن میں مدد فراہم کی جا سکے۔
واضح رہے کہ سکم ایک پہاڑی ریاست ہے جہاں بڑے پیمانے پر پن بجلی منصوبے تعمیر کیے جا رہے ہیں، تاہم خطے کا دشوار گزار جغرافیہ، لینڈ سلائیڈنگ، شدید بارشیں اور زیر زمین تعمیرات کے خطرات ماضی میں بھی کئی حادثات کا سبب بن چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ہمالیائی علاقوں میں تعمیراتی منصوبوں کے دوران ماحولیاتی اور جغرافیائی خطرات کو مدنظر رکھنا انتہائی ضروری ہے۔














