بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کی برطرفی کو ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس کے تعلیمی ایجنڈے کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق مودی حکومت تعلیم سمیت عوامی زندگی کے مختلف شعبوں کو ہندوتوا نظریے کے مطابق ڈھالنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہی ہے، تاہم وزیرِ تعلیم کی برطرفی سے اس منصوبے کواہم نقصان پہنچا ہے۔
مزید پڑھیں:کیا پاکستان اصل اے آئی جدت میں آگے نکل گیا؟ بھارتی سمٹ جھوٹے دعووں کی نذر کیوں ہوئی؟
بھارتی جریدے ’دی وائر‘ کے مطابق دھرمیندر پردھان مودی حکومت میں آر ایس ایس کے وسیع تر ہندوتوا تعلیمی منصوبے کے اہم کردار سمجھے جاتے تھے۔
جریدے کا کہنا ہے کہ ان کی برطرفی نہ صرف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) بلکہ آر ایس ایس کے طویل المدتی نظریاتی منصوبے کے لیے بھی ایک بڑی ناکامی ہے۔
بھارتی وزیرِ تعلیم کی برطرفی ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس کے تعلیمی ایجنڈے کے لیے بڑا دھچکا قرار۔ مودی حکومت تعلیم سمیت عوامی زندگی کے مختلف شعبوں کو ہندوتوا نظریے کے مطابق ڈھالنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہی، تاہم وزیرِ تعلیم کی برطرفی سے اس منصوبے کو نقصان پہنچا ہے۔@KulAalam pic.twitter.com/DhQ3zP9jUj
— Media Talk (@mediatalk922) July 27, 2026
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آر ایس ایس سے وابستہ دھرمیندر پردھان کو سنگھ پریوار کے تعلیمی ایجنڈے پر عمل درآمد کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، جبکہ مودی دورِ حکومت میں تعلیم کو ترقی کے بجائے ہندوتوا نظریے سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔
ادھر بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی بھی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کا اتحاد ملک کے نظامِ تعلیم اور خودمختار اداروں کو کمزور کرنے کی سازش کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
بھارتی ماہرِ تعلیم مردولا مکھرجی کے مطابق ہندوتوا حکومت نے تعلیمی اداروں میں اپنے حامی افراد تعینات کرکے اپنے نظریاتی اثر و رسوخ کو مضبوط بنانے کی کوشش کی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیرِ تعلیم کی برطرفی نے نہ صرف نظامِ تعلیم سے متعلق سوالات کو جنم دیا ہے بلکہ مودی حکومت کے تعلیمی اور نظریاتی ایجنڈے پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔














