ملائیشیا کے وزیر داخلہ سیف الدین ناسوتیون بن اسماعیل نے وزارت داخلہ کا دورہ کیا جہاں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ون آن ون ملاقات ہوئی۔ بعد ازاں دونوں ممالک کے وزرائے داخلہ کے درمیان وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے۔
ملاقات میں پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان انسداد دہشتگردی، انسداد منشیات، غیر قانونی امیگریشن اور سائبر کرائمز کی روک تھام کے لیے تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
مزید پڑھیں:اسحاق ڈار کی ملائیشیا کے وزیر داخلہ سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق
دونوں جانب سے دہشتگردوں اور منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے انٹیلی جنس شیئرنگ بڑھانے اور انسداد دہشتگردی، انسداد منشیات اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ حکمت عملی کو مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
مذاکرات میں دونوں وزارتوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے جوائنٹ ورکنگ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا، جبکہ پاکستان اور ملائیشیا کے کوسٹ گارڈز کے شعبوں میں تجربات سے استفادہ کرنے اور تربیتی پروگرامز میں اشتراک بڑھانے پر بھی بات چیت ہوئی۔
ملائیشیا کے وزیر داخلہ سیف الدین ناسوتیون بن اسماعیل نے وزارت داخلہ کا دورہ کیا جہاں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ون آن ون ملاقات ہوئی۔ بعد ازاں دونوں ممالک کے وزرائے داخلہ کے درمیان وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے۔@KulAalam @AmirSaeedAbbasi pic.twitter.com/xel8rl9zhv
— Media Talk (@mediatalk922) August 22, 2026
پاکستان کی نیشنل پولیس اکیڈمی اور رائل ملائیشین پولیس کالج کے درمیان تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان ملائیشیا کے کوسٹ گارڈ کے شعبے میں تجربات سے استفادہ کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے ملائیشین وزیر داخلہ کا دورہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو اگلی سطح پر لے جانے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
مزید پڑھیں:ملائیشیا کے وزیر داخلہ کا پاکستان مونومنٹ اور اسلام آباد پولیس لائنز کا دورہ
محسن نقوی نے کہا کہ ملائیشیا مسلم ممالک میں تیز رفتار ترقی کرنے والا ملک ہے۔ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان سیاحت کے فروغ اور ویزا سہولیات میں آسانی کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ملائیشیا سیاحت کے لیے پاکستانیوں کے لیے بہترین آپشن ہے، جبکہ پاکستانیوں کے لیے ورک کوٹہ بڑھنے سے مزید پاکستانی قانونی طریقے سے ملائیشیا آسکیں گے۔














