3 سال بعد بیرون ملک ٹیسٹ: ویسٹ انڈیز کے خلاف پاکستان کرکٹ ٹیم کے امتحان کا 25 جولائی سے آغاز

منگل 21 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کرکٹ ٹیم تقریباً 3 برس بعد بیرون ملک ٹیسٹ کرکٹ میں فتح حاصل کرنے کے عزم کے ساتھ 25 جولائی سے ویسٹ انڈیز کے خلاف 2 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا آغاز کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: پی سی بی نے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام فار اسکولز کے دوسرے سیزن کا اعلان کر دیا

برائن لارا کرکٹ اکیڈمی، ٹراؤبا میں کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ کے ساتھ قومی ٹیم نہ صرف اپنی شکستوں کا سلسلہ توڑنے بلکہ ٹیسٹ کرکٹ میں نئی شناخت بنانے کی کوشش کرے گی۔

پاکستان نے آخری مرتبہ 2023 میں سری لنکا کو اس کی سرزمین پر 2-0 سے شکست دی تھی تاہم اس کے بعد قومی ٹیم ایشیا، آسٹریلیا اور دیگر میدانوں میں مسلسل 7 بیرون ملک ٹیسٹ میچ ہار چکی ہے۔ یہی خراب کارکردگی سلیکٹرز کو ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرنے پر مجبور کر گئی۔

اس بار ٹیم کی قیادت دوبارہ بابر اعظم کے سپرد کی گئی ہے جو سری لنکا میں کامیاب سیریز کے بعد پہلی مرتبہ ٹیسٹ کپتان کی حیثیت سے میدان میں اتریں گے۔ نئی ٹیم میں کئی نوجوان اور نئے چہرے شامل کیے گئے ہیں جو پاکستان کی ٹیسٹ حکمتِ عملی میں بڑی تبدیلی کا اشارہ دیتے ہیں۔

فاسٹ بولنگ میں بڑی تبدیلی، شاہین اور حسن علی باہر

گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران پاکستان کے فاسٹ بولرز کی کارکردگی شدید تنقید کی زد میں رہی۔ اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2024 کے آغاز سے پاکستانی پیسرز نے صرف 92 وکٹیں حاصل کیں جو زمبابوے سے بھی کم ہیں جبکہ صرف آئرلینڈ اور افغانستان کی کارکردگی اس سے کم رہی۔

اسی مایوس کن کارکردگی کے بعد شاہین شاہ آفریدی اور حسن علی کو ٹیم سے باہر کردیا گیا ہے جبکہ ان کی جگہ محمد علی، عامر جمال اور 20 سالہ عبید شاہ کو موقع دیا گیا ہے جن سے رفتار، جارحانہ بولنگ اور نئی توانائی کی امید کی جا رہی ہے۔

محمد علی کی واپسی

4 ٹیسٹ کھیلنے والے محمد علی تقریباً 2 سال بعد قومی ٹیم میں واپس آئے ہیں۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں ان کے 66 میچوں میں 244 وکٹیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ مسلسل اچھی کارکردگی دکھاتے رہے ہیں۔

انہوں نے قائداعظم ٹرافی 2025-26 میں سیالکوٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے 9 میچوں میں 32 وکٹیں حاصل کیں جبکہ پریزیڈنٹس ٹرافی میں بھی عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کیا۔

مزید پڑھیے: ٹی20 کے بعد بھارت کو انگلینڈ کے خلاف ایک روزہ سیریز میں بھی شکست

پاکستان سپر لیگ 2026 میں حیدرآباد کنگزمین کی جانب سے 20 وکٹیں لے کر وہ سب سے کامیاب پاکستانی فاسٹ بولر رہے جس کے بعد انہیں انگلش کاؤنٹی ناٹنگھم شائر کے لیے ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ کھیلنے کا موقع ملا، جہاں انہوں نے 10 میچوں میں 19 وکٹیں حاصل کیں۔

عامر جمال کی واپسی

عامر جمال نے 2023-24 کے آسٹریلیا دورے میں اپنی ٹیسٹ صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا تھا۔ پہلے ہی ٹیسٹ میں انہوں نے 6 وکٹیں حاصل کیں جبکہ سڈنی ٹیسٹ میں 82 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر آل راؤنڈر کی حیثیت بھی منوائی۔

کمر کی انجری کے باعث وہ بعد ازاں ٹیم سے باہر ہوگئے تھے تاہم قائداعظم ٹرافی اور دیگر ڈومیسٹک ٹورنامنٹس میں اچھی کارکردگی کے بعد دوبارہ قومی ٹیم میں شامل کیے گئے ہیں۔

عامر جمال حال ہی میں یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ’ریڈ بال کرکٹ ہی اصل ورثہ ہے‘ اور وہ ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی بہترین کارکردگی دکھانا چاہتے ہیں۔

نوجوان عبید شاہ پر نظریں

20 سالہ عبید شاہ پہلی مرتبہ ٹیسٹ اسکواڈ کا حصہ بنے ہیں۔ وہ 140 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار سے بولنگ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور صرف 16 فرسٹ کلاس میچوں میں 72 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔

انہوں نے 2024 کے انڈر-19 ورلڈ کپ میں 18 وکٹیں لے کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا تھا اور اب انہیں پاکستان کے مستقبل کے اہم فاسٹ بولر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بابر اعظم کے لیے بھی بڑا امتحان

بابر اعظم کی بطور ٹیسٹ کپتان پہلی مدت نسبتاً کامیاب رہی تھی جس میں پاکستان نے جنوبی افریقہ، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے خلاف سیریز جیتیں۔

تاہم گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران ان کی بیٹنگ اوسط میں واضح کمی آئی، جس کے باعث ان پر شدید دباؤ رہا۔ حالیہ پاکستان سپر لیگ میں ریکارڈ رنز بنانے اور آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز میں اچھی کارکردگی کے بعد اب ان کے اعتماد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ویسٹ انڈیز روانگی سے قبل 4 روزہ وارم اپ میچ میں بابر اعظم نے صرف 151 گیندوں پر شاندار سینچری اسکور کی جو دسمبر 2022 کے بعد ان کی پہلی بڑی ریڈ بال سینچری ہے۔ یہ اننگز قومی ٹیم کے لیے بھی حوصلہ افزا ثابت ہوئی۔

ویسٹ انڈیز آسان حریف نہیں

پاکستان کے لیے یہ سیریز ہرگز آسان نہیں ہوگی کیونکہ ویسٹ انڈیز نے حال ہی میں سری لنکا کو ایک اننگز اور 217 رنز سے شکست دے کر اپنی مضبوط فارم کا ثبوت دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹی 20 آل راؤنڈر رینکنگ: صائم ایوب نے ہاردک پانڈیا کو پیچھے چھوڑ دیا، دوسری پوزیشن حاصل کرلی

پاکستان نے اس سیریز کے لیے کئی نئے چہروں کو موقع دیا ہے جن میں قائداعظم ٹرافی کے کامیاب اسپنر علی عثمان، نوجوان بیٹرز اذان اویس اور عبداللہ فضل شامل ہیں جبکہ تجربہ کار فاسٹ بولر محمد عباس بھی ٹیم میں واپس آئے ہیں۔

نئی شروعات کا موقع

ویسٹ انڈیز کا یہ دورہ پاکستان کے لیے محض دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز نہیں بلکہ ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کا موقع بھی ہے۔ نئی قیادت، نئے فاسٹ بولرز اور نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ قومی ٹیم اس امید کے ساتھ میدان میں اترے گی کہ تین سال بعد بیرونِ ملک فتح کا انتظار ختم ہو جائے گا۔

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ (ویسٹ انڈیز سیریز)

بابر اعظم (کپتان)، عامر جمال، عبداللہ فضل، علی عثمان، اذان اویس، امام الحق، خرم شہزاد، محمد عباس، محمد علی، محمد رضوان (وکٹ کیپر)، محمد اویس ظفر، محمد غازی غوری (وکٹ کیپر)، ساجد خان، سلمان علی آغا، شان مسعود اور عبید شاہ۔

سیریز کا شیڈول

پہلا ٹیسٹ: 25 تا 29 جولائی، برائن لارا کرکٹ اکیڈمی، ٹراؤبا

دوسرا ٹیسٹ: 2 تا 6 اگست، کوئنز پارک اوول، پورٹ آف اسپین

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی آئی اے اور ایئر فرانس کا اشتراک، ایک ہی ٹکٹ پر یورپ کے 21 شہروں کا سفر ممکن

راول ڈیم صفائی مہم، 200 سے زیادہ رضاکاروں کی شرکت، 2 ٹن کچرا اٹھا لیا

پاکستان میں مذہبی آزادی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ’آئی آر ایف پیس بلڈر فورم‘ اگست میں شروع ہوگا

جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل امیر العظیم انتقال کر گئے

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کردیا گیا

ویڈیو

اسحاق ڈار کی فلپائن میں سری لنکا اور مصر کے وزرائے خارجہ سے اہم ملاقاتیں

پاکستان نے ہاتھ کھڑے کردیے، ایران کو الٹی میٹم، کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج سے مودی پریشان، نواز شریف کی انوکھی خواہش

بھارت میں طلبا احتجاج نہیں، ہندتوا فاشسٹ سوچ کے خلاف بغاوت ہوئی ہے، سابق سینیٹر مشاہد حسین سید

کالم / تجزیہ

مزید عدالتیں یا بہتر انصاف؟

فلم تھری ایڈیٹس کے حقیقی رانچھو کی اصل جنگ

کشمیر انتخابات: تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے