آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات مجموعی طور پر منظم، پُرامن، آزاد اور شفاف ماحول میں منعقد ہوئے، جسے جمہوری اداروں اور انتخابی نظام پر عوام کے اعتماد کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔ انتخابی نتائج نے واضح کر دیا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے سیاسی اختلافات کے حل کے لیے آئینی اور جمہوری راستے کو ترجیح دی جبکہ احتجاج، محاذ آرائی اور انتخابی عمل کو متاثر کرنے کی کوششوں کو مسترد کر دیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق عوام کی بڑی تعداد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر کے یہ پیغام دیا کہ بیلٹ ہی عوامی فیصلے کا اصل ذریعہ ہے اور کسی بھی قسم کے دباؤ، دھمکیوں یا بائیکاٹ کی اپیلوں کے باوجود ووٹر اپنے مستقبل کا فیصلہ ووٹ کے ذریعے کرنا چاہتا ہے۔
انتخابات سے قبل جموں و کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے بائیکاٹ کی اپیلیں، احتجاجی سرگرمیوں اور لانگ مارچ کی کال کے باوجود عوام کی شرکت نے اس تاثر کو تقویت دی کہ انتخابی عمل میں عوام کا اعتماد برقرار ہے۔
انتخابی نتائج نے اس دعوے کو بھی مسترد کر دیا کہ پورے خطے کی نمائندہ عوامی قوت ہے۔ عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے واضح کر دیا کہ سیاسی مقبولیت کا فیصلہ سڑکوں پر احتجاج، دباؤ یا شور کے ذریعے نہیں بلکہ انتخابی عمل کے ذریعے ہوتا ہے۔
ایکشن کمیٹی کی سیاست پر سوالات
سیاسی حلقوں کے مطابق ایکشن کمیٹی نے خود کو عوامی حقوق کی تحریک کے طور پر پیش کیا، تاہم اس کی بعض سرگرمیوں کو جمہوری عمل، انتخابی تسلسل اور آئینی اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کے تناظر میں دیکھا گیا۔
یہ امر بھی زیرِ بحث رہا کہ ایکشن کمیٹی کی جانب سے لانگ مارچ کی کال ایسے وقت میں دی گئی جب انتخابات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے تھے، جس سے یہ خدشات پیدا ہوئے کہ اس اقدام کا مقصد انتخابی ماحول کو متاثر کرنا یا جمہوری عمل میں خلل ڈالنا ہو سکتا ہے۔
عوامی ردعمل سے یہ تاثر سامنے آیا کہ آزاد کشمیر کے شہری احتجاجی انتشار کے بجائے آئینی، قانونی اور جمہوری طریقۂ کار کے ذریعے اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔
ریاستی اداروں پر حملے اور قانون کی عملداری
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے کا حق برقرار رہتا ہے، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے، ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا یا تشدد کا راستہ اختیار کرنا کسی بھی جمہوری جدوجہد کی نمائندگی نہیں کرتا۔
ایسے واقعات کی تحقیقات قانون اور عدالتوں کے ذریعے ہونی چاہئیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جا سکے۔
شدت پسند عناصر سے مبینہ روابط کے الزامات
حالیہ احتجاجی سرگرمیوں کے دوران کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مبینہ تعلق رکھنے والے بعض مسلح عناصر کی موجودگی اور روابط سے متعلق اطلاعات نے بھی مختلف سوالات کو جنم دیا ہے۔
بعض ذرائع کی جانب سے سیف اللہ کشمیری کو کالعدم ٹی ٹی پی کمانڈر ڈاکٹر رؤف کشمیری کا بیٹا قرار دیا گیا ہے، جبکہ ان کی ایکشن کمیٹی رہنما عمر نذیر کے ساتھ سامنے آنے والی ایک ویڈیو کو بعض حلقے شدت پسند عناصر اور ایکشن کمیٹی کے بعض افراد کے درمیان ممکنہ روابط کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
تاہم ایسے تمام الزامات کی حتمی حیثیت کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہے۔
حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ شدت پسند عناصر کی مبینہ دراندازی اور ایسے روابط امن عامہ، قومی سلامتی اور قانون کی حکمرانی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، اسی لیے ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ امن و امان کے تحفظ کے لیے ضروری اقدام تھا۔
جمہوری راستہ ہی عوامی مسائل کے حل کا ذریعہ قرار
سیاسی مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر کے انتخابات نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ عوامی حمایت کا اصل پیمانہ انتخابی عمل ہے۔ عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے پیغام دیا ہے کہ سیاسی اختلافات کا حل آئین، قانون اور جمہوری اداروں کے ذریعے ہی ممکن ہے، جبکہ تشدد، دباؤ اور انتشار کی سیاست عوامی اعتماد حاصل نہیں کر سکتی۔
ان کے مطابق عوامی حقوق کے نام پر کسی بھی احتجاجی پلیٹ فارم کو اگر شدت پسند یا ریاست مخالف عناصر استعمال کرنے کی کوشش کریں تو یہ نہ صرف امن و امان بلکہ جمہوری نظام کے لیے بھی خطرہ بن جاتا ہے۔














