بڑے بڑے دعوے، مگر کراچی آج بھی اپنے بچوں کو نہیں بچا سکا، کھلے مین ہول نے ایک اور معصوم کی جان لے لی

اتوار 26 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی میں ترقی کے دعوؤں، اربوں روپے کے منصوبوں اور شہر کو جدید بنانے کے اعلانات کے باوجود شہری آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

جمعہ کو مواچھ گوٹھ میں کھلے مین ہول میں گر کرایک اور معصوم جان، 7 سالہ جہانگیر جاں بحق ہو گیا، جس کے بعد ایک بار پھر شہر میں ناقص سیوریج نظام اور انتظامی غفلت پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی میں ایک اور بچہ کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق

ریسکیو ذرائع کے مطابق جہانگیر کھیلتے ہوئے اچانک کھلے مین ہول میں جا گرا۔ اہلِ محلہ نے اپنی مدد آپ کے تحت بچے کو بچانے کی بھرپور کوشش کی، جبکہ امدادی ادارے بھی موقع پر پہنچ گئے، تاہم کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد معصوم بچے کی لاش ہی نکالی جا سکی۔

واقعے کے بعد مشتعل شہری سڑکوں پر نکل آئے اور حب ریور روڈ اور نادرن بائی پاس کو دونوں اطراف سے بند کر دیا، جس کے باعث کئی گھنٹوں تک ٹریفک معطل رہی اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کر کے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، جبکہ شہر بھر میں کھلے مین ہولز کی فوری نشاندہی کر کے انہیں محفوظ بنایا جائے۔

یہ واقعہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ کراچی کے بوسیدہ انفراسٹرکچر اور مسلسل انتظامی غفلت کی ایک اور دردناک مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں کھلے مین ہول، ٹوٹی سڑکیں اور ناقص سیوریج نظام شہریوں، خصوصاً بچوں، کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

کراچی میں یہ صرف ایک واقعہ نہیں، روز کا المیہ ہے

وی نیوز نے واقعے کے بعد شہریوں سے گفتگو کی تو ان کے چہروں پر غصہ، مایوسی اور بے بسی نمایاں تھی۔

کراچی کے رہائشی خالد حسین، جو گزشتہ 40 برس سے شہر میں مقیم ہیں، کہتے ہیں کہ یہ صرف مواچھ گوٹھ کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے کراچی کی کہانی ہے۔

مزید پڑھیں:کمسن بچہ کھلے مین ہول میں گرنے کے بعد لاپتہ، ’ایف آئی آر میئر کراچی پر کاٹی جائے‘

ان کے بقول ‘بدقسمتی سے حکومت ان مسائل کو سنجیدگی سے نہیں دیکھتی۔ چند روز قبل بھی ایک بچہ کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہو گیا تھا، لیکن ایسے واقعات پہلے بھی پیش آتے رہے ہیں۔

شہر میں نہ سیوریج کا مناسب نظام ہے اور نہ ہی صفائی کا مؤثر انتظام۔ ادارے اور مشینری موجود ہیں، مگر عملی طور پر کام ہوتا نظر نہیں آتا۔’

خالد حسین کا کہنا تھا کہ کراچی کے مختلف علاقوں میں کھلے مین ہول اور ٹوٹا پھوٹا انفراسٹرکچر شہریوں، خصوصاً بچوں، کے لیے مستقل خطرہ بن چکا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ذمہ دار ادارے صرف حادثات کے بعد بیانات جاری کرنے کے بجائے عملی اقدامات کریں۔ ان کے مطابق، ‘گلیوں میں کھیلتے بچوں کو ہر وقت گھروں کے اندر تو نہیں رکھا جا سکتا، اس لیے ضروری ہے کہ تمام کھلے مین ہول فوری طور پر بند کیے جائیں تاکہ آئندہ کوئی اور معصوم جان ضائع نہ ہو۔’

یہ بھی پڑھیں:کھلے مین ہول میں ہلاکت، 10 ماہ بعد انتظامیہ کیخلاف مقدمہ درج

کراچی میں کھلے مین ہولز کے باعث پیش آنے والا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بنیادی مسائل پر سنجیدگی سے کام نہ کیا گیا تو ایسے سانحات کا سلسلہ جاری رہے گا۔

ہر حادثے کے بعد افسوس، نوٹس اور تحقیقات کی خبریں سامنے آتی ہیں، مگر چند روز بعد سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ اس دوران کسی اور گلی، کسی اور محلے میں، کوئی اور بچہ اسی غفلت کی قیمت اپنی جان سے ادا کر دیتا ہے۔

کراچی کے شہری آج بھی یہی سوال پوچھ رہے ہیں کہ آخر کب تک معصوم بچے کھلے مین ہولز، ٹوٹے ڈھکنوں اور ناقص سیوریج نظام کا شکار بنتے رہیں گے؟ اور کب وہ دن آئے گا جب اس شہر میں کھیلنے نکلنے والا ہر بچہ شام کو بحفاظت اپنے گھر واپس لوٹے گا؟

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیپٹن محمد سرور شہید کا 78واں یوم شہادت، یہ قربانی آج بھی قوم کے لیے مشعل راہ ہے، افواج پاکستان

رجب بٹ پھر خبروں کی زینت، مقدمہ بھی درج اور دولت کا انکشاف بھی

پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے اہم معمار ڈاکٹر پرویز بٹ انتقال کر گئے

پہلا ٹیسٹ: پہلی انگز میں ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم 311 رنز پر آؤٹ، محمد علی کے 4 شکار

صدر ٹرمپ نے سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے ایران کے خلاف حملے روک دیے ہیں، مائیک والٹز کی تصدیق

ویڈیو

پہلا ٹیسٹ: پہلی انگز میں ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم 311 رنز پر آؤٹ، محمد علی کے 4 شکار

اوورسیز پاکستانی ملکی معیشت کو مستحکم بنانے میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں، چوہدری پرویز اقبال لوسر

بھارتی پروپیگنڈا نیٹ ورک بے نقاب، کالعدم ایکشن کمیٹی کا گٹھ جوڑ ثابت ہوگیا، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

کالم / تجزیہ

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں