افغان طالبان کا کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے متعلق رویہ ایک بار پھر سوالات کی زد میں آگیا ہے۔
واشنگٹن میں مقیم امور خارجہ اور جنوبی ایشیا کے معروف امریکی ماہر مائیکل کوگلمین نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اب بھی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں سے فائدہ اٹھا رہی ہے، جس کی بنیادی وجہ افغان طالبان کے ساتھ اس کے دیرینہ تعلقات اور اتحادی شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی سے طالبان کی مسلسل گریز کی پالیسی ہے۔
ٹی ٹی پی کو اب بھی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں حاصل
مائیکل کوگلمین کے مطابق متعدد شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ٹی ٹی پی کے عناصر افغانستان میں موجود ہیں اور انہیں وہاں محفوظ ٹھکانے میسر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے درمیان قریبی تعلقات کے باعث طالبان اس تنظیم کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں، حالانکہ وہ ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
پاکستان اور طالبان مذاکرات بے نتیجہ
تجزیہ کار نے کہاکہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مختلف سطحوں پر متعدد مذاکرات ہو چکے ہیں، جن میں چین کی ثالثی سے ہونے والے رابطے بھی شامل ہیں، تاہم ان کوششوں سے کوئی نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
انہوں نے کہاکہ اسلام آباد کی جانب سے بارہا ٹی ٹی پی کے خلاف مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا گیا، لیکن اب تک افغان طالبان کی جانب سے ایسے عملی اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے جن سے اس خطرے میں واضح کمی واقع ہوئی ہو۔
علاقائی سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ
مائیکل کوگلمین کے مطابق ٹی ٹی پی کا مسئلہ اب بھی خطے کی سلامتی کے لیے ایک مستقل چیلنج بنا ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں اس خطرے کے فوری خاتمے کے امکانات دکھائی نہیں دیتے، کیونکہ اب تک ہونے والی سفارتی اور سیاسی کوششیں مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک ٹی ٹی پی کے خلاف مؤثر اور عملی کارروائی نہیں کی جاتی، یہ تنظیم پاکستان سمیت پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک سنجیدہ سکیورٹی چیلنج بنی رہے گی۔













