پاکستان کرکٹ ٹیم تقریباً 3 برس بعد بیرون ملک ٹیسٹ کرکٹ میں فتح حاصل کرنے کے عزم کے ساتھ 25 جولائی سے ویسٹ انڈیز کے خلاف 2 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا آغاز کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پی سی بی نے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام فار اسکولز کے دوسرے سیزن کا اعلان کر دیا
برائن لارا کرکٹ اکیڈمی، ٹراؤبا میں کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ کے ساتھ قومی ٹیم نہ صرف اپنی شکستوں کا سلسلہ توڑنے بلکہ ٹیسٹ کرکٹ میں نئی شناخت بنانے کی کوشش کرے گی۔
پاکستان نے آخری مرتبہ 2023 میں سری لنکا کو اس کی سرزمین پر 2-0 سے شکست دی تھی تاہم اس کے بعد قومی ٹیم ایشیا، آسٹریلیا اور دیگر میدانوں میں مسلسل 7 بیرون ملک ٹیسٹ میچ ہار چکی ہے۔ یہی خراب کارکردگی سلیکٹرز کو ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرنے پر مجبور کر گئی۔
پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز
قومی ٹیسٹ اسکواڈ دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کھیلنے کے لیے ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو پہنچ گیا
قومی اسکواڈ آج آرام کرے گا
پاکستان کرکٹ ٹیم کل سے پریکٹس سیشن کا آغاز کرے گی
پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کھیلی جائے گی
پاکستان ٹیسٹ… pic.twitter.com/nn6LvaqwKO
— PCB Media (@TheRealPCBMedia) July 15, 2026
اس بار ٹیم کی قیادت دوبارہ بابر اعظم کے سپرد کی گئی ہے جو سری لنکا میں کامیاب سیریز کے بعد پہلی مرتبہ ٹیسٹ کپتان کی حیثیت سے میدان میں اتریں گے۔ نئی ٹیم میں کئی نوجوان اور نئے چہرے شامل کیے گئے ہیں جو پاکستان کی ٹیسٹ حکمتِ عملی میں بڑی تبدیلی کا اشارہ دیتے ہیں۔
فاسٹ بولنگ میں بڑی تبدیلی، شاہین اور حسن علی باہر
گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران پاکستان کے فاسٹ بولرز کی کارکردگی شدید تنقید کی زد میں رہی۔ اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2024 کے آغاز سے پاکستانی پیسرز نے صرف 92 وکٹیں حاصل کیں جو زمبابوے سے بھی کم ہیں جبکہ صرف آئرلینڈ اور افغانستان کی کارکردگی اس سے کم رہی۔
اسی مایوس کن کارکردگی کے بعد شاہین شاہ آفریدی اور حسن علی کو ٹیم سے باہر کردیا گیا ہے جبکہ ان کی جگہ محمد علی، عامر جمال اور 20 سالہ عبید شاہ کو موقع دیا گیا ہے جن سے رفتار، جارحانہ بولنگ اور نئی توانائی کی امید کی جا رہی ہے۔
محمد علی کی واپسی
4 ٹیسٹ کھیلنے والے محمد علی تقریباً 2 سال بعد قومی ٹیم میں واپس آئے ہیں۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں ان کے 66 میچوں میں 244 وکٹیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ مسلسل اچھی کارکردگی دکھاتے رہے ہیں۔
انہوں نے قائداعظم ٹرافی 2025-26 میں سیالکوٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے 9 میچوں میں 32 وکٹیں حاصل کیں جبکہ پریزیڈنٹس ٹرافی میں بھی عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کیا۔
مزید پڑھیے: ٹی20 کے بعد بھارت کو انگلینڈ کے خلاف ایک روزہ سیریز میں بھی شکست
پاکستان سپر لیگ 2026 میں حیدرآباد کنگزمین کی جانب سے 20 وکٹیں لے کر وہ سب سے کامیاب پاکستانی فاسٹ بولر رہے جس کے بعد انہیں انگلش کاؤنٹی ناٹنگھم شائر کے لیے ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ کھیلنے کا موقع ملا، جہاں انہوں نے 10 میچوں میں 19 وکٹیں حاصل کیں۔
عامر جمال کی واپسی
عامر جمال نے 2023-24 کے آسٹریلیا دورے میں اپنی ٹیسٹ صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا تھا۔ پہلے ہی ٹیسٹ میں انہوں نے 6 وکٹیں حاصل کیں جبکہ سڈنی ٹیسٹ میں 82 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر آل راؤنڈر کی حیثیت بھی منوائی۔
Pakistan vs West Indies Test Series Preview: Babar Azam Leads Pakistan into a Crucial Challenge
