وفاقی وزیر برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی پیٹرول ریلیف کی خصوصی اسکیم کے تحت 2 ویلر، 3 ویلر اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو ٹارگٹڈ سبسڈی دی جائے گی، جبکہ اسلام آباد میں آج رات 12 بجے سے اسکیم کا آغاز ہوگا۔
وفاقی وزرا عطا اللہ تارڑ اور علی پرویز ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ 2 ویلر کے لیے 20 لیٹر جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑی کے لیے 30 لیٹر پیٹرول پر ریلیف دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ 15 سال پرانی موٹرسائیکلیں اور 20 سال پرانی گاڑیاں بھی اس پروگرام کے لیے اہل ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرِاعظم شہباز شریف کا بڑا فیصلہ، موٹرسائیکل، رکشہ اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر خصوصی ریلیف کا اعلان
انہوں نے کہا کہ حکومت نے اسکیم میں توازن رکھا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری اس سے فائدہ اٹھا سکیں، 800 سی سی تک کی گاڑیاں ملک کی 50 فیصد گاڑیوں کو کور کرتی ہیں اور 2 کروڑ 40 لاکھ سے زائد گاڑیاں اس اسکیم سے مستفید ہوں گی۔
شزا فاطمہ خواجہ کے مطابق پیٹرول ریلیف پروگرام 2 حصوں میں تقسیم ہے، پہلے مرحلے میں شہریوں کو رجسٹریشن کرانا ہوگی، رجسٹریشن کے لیے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ سم اور شناختی کارڈ کا میچ ہونا ضروری ہے۔
’شہری کو اسی سم سے اپنا سی این آئی سی نمبر بھیجنا ہوگا، اس کے بعد بائیک یا گاڑی کا رجسٹریشن نمبر، رجسٹریشن کا صوبہ اور دیگر مطلوبہ تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔‘
#Live: Federal Ministers @TararAttaullah , @AliPervaiz450 and @ShazaFK are talking to media in Islamabad https://t.co/OXZR5CS6l0
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) September 14, 2026
انہوں نے بتایا کہ گاڑی یا بائیک کی رجسٹریشن کی تاریخ بھی ضروری ہے اور متعلقہ کاغذات شہری کے پاس موجود ہونا لازمی ہیں۔
’معلومات میں کمی کی صورت میں شہری کو پیغام کے ذریعے بتایا جائے گا کہ کون سی معلومات نامکمل ہیں، یہ رجسٹریشن کا عمل صرف ایک مرتبہ کرنا ہوگا۔‘
وفاقی وزیر نے بتایا کہ فیول ریلیف کا پلیٹ فارم امریکا ایران جنگ کے دوران بنایا گیا اور اس میں مختلف قسم کے چیکس لگائے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف کیسے حاصل کریں؟ حکومت نے طریقہ کار جاری کردیا
’جس نمبر سے پیغام بھیجا جائے گا وہ صارف کے اپنے نام پر ہونا چاہیے جبکہ گاڑی یا بائیک کی رجسٹریشن کا صوبہ اور رجسٹریشن نمبر بھی ضروری ہوگا۔‘
شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ گاڑی کے لیے 10 لیٹر اور بائیک کے لیے 5 لیٹر کا ٹوکن ہوگا اور شہری پیٹرول پمپ پر ٹوکن دکھا کر پیٹرول حاصل کرسکیں گے، جبکہ رجسٹریشن کے بعد پیٹرول لینے کے وقت 9771 پر TOK لکھ کر پیغام بھیجنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اس پورے معاملے کی تفصیل ایک سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہوگی جبکہ پیٹرول پمپ مالکان کے لیے الگ ہیلپ لائن بھی بنائی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم کے پیٹرول میں ریلیف کے اعلان کے باوجود کیا جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان مذاکرات ہوں گے؟
’اسکیم پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے مجسٹریٹس کو پیٹرول پمپس پر نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور اس نظام کے لیے کنٹرول روم بھی قائم کیا گیا ہے۔‘
شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ وزیراعظم روزانہ اس حوالے سے اجلاس کی صدارت کررہے ہیں، وزارت خزانہ، وزارت پٹرولیم، وزارت آئی ٹی اور تمام متعلقہ ادارے مل کر کام کررہے ہیں اور حکومت اسکیم کے اجرا کو کامیاب بنائے گی۔
انہوں نے شہریوں کو فراڈ سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کسی رجسٹریشن کے پیسے نہیں مانگ رہی اور نہ ہی کسی شہری سے شناختی کارڈ یا اضافی ڈیٹا مانگا جارہا ہے۔
مزید پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات سستی ہونے پر وفاقی حکومت نے سبسڈی واپس لے لی
’حکومت پاکستان کبھی بھی پیغام کرکے ٹوکن نمبر یا رجسٹریشن کے پیسے نہیں مانگے گی، اس لیے شہری اپنا شناختی کارڈ نمبر یا کسی بھی قسم کا ڈیٹا کسی سے شیئر نہ کریں۔‘
انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس پیسے نہیں لیکن ادھر ادھر سے کھینچ کر عوام کو ریلیف دے رہی ہے، پیٹرولیم لیوی آئی ایم ایف کا ایشو ہے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم نے مستحق افراد کے لیے خصوصی ریلیف اسکیم کا اجرا کیا ہے۔
مزید پڑھیں: پیٹرول 358 روپے سے تجاوز، کفایت شعاری مہم کہاں گئی؟ ملازمین کا ہفتے میں 2 روز ’ورک فرام ہوم‘ کا مطالبہ
’یہ ریلیف ان لوگوں کے لیے ہے جن پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سب سے زیادہ بوجھ ہے۔‘
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم کی خصوصی ہدایت ہے کہ پیٹرول ریلیف کی سہولت فراہم کیے جانے کے بعد کرایوں میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے۔
’حکومت اس امر کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ عوام کو دی جانے والی ریلیف کا براہ راست فائدہ شہریوں تک پہنچے اور ان پر اضافی مالی بوجھ نہ پڑے۔‘
وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کفایت شعاری کے لیے بہت سے اقدامات کیے جارہے ہیں، کچھ کفایت شعاری اقدامات کو جاری رکھا گیا ہے جبکہ بعض دیگر اقدامات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
مزید پڑھیں: عالمی مارکیٹ کے مطابق پیٹرولیم قیمتیں روز تبدیل کرنا پڑتی ہیں، علی پرویز ملک
انہوں نے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، کیا اچھا ہوتا کہ وہ ماڈل گورننس کی مثالیں سامنے لے کر آتے۔
’پی ٹی آئی اپنے کسی ایک ماڈل پراجیکٹ کی نشاندہی کردے جسے وہ ساڑھے 12 سال کے دوران صوبے میں عوامی فلاح و بہبود کے لیے کامیاب مثال کے طور پر پیش کرسکے۔‘
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا میں ساڑھے 12 سالوں کے دوران صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کیا اقدامات کیے، اس کا جواب انہیں دینا چاہیے۔
ان کے بقول پی ٹی آئی کی جانب سے دھرنوں کی کال بدقسمتی سے کھوکھلی کال ہے۔ ’کھوکھلے نعروں کی کوئی حیثیت نہیں، انہیں نعروں کے بجائے کارکردگی اور ماڈل گورننس کی مثالیں سامنے لانی چاہییں۔‘














