امریکا نے جمعہ کو ایران کے مختلف مقامات پر میزائل حملے کیے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور اس کے حمایت یافتہ یمنی حوثی گروپ کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
صدر ٹرمپ نے یوں تو تہران کو ’بڑی فوجی سزا‘ کی دھمکی دی ہے تاہم انہوں نے ایک بار پھر ایران کے ساتھ سفارتی معاہدے کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔
دو ہفتے قبل جنگ بندی کے عبوری معاہدے کے خاتمے کے بعد جاری لڑائی میں ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے پڑوسی عرب ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا اور خبردار کیا کہ امریکی اہلکاروں کے زیر استعمال غیر فوجی عمارتوں پر بھی حملے کیے جا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران جنگ مزید خطرناک مرحلے میں داخل، تہران کا ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ کی پالیسی پر عمل کا اعلان
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور ان کے بقول تہران ماضی کے مقابلے میں زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہا ہے، تاہم ابھی کسی معاہدے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کے پاس 2 راستے ہیں؛ ایک یہ کہ فوجی کارروائیاں مزید تیز کر دی جائیں اور دوسرا یہ کہ مذاکرات کے ذریعے تنازع ختم کیا جائے۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ہر ممکن کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، تاہم نئے بڑے حملوں کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔
Boom. At 6:45 PM ET, US forces launched a decisive strike on a major Iranian military base, completely leveling it.
A massive blow to the IRGC threat—the era of targeting innocent ships is officially OVER. 🇺🇸🇺🇸 pic.twitter.com/QBoEFqbg9c— PASCAL NAJADI JFK (@Pascalnajadchat) July 25, 2026
باب المندب میں حوثی گروپ کی جانب سے آئل ٹینکروں پر حملے کے حوالے سے ٹرمپ نے خبردار کیا کہ آئندہ ایسے کسی بھی حملے کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا جائے گا۔
امریکی فوج نے جمعرات کی رات اور جمعہ کی صبح مسلسل 13ویں رات بھی ایران میں فضائی حملے کیے، ایرانی ذرائع کے مطابق امریکی میزائلوں نے صوبہ گیلان میں پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر، بندر انزلی اور دیگر مقامات کو نشانہ بنایا۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا امریکا ایران کشیدگی پر اظہار تشویش، برادر ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ
سرکاری میڈیا کے مطابق اہواز شہر پر امریکی حملے میں 4 افراد جاں بحق اور 5 زخمی ہوئے، ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے خلیجی ممالک کے عوام کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی فوجی شہری عمارتوں کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے تو ایسی عمارتیں بھی حملوں کی زد میں آ سکتی ہیں۔
ایرانی وزارتِ صحت کے مطابق جون کے آخر میں جھڑپیں دوبارہ شروع ہونے کے بعد اب تک 59 افراد ہلاک اور 666 زخمی ہو چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران کی اندرونی طاقتوں میں کشمکش کے اثرات پوری دنیا بھگت رہی ہے، سینیئر صحافی محمد عاطف
ادھر ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت میں امریکی فوجی تنصیبات، بحرین میں امریکی 5ویں بحری بیڑے کی نگرانی کے ایک ٹاور، اردن میں امریکی فوجی اڈوں اور عراق کے کردستان کے شہر اربیل میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
اردن کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ایران سے داغے گئے 7 میزائل اور 6 ڈرونز مار گرائے اور حملوں میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
مزید پڑھیں: اسرائیلی حملوں نے امریکا ایران مذاکرات کو پٹڑی سے اتار دیا تھا، اسحاق ڈار کا العربیہ کو انٹرویو
ذرائع کے مطابق پاکستان، چین کی کوششوں کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان تعطل سے دوچار مذاکرات بحال کرانے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے حالیہ دورۂ اسلام آباد کے دوران ابتدائی مشاورت بھی کی گئی۔
ادھر بغداد میں امریکی سفارت خانے نے مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی شہریوں کو محتاط اور ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔













