کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کی قیادت میں جاری احتجاجی تحریک کو بالی ووڈ کی معروف شخصیات کی حمایت حاصل ہونے لگی ہے۔ اداکار پرکاش راج نے احتجاجی مارچ میں شریک ہو کر نوجوانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا اور کہا کہ ملک میں ایک بار پھر تحریکِ آزادی جیسی عوامی لہر جنم لے رہی ہے۔
ان کے علاوہ نصیر الدین شاہ، شبانہ اعظمی، پونم پانڈے اور دیگر فنکار بھی مختلف انداز میں مظاہرین کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ متعدد معروف شخصیات نے سوشل میڈیا کے ذریعے بھی احتجاج سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ‘ہم پڑھنا چاہتے ہیں لیکن حکومت چاہتی ہے ہم بھی چائے بیچیں’، بھارت میں جین زی مودی کے خلاف پھٹ پڑی
بالی ووڈ کے سینئر اداکار نصیرالدین شاہ نے دہلی میں طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ طلبہ کے ساتھ ہونے والے مبینہ سلوک پر ’غصے سے کھول رہے ہیں‘۔ انہوں نے احتجاج کرنے والے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ہمت نہ ہاریں اور اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔
Legendary actor Naseeruddin Shah shares a video, fuming about the way youth were beaten up yesterday in Delhi. He reminds the government, “Sab yaad rakha jayega”
Thank you sir for your voice and solidarity 🙏 pic.twitter.com/pDmp2G4U3R
— Cockroach is Back (@Cockroachisback) July 21, 2026
سوشل میڈیا پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں نصیرالدین شاہ نے کہا کہ اگر کسی نااہل شخص کے ہاتھ میں ملک کی قیادت ہو تو وہ چاہے گا کہ پورا معاشرہ بھی اسی جیسا جاہل، ناسمجھ اور بے رحم بن جائے۔
اداکار نے طلبہ پر لاٹھی چارج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان مناظر کو دیکھ کر شدید غم و غصے میں ہیں۔ انہوں نے کارروائی میں شامل اہلکاروں کو ’غنڈے‘ قرار دیا اور ان کا موازنہ امریکا کے امیگریشن ادارے ICE کے اہلکاروں سے کیا جو ان کے بقول چہروں پر نقاب اور ہاتھوں میں ڈنڈے لیے ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا امرتسر کے بعد بنگلورو اور جے پور میں بھی بڑے احتجاج کا اعلان
نصیرالدین شاہ نے احتجاج کرنے والے طلبہ سے کہا کہ وہ مایوس نہ ہوں کیونکہ بہت سے لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ہمیشہ ملک کی نوجوان نسل سے امید رہی ہے اور حالیہ حالات نے اس امید کو مزید مضبوط کیا ہے۔
بھارتی فلم انڈسٹری کے معروف اداکار پرکاش راج نے کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں جاری احتجاجی تحریک کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے ملک کے نوجوان اپنے مستقبل کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ایک بار پھر تحریکِ آزادی جیسی لہر ابھرتی دکھائی دے رہی ہے۔ میں اس جدوجہد کو مضبوط کرتا رہوں گا، نوجوانوں کا ہاتھ تھامے رکھوں گا، اپنی طاقت ان کے ساتھ بانٹوں گا اور ان کے مستقبل کے لیے ان کے شانہ بشانہ کھڑا رہوں گا۔
VIDEO | Prakash Raj on the CJP protest: "I don't want to die before I actually die. People are scared, but we stand with the truth. We are not afraid to stand by what's right."#PrakashRaj #CJPProtest #SonamWangchuk pic.twitter.com/Ftip0r6URs
— Piantou (@piantou77) July 20, 2026
بھارتی ماڈل اور سوشل میڈیا انفلوئنسر عرفی جاوید نے بھی احتجاج کے دوران تشدد کی مذمت کرتے ہوئے لکھا کہ یہ مناظر دل توڑ دینے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں تشدد صرف متعلقہ اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ عرفی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ مذہب کے نام پر ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی کیوں نہیں کی جاتی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایم این ایز کے بچے بیرون ملک پڑھتے ہیں اور جب بھارتی طلبہ اپنے حق کے لیے لڑ رہے ہیں تو ان پر تشدد کیا جا رہا ہے۔
उफ्फ… उर्फी ने तो कमाल कर दिया! 😍
अपने बच्चों को भेजो विदेश,
और आम आदमी के बच्चों पर बरसाओ लाठियाँ!मैं किसी राजनीतिक पार्टी का समर्थन नहीं करता/करती,
मैं लोकतंत्र का समर्थन करता/करती हूँ।
ये सारी बातें ऊर्फी जावेद ने कही है 👏 pic.twitter.com/f6lFkIigU5— Anamika Pal (@BindasWith) July 22, 2026
اداکار و کامیڈین منور فاروقی منور فاروقی نے کہا کہ بھارت کے طلبہ صرف اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان کے مطابق طلبہ نے امتحانات کی تیاری کے لیے سخت محنت کی لیکن پرچہ لیک ہونے کے باعث ان کا وقت، محنت اور پیسہ ضائع ہو گیا۔
منور فاروقی نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے سے متاثر ہو کر 20 طلبہ اپنی جانیں بھی گنوا چکے ہیں مگر اس کے باوجود کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے نوجوان دہشت گرد نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے ساتھ ایسا سلوک ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق حکومت کو متعلقہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے اور اگر وہ اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کر رہے تو انہیں عہدوں سے ہٹا دینا چاہیے۔
View this post on Instagram
اپنے پیغام کے اختتام پر منور فاروقی نے کہا کہ ملک ایک غلط سمت میں جا رہا ہے جہاں سوال اٹھانے والی آوازیں ناپسند کی جا رہی ہیں جبکہ خاموشی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ خاموش نہ رہیں کیونکہ معاشرے کے سامنے ہر شہری کی اپنی ایک ذمہ داری ہے۔
احتجاج میں اداکارہ شبانہ اعظمی اور پونم پانڈے بھی شریک ہوئیں، جبکہ رتیک روشن، وشال دادلانی، سوناکشی سنہا اور چنمئی سری پادا سمیت متعدد فنکاروں نے سوشل میڈیا کے ذریعے سماجی کارکن سونم وانگچک اور احتجاجی تحریک سے اظہارِ یکجہتی کیا۔














