کویت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کی منظوری دے دی

اتوار 26 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

کویت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان فوجی تربیت، دفاعی تعاون، انٹیلی جنس کے تبادلے اور عسکری شعبے میں مختلف سطحوں پر تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔

کویت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کی منظوری دیتے ہوئے ایک فرمانِ قانون جاری کر دیا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان عسکری اور دفاعی شعبوں میں تعاون کے لیے قانونی فریم ورک باقاعدہ طور پر نافذ ہو گیا ہے۔

کویتی سرکاری گزٹ کویت الیوم میں شائع ہونے والے فرمان کے مطابق اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانا اور فوجی تربیت، عسکری تعلیم، مسلح افواج کے باہمی تعاون اور دیگر دفاعی شعبوں میں اشتراک کو فروغ دینا ہے۔ معاہدے پر دونوں ممالک کے قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق عمل درآمد کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کے توانائی کے شعبے میں اہم پیشرفت، امریکا اور کویت کے ساتھ نئے تعاون کی راہ ہموار

معاہدے میں فوجی تربیت، لاجسٹک تعاون، فوجی اہلکاروں، تکنیکی ماہرین اور ماہرینِ دفاع کے تبادلے، سائنسی و تکنیکی تعاون، فوجی انٹیلی جنس اور باہمی اتفاق سے طے پانے والے دیگر شعبوں میں تعاون شامل ہے۔

معاہدے پر عمل درآمد کے لیے دونوں ممالک سالانہ منصوبے اور ایگزیکٹو پروٹوکول مرتب کریں گے، جبکہ مختلف سطحوں پر سرکاری وفود کے تبادلوں کے ذریعے تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔

اس مقصد کے لیے پاکستان اور کویت پر مشتمل ایک مشترکہ فوجی کمیٹی بھی قائم کی جائے گی، جو معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی اور رابطہ کاری کی ذمہ دار ہوگی۔ دونوں ممالک کے وزرائے دفاع کی جانب سے نامزد نمائندے اس کمیٹی کی سربراہی کریں گے، جبکہ کمیٹی سال میں ایک بار اجلاس منعقد کرے گی۔

معاہدے میں خفیہ معلومات کے تحفظ سے متعلق خصوصی شقیں بھی شامل کی گئی ہیں، جن کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے سے حاصل ہونے والی خفیہ دستاویزات، معلومات یا مواد کو تحریری اجازت کے بغیر کسی تیسرے فریق کے ساتھ شیئر نہیں کریں گے۔ یہ رازداری معاہدے کے خاتمے کے بعد بھی برقرار رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں:کویتی وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار سے ہنگامی رابطہ، قیام امن کے لیے اسلام آباد ایم او یو پر مکمل عملدرآمد کی اپیل

مالی امور سے متعلق معاہدے میں باہمی مساوات کے اصول کو اپنایا گیا ہے، جس کے تحت سرکاری دوروں کے دوران میزبان ملک مہمان وفود کے اندرونِ ملک سفری اخراجات، رہائش اور ہنگامی طبی سہولیات فراہم کرے گا۔

معاہدے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس کی کسی شق سے دونوں ممالک کے دیگر بین الاقوامی معاہدوں کے تحت حاصل حقوق اور ذمہ داریوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، جبکہ معاہدے کی تشریح یا عمل درآمد سے متعلق کسی بھی اختلاف کو باہمی مشاورت سے حل کیا جائے گا اور اسے کسی ملکی یا بین الاقوامی عدالت یا تیسرے فریق کے پاس نہیں لے جایا جائے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور کویت کے درمیان یہ دفاعی تعاون کا معاہدہ 11 جون 2023 کو کویت میں طے پایا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp