قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کی ذیلی کمیٹی نے پاکستان اسپورٹس بورڈ سے تمام اخراجات کی آڈٹ رپورٹس، ڈویلپمنٹ اور نان ڈویلپمنٹ فنڈز کی مکمل تفصیلات طلب کر لی۔
مہرین رزاق بھٹو کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان اسپورٹس بورڈ کی کارکردگی، اخراجات، تربیتی پروگراموں اور کھیلوں کے فروغ سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے آغاز پر مہرین بھٹو نے ڈی جی پاکستان اسپورٹس بورڈ کی عدم موجودگی پر استفسار کیا، جس پر وفاقی سیکرٹری آئی پی سی نے بتایا کہ وہ کامن ویلتھ گیمز کے سلسلے میں بیرون ملک ہیں، جبکہ ان کی جگہ شاہد اسلام پی ایس بی کی نمائندگی کریں گے۔
شاہد اسلام کے خلاف انکوائری سے متعلق سوال پر سیکرٹری آئی پی سی نے بتایا کہ ایک ایوارڈ کے معاملے میں ان کے خلاف تحقیقات ہوئی تھیں تاہم وہ بے قصور قرار پائے۔مہرین رزاق بھٹو نے پی ایس بی میں ڈپیوٹیشن پر تعینات افسران کی بڑی تعداد پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ باہر سے آنے والے افسران مراعات لے کر چلے جاتے ہیں، اس لیے ادارے میں صرف اہل اور ماہر افراد کو تعینات کیا جانا چاہیے۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران 196 تربیتی کیمپس منعقد کیے گئے، جن میں 5 ہزار 208 کھلاڑیوں اور کوچز نے شرکت کی، جبکہ ان کیمپس پر مجموعی طور پر 35 کروڑ 81 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔ مہرین رزاق بھٹو نے قومی ہیرو جان شیر خان کی عیادت اور دیکھ بھال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی ہیروز کا خیال رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
ڈپیوٹیشن افسران کے معاملے پر مہرین رزاق بھٹو نے کہا کہ پی ایس بی نے کمیٹی کو مکمل معلومات فراہم نہیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ ادارے میں ڈپیوٹیشن افسران کی بھرمار ہے، انہیں دی جانے والی مراعات کی مکمل تفصیلات سامنے لائی جائیں اور ماہرین کے بجائے ہر کسی کو پی ایس بی میں لانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے متعلقہ حکام کی نیت درست ہو، لیکن کمیٹی کو تمام حقائق اور ریکارڈ فراہم کرنا ضروری ہے۔