Pakistan begin their highly anticipated Test series against the West Indies on 26 July, with Babar Azam leading the side in a contest expected to test both teams' temperament and… pic.twitter.com/WAS3bHmUfO
— SportsCapitol Intl. (@SportsCapitolin) July 21, 2026
کمر کی انجری کے باعث وہ بعد ازاں ٹیم سے باہر ہوگئے تھے تاہم قائداعظم ٹرافی اور دیگر ڈومیسٹک ٹورنامنٹس میں اچھی کارکردگی کے بعد دوبارہ قومی ٹیم میں شامل کیے گئے ہیں۔
عامر جمال حال ہی میں یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ’ریڈ بال کرکٹ ہی اصل ورثہ ہے‘ اور وہ ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی بہترین کارکردگی دکھانا چاہتے ہیں۔
نوجوان عبید شاہ پر نظریں
20 سالہ عبید شاہ پہلی مرتبہ ٹیسٹ اسکواڈ کا حصہ بنے ہیں۔ وہ 140 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار سے بولنگ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور صرف 16 فرسٹ کلاس میچوں میں 72 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔
انہوں نے 2024 کے انڈر-19 ورلڈ کپ میں 18 وکٹیں لے کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا تھا اور اب انہیں پاکستان کے مستقبل کے اہم فاسٹ بولر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بابر اعظم کے لیے بھی بڑا امتحان
بابر اعظم کی بطور ٹیسٹ کپتان پہلی مدت نسبتاً کامیاب رہی تھی جس میں پاکستان نے جنوبی افریقہ، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے خلاف سیریز جیتیں۔
تاہم گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران ان کی بیٹنگ اوسط میں واضح کمی آئی، جس کے باعث ان پر شدید دباؤ رہا۔ حالیہ پاکستان سپر لیگ میں ریکارڈ رنز بنانے اور آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز میں اچھی کارکردگی کے بعد اب ان کے اعتماد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ویسٹ انڈیز روانگی سے قبل 4 روزہ وارم اپ میچ میں بابر اعظم نے صرف 151 گیندوں پر شاندار سینچری اسکور کی جو دسمبر 2022 کے بعد ان کی پہلی بڑی ریڈ بال سینچری ہے۔ یہ اننگز قومی ٹیم کے لیے بھی حوصلہ افزا ثابت ہوئی۔
ویسٹ انڈیز آسان حریف نہیں
پاکستان کے لیے یہ سیریز ہرگز آسان نہیں ہوگی کیونکہ ویسٹ انڈیز نے حال ہی میں سری لنکا کو ایک اننگز اور 217 رنز سے شکست دے کر اپنی مضبوط فارم کا ثبوت دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹی 20 آل راؤنڈر رینکنگ: صائم ایوب نے ہاردک پانڈیا کو پیچھے چھوڑ دیا، دوسری پوزیشن حاصل کرلی
پاکستان نے اس سیریز کے لیے کئی نئے چہروں کو موقع دیا ہے جن میں قائداعظم ٹرافی کے کامیاب اسپنر علی عثمان، نوجوان بیٹرز اذان اویس اور عبداللہ فضل شامل ہیں جبکہ تجربہ کار فاسٹ بولر محمد عباس بھی ٹیم میں واپس آئے ہیں۔
🚨 Starting 25th July! West Indies vs Pakistan Test Series is officially here and the Caribbean is about to get very heated 🌴🏏 2 Tests, WTC points on the line, Babar back at the helm 🔥 Who comes out on top? 👀 pic.twitter.com/s1Po3lbjyy
— Umar Farooq (@UmarFarooq31369) July 20, 2026
نئی شروعات کا موقع
ویسٹ انڈیز کا یہ دورہ پاکستان کے لیے محض دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز نہیں بلکہ ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کا موقع بھی ہے۔ نئی قیادت، نئے فاسٹ بولرز اور نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ قومی ٹیم اس امید کے ساتھ میدان میں اترے گی کہ تین سال بعد بیرونِ ملک فتح کا انتظار ختم ہو جائے گا۔
پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ (ویسٹ انڈیز سیریز)
بابر اعظم (کپتان)، عامر جمال، عبداللہ فضل، علی عثمان، اذان اویس، امام الحق، خرم شہزاد، محمد عباس، محمد علی، محمد رضوان (وکٹ کیپر)، محمد اویس ظفر، محمد غازی غوری (وکٹ کیپر)، ساجد خان، سلمان علی آغا، شان مسعود اور عبید شاہ۔
سیریز کا شیڈول
پہلا ٹیسٹ: 25 تا 29 جولائی، برائن لارا کرکٹ اکیڈمی، ٹراؤبا
دوسرا ٹیسٹ: 2 تا 6 اگست، کوئنز پارک اوول، پورٹ آف اسپین













