چین نے فلپائن پر جنوبی بحیرۂ چین کے متنازع علاقے میں اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی اور اشتعال انگیزی کا الزام عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایسے اقدامات بند کرے، جبکہ بیجنگ نے اپنے کوسٹ گارڈ کی کارروائی کو قانونی اور جائز قرار دیا ہے۔
چین نے فلپائن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنوبی بحیرۂ چین میں واقع متنازع ہوانگ یان ڈاؤ (اسکاربرو شول) کے قریب اپنی مبینہ خلاف ورزیاں، اشتعال انگیز کارروائیاں اور تشہیری مہم فوری طور پر بند کرے۔
#FMsays China on Friday urged the Philippines to immediately halt its infringing and provocative acts as well as media hype, after Manila provoked incidents and created tensions for publicity in China's territorial waters off Huangyan Island. "This once again proves that the… pic.twitter.com/zn3eayBKHI
— China Daily (@ChinaDaily) July 24, 2026
شنہوا نیوز ایجنسی کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے معمول کی پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ فلپائنی جہاز جان بوجھ کر چین کے زیرِ دعویٰ ہوانگ یان ڈاؤ کے سمندری علاقے میں داخل ہوئے، جس کے بعد چین نے اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے۔
لن جیان کا کہنا تھا کہ ہوانگ یان ڈاؤ ہمیشہ سے چین کا حصہ رہا ہے اور چینی کوسٹ گارڈ کی کارروائیاں مکمل طور پر قانونی، پیشہ ورانہ اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق تھیں۔
یہ بھی پڑھیں:جنوبی بحیرۂ چین میں ویتنامی جہاز ڈوب گیا، 37 افراد کو بچا لیا گیا، سرچ آپریشن جاری
انہوں نے فلپائن پر الزام لگایا کہ اس نے حالیہ کارروائی کے دوران صحافیوں کو بھی اپنے جہازوں پر ساتھ لے جا کر معاملے کو غیر ضروری طور پر نمایاں کیا اور سمندر میں کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی۔
چینی ترجمان نے کہا کہ فلپائن جنوبی بحیرۂ چین میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے اور خطے میں کشیدگی بڑھانے کا باعث بن رہا ہے، اس لیے اسے فوری طور پر اشتعال انگیز اقدامات سے باز آنا چاہیے۔













