‘ہم پڑھنا چاہتے ہیں لیکن حکومت چاہتی ہے ہم بھی چائے بیچیں’، بھارت میں جین زی مودی کے خلاف پھٹ پڑی

بدھ 22 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کا دارالحکومت دہلی کئی روز سے احتجاجی مظاہروں کی زد میں ہے جہاں طلبہ اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرتے ہوئے مودی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

مظاہرین کو روکنے کے لیے بھارتی پولیس نے سخت کارروائی کی۔ احتجاج میں شریک نوجوانوں پر لاٹھی چارج کیا گیا، آنسو گیس کے شیل برسائے گئے جبکہ متعدد مظاہرین کے ساتھ تشدد کی ویڈیوز بھی سامنے آئیں۔

احتجاج کرنے والے نوجوانوں نے مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک میں نہ معیاری تعلیمی نظام موجود ہے اور نہ ہی تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ’ہم پڑھنا چاہتے ہیں لیکن حکومت چاہتی ہے کہ ہم بھی چائے بیچیں‘۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ بھارت میں عوام کو حکومت سے سوال پوچھنے کی بھی آزادی حاصل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نریندر مودی گزشتہ 12 برسوں میں ایک بھی باقاعدہ پریس کانفرنس نہیں کر سکے جبکہ ملکی میڈیا بک چکا ہے اور حکومتی دباؤ کے باعث اپنی آزادی کھو چکا ہے۔

احتجاج میں شریک نوجوانوں نے کہا کہ انہیں بنیادی سہولیاتِ زندگی تک میسر نہیں وہ قرض لے کر اپنی تعلیم مکمل کر رہے ہیں مگر ڈگری حاصل کرنے کے باوجود روزگار کے مواقع موجود نہیں۔

نئی دہلی میں احتجاج کرنے والے طلبہ نے این ڈی ٹی وی کے رپورٹر کو دیکھتے ہی ’گودی میڈیا ہائے ہائے‘ کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔

ایک بھارتی صارف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ  دیکھیں دہلی پولیس کس طرح مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔ لاٹھی چارج، تشدد اور کریک ڈاؤن نے ایک پُرامن احتجاج کو کشیدہ صورتحال میں تبدیل کر دیا۔ یہ وہ مناظر ہیں جوگودی میڈیا عوام کو نہیں دکھاتا۔

ایک اور ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طلبہ کے احتجاج پر بھارتی پولیس تشدد کر رہی ہے جبکہ مار کھاتا ایک نوجوان مسلسل کہہ رہا ہے مارو، مجھے اور مارو۔

نوجوان بھارتی طالبات نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ احتجاج کے دوران خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی گئی، ان کے کپڑے پھاڑے گئے اور انہیں ہراساں کیا گیا۔

مظاہرین نے تعلیمی و امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں، شفافیت کے فقدان اور بے روزگاری کو موجودہ حکومت کی ناکامی قرار دیتے ہوئے وزیرِاعظم نریندر مودی اور بھارتی وزیرِ تعلیم سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا۔

احتجاجی طلبہ کا کہنا ہے کہ جب تک تعلیمی اصلاحات، شفاف امتحانی نظام اور نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے جاتے ان کی احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp